Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*رمضان المبارک صبر و شکر اور غمگساری کا مہینہ۔*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

*رمضان المبارک صبر و شکر اور غمگساری کا مہینہ۔*


*مفتی محمد سعید اسعد* *القاسمی*
دارالقضاء امارت شرعیہ لوکو مسجد آسنسول
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہو چکا ہے یہ مہینہ بڑا ہی متبرک، مقدس ،اور محترم مہینہ ہے اس مہینے کے پانے کے لیے خود جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ہے اور اس کی تمنا کی ہے،اور امت کو اس کی تلقین فرمائی ہے ساتھ ہی یہ مہینہ قران والا مہینہ بھی کہلاتا ہے اسی ماہ میں قران مقدس کا نزول ہوا اس کی نسبت قران سے جڑ گیا اسی مہینے میں وہ رات بھی ہے جس کو خود باری تعالی نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے جس کی وجہ سے اسے مہینہ  کی تقدس میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے یہی کیا کم تھا کہ اس مہینے کے پانے کی دعا خود آقا و مولا مدینے کے تاجدار امام الانبیاء شفیع المذنبین تاجدار بطحہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی یہی کافی تھا لیکن اس پر مزید کہ نزول قرآن سے اس کا رشتہ جڑ گیا پھر ان تمام پہ نظر کرنے کے بعد بلا تردد یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس مہینے سے افضل بہتر مقدس محترم مہینہ کوئی دوسرا مہینہ نہیں جب اتنا محترم مہینہ ہمیں میسر ہوا ہے تو یقیناً یہ اللہ کا انعام ہے اس موقع پر کیا ہماری زندگی 11 مہینے کی طرح گزرنی چاہیے؟ یا اس میں ہمیں کوئی تبدیلی پیدا کرنی چاہیے اور استغفار کرناچاہئے گیارہ مہینے اور ایک مہینہ کا فرق واضح ہونا چاہیے یعنی اگر گیارہ مہینے ہم گناہوں سے نہیں بچ سکے تو کم از کم اس مہینے میں ایک ایک لمحہ گناہ سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے جیسے جھوٹ ، دھوکہ ، مکر و فریب کسی کے مال پہ نظر کسی کی عفت و عصمت پہ نظر غیبت ،چغل خوری، کسی کا حق مارنا، سود، شراب اور اس جیسے بے شمار صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے ایک مومن کو ہر حال میں بچنا چاہیے اور خود کو گناہوں سے بچنے کا عادی بنانا چاہیے تاکہ یہ عادت زندگی کی ہر گھڑی میں شامل ہو جائے اور ہمیشہ ہم گناہوں سے بچنے والے ہوجائیں اور جب گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں گے تو فطری طور پہ اللہ تعالیٰ ہمیں نیکیوں کی طرف گامزن کرے گا اور احکام خداوندی اور فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری پوری پاسداری اور اتباع ہم کر سکیں گے
رمضان المبارک کا یہ مہینہ  ہمیں بہت ساری انسانی پریشانی اور دکھ درد کااحساس بھی دلاتا ہے مثلا بھوک کی شدت اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ ایک ادمی معاشی پریشانی اور مصیبت کی وجہ سے اس کے یہاں فاقہ کشی ہوتی ہے تو اس پر کیا گزرتی ہے ہم تو جان بوجھ کر بھوکے ہیں تب ہمیں کیسا لگ رہا ہے جب کہ عبادت میں لگے ہیں لیکن وہ آدمی جو مالی پریشانی کی وجہ سے خود بھی بھوکا ہے بال بچے بھی بھوکے ہیں فاقہ کشی ہو رہی ہے اس بیچارے کی زندگی کیسے گزر رہی ہوگی ایک پیاسا آدمی راہگیر مسافر