*“ادبی کینوس” کے زیر اہتمام عظیم الشان طرحی مشاعرہ*
بارہ بنکی (ابوشحمہ انصاری):
اردو زبان و ادب کی نشر و اشاعت اور ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ادبی تنظیم ادبی کینوس کے زیر اہتمام مدرسہ اسلامیہ نئی بستی پیر بٹاون کے احاطے میں ایک عظیم الشان طرحی مشاعرہ تنظیم کے صدر ضیاء الدین احمد کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اس مشاعرے میں بطور مہمانان خصوصی نصیر انصاری، ہاشم علی ہاشم، اصغر عثمانی (محمد میاں) شریک ہوئے جبکہ مہمان اعزازی کی حیثیت سے ضمیر فیضی اور مہمان ذی وقار کے طور پر راہی صدیقی موجود رہے۔ تنظیم کے سکریٹری آدرش بارہ بنکوی نے اپنے منفرد اور دلکش انداز میں نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیے۔
مشاعرے کا آغاز افضال الرحمٰن کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد دیے گئے مصرع
’’پھر پھر کسی نے مجھے صدا دی ہے‘‘
پر باقاعدہ مشاعرے کا آغاز کیا گیا۔ مشاعرہ انتہائی کامیاب رہا۔ شعراء نے عمدہ کلام پیش کیا اور سامعین نے بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔ منتخب اشعار پیش خدمت ہیں:
میں وہ میکش ہوں ساقیا جس نے
زینت میکدہ بڑھا دی ہے
نصیر انصاری
کیا بگاڑے گی میرا گردش وقت
ماں نے جب حفظ کی دعا دی ہے
ہاشم علی ہاشم
جب کہ میں دو گھڑی کا مہماں ہوں
تم نے دامن کی اب ہوا دی ہے
راہی صدیقی
کیا کہا عشق کر لیا یعنی
زندگی داؤ پر لگا دی ہے
ضمیر فیضی
جس کو میں نے سنائی تھی لوری
نیند اس نے مری اڑا دی ہے
ذکی طارق بارہ بنکوی
اصل ہے حسن وہ جسے رب نے
حسن کے ساتھ میں حیا دی ہے
ڈاکٹر ریحان علوی
ایکتا پریم اور محبت کی
اس نے بنیاد تک ہلا دی ہے
ڈاکٹر فدا حسین
آتش مفلسی کی لپٹوں نے
خواہشوں کی چتا جلا دی ہے
آدرش بارہ بنکوی
زخم کھائیں اور آہ بھی نہ بھریں
کیا عجب شرط یہ لگا دی ہے
کیفی ردولوی
بات ان تک ضرور پہنچے گی
بات کم ظرف کو بتا دی ہے
ماسٹر عرفان بارہ بنکوی
رنج و غم درد نامرادی ہے
دل تو ان حادثوں کا عادی ہے
وقار بارہ بنکوی
کتنا آساں تھا عقد ماضی میں
آج دشوار رسم شادی ہے
انجم احمد پوری
پھر کسی نے مجھے صدا دی ہے
یعنی بیمار کو دوا دی ہے
کرن بھاردواج
اس کے ہاتھوں کو چوم لوں جا کر
مجھ کو جس جس نے بد دعا دی ہے
طفیل زید پوری
ایک ظالم نے گلشن ہستی
ایک مظلوم کی جلا دی ہے
نفیس بارہ بنکوی
اپنے دل میں مجھے جگہ دے کر
اس نے قیمت مری بڑھا دی ہے
نفیس احمد پوری
ایسا لگتا ہے کوہ فاراں سے
پھر کسی نے مجھے صدا دی ہے
اسلم سیدنپوری
آئینہ رکھ کے سامنے اس کے
اس کی صورت اسے دکھا دی ہے
نور عین چمن ولی
ٹھیک ہونے لگا مریض عشق
کس نے بیمار کو دوا دی ہے
ارشاد بارہ بنکوی
زخم دے کر جو مسکراتے تھے
وقت نے ان کو بھی سزا دی ہے
وفا علی آبادی
جاؤ جا کر مدد کرو اس کی
جس کی بیٹی کی آج شادی ہے
سلیم ہمدم
لے کے پھرتا ہے امن کا پرچم
وہ جو سب سے بڑا فسادی ہے
نازش بارہ بنکوی
مدرسے کی طالبہ ادیبہ خاتون نے علامہ اقبال کی ایک بہترین نظم پیش کر کے سامعین سے خوب داد حاصل کی۔
مشاعرے میں تنظیم کی نائب صدر گلزار فاطمہ، نائب صدر صحافی شمیم انصاری، قاری مقبول احمد، عمران قدوائی، قمر اسلم سمیت دیگر سامعین کرام نے شرکت کی اور شعراء کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ بزم کے ذمہ داران کی موجودگی میں یہ طے پایا کہ آئندہ نشست ہولی اور عید ملن کے عنوان سے منعقد ہوگی۔
تنظیم کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر ریحان علوی نے تمام شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ مشاعرہ غیر طرحی ہوگا جس کی اطلاع چند روز قبل دے دی جائے گی۔






