- فضائل نمبر۱: حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا ذی الحج کی دسیوں تاریخ یعنی عید الاضحی کے دن اولاد آدمؑ کا کوئی عمل اللہ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں۔ اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ اے خدا کے بندوں دل کی پوری خوشی سے قربانی کیا کرو۔
فضائل نمبر۲:۔حضرت ابو سوید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا اے فاطمہؓ تو اپنی قربانی کے پاس کھڑی ہوجا اور حاضرررہ کیونکہ پہلا قطرہ جو اس خون کا گرے گا اس کے عوض تجھکو یہ صلہ ہے کہ تیرے اگلے تمام گناہ بخش دیئے جائییں گے۔ حضرت فاطمہؓ نے دریافت فرمایا اے اللہ کے رسولؐ یہ ثواب خاص اہل بیت کے لیے یا ہمارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے۔ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا نہیں بلکہ ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لیے (بھی یہ ثواب ہے)۔
فضائل نمبر۳:۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ مدینہ طیبہ میں دس سال قیاام فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر یعنی ہر سال قربانی کیا کرتے تھے۔
فضائل نمبر۴:۔حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ کسی آدمی کا عمل قربانی کے دنوں میں قربانی سے افضل نہیں ہے الا یہ کہ ٹوٹے ہوئے رشتہ کو جوڑا جائے۔
روپیہ اور سکہ رائج الوقت کا نصاب
مسئلہ:۔ روپیہ اور سکہ رائج الوقت کا خاص مقدار نصاب قرباانی کا متعین کرنا مشکل ہے اس لیے کہ اس کے نصاب کا مدار ساڑھے باون تولہ(612گرام،360ملی گرام)چاندی کی قیمت پر منحصر ہے اور چاندی کی قیمت زمانے اوروقت کے لحاظ سے گھٹتی بڑھتی رہتی ہے لہٰذا ہر زمانے میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت لگاکر روپیہ اور سکہ رائج الوقت کا نصاب متعین کیا جائے گا اور جس شخص کے پاس اتنی رقم ہو کہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت بن سکے اس پر قربانی واجب ہے۔
مسئلہ:۔ جو مسلمان مرد عورت عاقل بالغ، آزاد، مقیم ہو اور ایام قربانی میں ساڑھے باون تولہ یعنی(612گرام360ملی گرام)چاندی یا ساڑھے سات تولہ یعنی(87گرام480ملی گرام)سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر روپیہ مکان دوکان زمین یا گھریلو سامان وغیرہ کا مالک ہو اورحاجت اصلیہ اور قرض سے زائد ہو خواہ تجارت کا مال ہو یا نہ ہو، پورا سال گزرا ہو نہ گزرا ہو، بہر صورت ایسے شخص پر اپنی طرف سے ایک چھوٹا جانور مثلاً خصی یا بڑا جانور مثلاًگائے کا ساتواں حصہ قربانی کرنا ایام قربانی میں واجب ہے۔
جن پر قربانی واجب ہے ان کو چاہئے کہ ذرا مسائل کا علم ضرور رکھیں۔
قربانی پر اعتراض
سوال:۔قربانی کے دنوں بے شمار جانور کی قربانی ہوتی ہے اور مسلم معاشرے یں گوشت اتنی کثیر مقدار میں ہوتا ہے کہ اس کا کھپت ہونا مشکل ہوتا ہے کیوں نہ قربانی کرنے کے بجائے اس پیسے کو صدقہ کردے تا کہ غریبوں کے لیے کام آجائے؟
جواب:۔ قربانی کی روح جان دینا اور صدقہ کی روح ما ل دینا ہے۔ قربانی کا اصل مقصد جان کو راہ خدا میں قربان کرنا ہے اسے انسان میں جاں نثاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے پھر صدقہ کبھی بھی دیا جا سکتا ہے اور قربانی کے لیے خاص دن مقرر ہے یعنی۰۱،۱۱اور۲۱ذی الحج تک وقت مقرر ہے اس لیے صدقہ اور قربانی الگ
الگ عمل ہے۔
اب اگر کوئی شخص قربانی نہ کرے اور صدقہ دے دے تو صدقہ کا ثواب تو مل جائے گا مگر قیامت کے دن قربانی کا مطالبہ باقی رہے گا کیونکہ صدقہ نفل
اور قربانی واجب ہے۔
اللہ تعالیٰ تما م مسلمانوں کو صحیح سمج کے ساتھ
عمل کی توفیق عطا ء فرمائے، آمین
Post Views: 214