چل رہا ہے پیاس کی شدت ہے اور وہ تڑپ رہا ہے اس کو پانی نہ ملے تو اس شخص کے لیے کتنی بڑی مصیبت ہے چونکہ پانی نہ ملنے سے جان جانے کا احساس ہونے لگے اسی طرح آدمی نہ کھانے پینے کی وجہ سے جس تکلیف کو محسوس کرتا ہے تو وہ اپنے اندر کمزوری محسوس کرتا ہے ہم بھی کہیں نہ کہیں اس کا احساس کرتے ہیں دراصل باری تعالی کو بندے کے اندر یہ احساس بھی پیدا کرانا مقصود ہے کہ دوسروں کی تکلیفوں کا احساس کا بھی مزاج بنے اور پھر اس کے لیے ہم فکر مند اور کوشاں ہوں کہ کیسے اس کی اس پریشانی کو دور کی جا سکے اللہ نے ہمیں اس لائق بنایا ہے ضرور ہم کو اس کا خیال کرنا چاہیے اس طرح کی اور بھی احوال مخلوق خدا کی معلوم  کر کے  اس کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھانے کی فکر اور بے چینی  پیدا ہوجائے
یہی وہ چیز ہے جب بندہ اپنے اندر پائے تو یہ مہینہ صبر سکھلاتا ہے کہ جب روزہ سے اپنے اندر تکلیف محسوس کرے تو اس کا خوب چرچہ نہ کرے وا ویلا نہ مچائے کہ ہم کو روزہ رکھنے سے یہ تکلیف وہ تکلیف یہ پریشانی وہ پریشانی ہو رہی ہے بلکہ اس پہ صبر کرے اور اللہ کی طرف لو لگانے والا بنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ہمیں یہ سبق ملے گا کہ عبادتوں میں ہونے والی مشقتوں سے انہیں تکلیف نہیں ہوتی تھی بلکہ عبادتوں میں لطف ومزاآتا تھا لیکن اگر کوئی مصیبت اور پریشانی ہوتی تو صبر کرتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرتے اور انہی سے مدد کا طلبگار ہوتے ہیں بندہ مومن کی نگاہ اللہ کے انعام کرام کی طرف ہوتا ہے اس لیے عبادتوں میں تکلیف کے باوجود لذت محسوس کرتا ہے اور جب ان تکلیفوں سے گزرتا ہوا انعام کا امیدوار ہوتا ہے اور اس پر اللہ یہ کہہ دے کہ روزے داروں کا بدلہ میں خود ہوں تو پھر اللہ کے اس بے پناہ توجہ محبت اور انعام پر بندہ شکر نہ بجا لائے تو پھر کیا کرے کیونکہ اللہ نے بن مانگے جس متبرک مہینے کو اس کے شب و روز ہماری زندگی میں عطا کیے توپھر شکر  یہ ہے کہ ایک ایک لمحہ اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اور اقا کی سنتوں پر عمل کے لیے قربان کرنا چاہیے اور رب کو منالینا چاہیے۔    ، اس سے جہاں بندہ کو صبر کی تعلیم ملتی ہے وہیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اپنے مصیبت زدہ پریشان حال بھائی بہنوں  کی طرف توجہ کریں اور بھرپور ان کی مدد کریں اپ کے مال میں جو ان کا حصہ اللہ نے متعین کیا ہے اپ اس حقدار تک ضرور ان کا حق پہنچائیں اور ان کی پریشانیوں تکلیفوں کا مداوا کریں غم گساری کریں اور اللہ کی برکتوں اور رحمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے جہنم سے خلاصی کا موقع جو ملا ہے اس کو غنیمت جانتے ہوئے جہنم کی اگ سے خود کو اور اپنے اہل و عیال کو بچانے میں لگ جائیں تب ہی عید کی خوشی ہے عید کا دن مغفرت کا پروانہ اللہ تعالی اس سے بندے کو عطا کرتا ہے جس نے رمضان کے روزوں سے تراویح سے تلاوت سے ذکر و اذکار سے سنت ونفل سے صدقات وزکوٰۃ وخیرات سے اپنی زندگی کو اور رمضان کے ہر لمحے کو سجا اور سنوارکر اللہ کو راضی کر لیا وہی بندہ مومن ہے، وہی روزہ دار ہے اور اسی کے لیے رمضان المقدس صبر و شکر اور غمگساری کا مہینہ ہے۔***