Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*پرولیا اسلامیہ مدرسہ کے ٹیچر محمد جمیل اختر کا الوداعیہ سماج میں ایسے ایماندار ٹیچر کی اہم ضرورت ہے ۔ڈاکٹر صابرہ حنا*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

پرولیا ٣١اکتوبر استاد سماج کا اہم ستون ہوتا ہے وہ ایک نسل کی آبیاری کرتا ہے ایک محنتی اور ایماندار ٹیچر جب سبکدوش ہوتا ہے تو اسکول کے در و دیوار روتے ہیں ایسے ٹیچر میں اسلامیہ ہائی مدرسہ پرولیا کے محمد جمیل اختر صاحب ہیں جو اپنی ستائش سالہ خدمات کے بعد گزشتہ ٣١ اکتوبر کو سبکدوش ہوۓ۔ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے موجودہ ہیڈماسٹر جناب محمد اکرم الدین نے ایک عظیم الشان محفل دیوالی کی چھٹی کی وجہ سے ایک دن قبل یعنی ٣٠ اکتوبر کو مدرسہ کے ایک بڑے ہال میں سجائی ۔مجلس انتظامیہ کے صدر محمد بابر علی نے صدارت کی کرسی سنبھالی اور نقابت مولانا محمّد سعید نے کی ۔پروگرام کی شروعات تلاوت کلام ہوا۔بردوان آنگلش میڈیم ماڈل مدرسہ کے ہیڈ ماسڑ جناب محمد نصیر الدّین نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مدرسہ کبھی بھی تعصب پسند نہیں رہا ۔آڈیٹر جناب عبد الرقیب بتایا کہ جمیل ماسڑ سے اندر انتظامیہ صلاحیت عمدہ ہے۔جمیل اختر کے بچپن کے ساتھی مشہور ڈراما نگار نے جناب قمر جاوید نے انکے بچپن کے واقعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کر کے محفل کو قہقہہ زار بنایا۔

رانی گنج ٹی ڈی بی کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر مشہور ادیبہ ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا نے خوبصورت اور شیرنی گفتگو کرتے ہوۓ جمیل اختر کی بے غرض کاوشوں کو سراہا انہوں نے ایسے ایماندار ٹیچرکو آج کی گرتی ہوئ اردو اسکولوں اورمدرسوں معیار تعلیم کے لیے وقت کی ضرورت کہا ۔چوبیس پرگنہ آنگلش میڈیم ماڈل مدرسہ کے ہیڈ ماسڑ جناب عبدالخالق اور مدرسہ کے سابق سیکریٹری جناب غیات الدین نے صاف لفظوں میں کہا کہ اگر جمیل صاحب نہ ہوتے تو یہ مدرسہ ترقی نہیں کرپاتا۔انڈال اقبال اکیڈمی کے سابق ٹیچر انچارج ابو طالب نے اپنے دیرینہ تعلقات سے ناظرین کو روشناس کرایا ۔ درمیان میں جمیل ماسڑ کے چاہنے والے طلبہ و طالبات ،رفیق کار اور دوست احباب نے تحفہ و تحائف سے انہیں ڈھک دیا اس کے بعد جمیل صاحب نے اپنی مؤثر تقریر میں کہا کسی طرح انہوں نے نامساعد حالات میں مدرسہ کی ہر ممکن ترویج و ترقی میں اپنا سب کچھ لگا دیا انہوں نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جو ان کے ساتھ دامے،درمے،سخنے شامل رہے۔مدرس اعلیٰ جناب اکرام الدین نے اپنی مختصر سی تقریر میں جمیل صاحب کی ایمانداری ،خلوص،دفتری کام میں رہنمائی وتعاون اور حد درجہ مدرسے سے محبت کے بارے میں بتایا ۔آخیر میں مدرسہ کمیٹی کے سیکرٹری مظہر تنظیم اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمیل ریٹائرڈ تو ہو گۓ ہیں لیکن ہمارے دلوں سے دور نہیں ہوۓ۔مدرسہ ہذا کے طالب علموں میں مریم قریشی اور شیخ اشفاق استادوں میں شکیل قریشی، سیما تبسم، عفت خانم مدرسہ کے خورشید انور اور کھردہ مکتب ہائی سکول کے محمد مقیم کے علاوہ محمد علی ہائی مدرسہ کے استاد محمد جاوید نے مختصر تاثرات پیش کیں۔بابر علی نے اظہار تشکر کے ساتھ محفل کے اختتام کا اعلان کیا۔اس تقریب میں رانی گنج سے ماسٹر افتخار احمد ،ماسٹر فیروز خان، اڈویکٹ محمد کلیم خان،مزاح نگار سیف الاسلام ،انڈال کے ماسڑ محمد اختر،سلطان چودھری ،محمد طالب کے علاوہ مقامی لوگ کی اچھی خاصی بھیڑ موجود تھی۔ تقریب کے اختتام پر شاندار ظہرانہ انتظام تھا ۔