Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*رمضان کے بعد … *

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں، مغفرتوں، جہنم سے خلاصی اور اللہ تعالیٰ کے اعزاز و انعام کے ساتھ مومنین پر جلوہ فگن ہوا اور نہایت تیز رفتاری کے ساتھ ہمارے درمیان سے رخصت بھی ہو گیا۔ بلا شبہ یہ مہینہ مسلمانوں کو ایمانی اور عملی عروج اور بلندی عطا کرتا ہے ۔اس مہینہ میں وہ یقین، ایمان اور صفات پیدا ہو جاتے ہیں جو کسی بھی بندہ کے لئے عظیم سرمایہ ہے اور یہی اسلام میں مطلوب اور مقصود ہے، اور عملی طور پر بھی انسان میں وہ رفتار پیدا ہو جاتی ہے کہ رمضان کے بعد بھی اگر اسی رفتار سے زندگی کا سفر جاری رکھا جائے تو آخرت کی منزل آسان ہو جائے، لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ رمضان المبارک میں ہم جو عمل کرتے ہیں، اس کی رفتار رمضان کے بعد سست پڑ جاتی ہے، حالانکہ جس طرح رمضان کے روزے فرض تھے ہم نے پورے کئے، پانچ وقت کی نمازیں باجماعت پڑھی، قرآن کریم کی تلاوت کی، والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا، برادران وطن کے ساتھ حتی الامکان حسن اخلاق سے پیش آئے، پڑوسی اور اہل محلہ کے ساتھ اچھے برتاؤ کئے، برابر سچ بولا اور جھوٹ سے بچے، گالی گلوچ سے پرہیز کیا، کاروباری لوگ ناپ تول میں کوئی کمی زیادتی نہیں کی وغیرہ یہ ساری باتیں اور عادتیں صرف رمضان کے مہینے کے لئے مخصوص نہیں ہیں بلکہ یہ صفات تو ایک مومن بندہ کے لئے سال کے ہر دن اور پوری زندگی کے معمولات میں شامل ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ ہماری عید کی نماز کے بعد مسجدیں ویران ہوجاتی ہیں، چٹائیاں لپیٹ کر رکھ دی جاتی ہیں، قرآن پاک جزدان میں ڈال کر الماری میں کی زینت بنا دی جاتی ہے، بھائی چارہ، محبت، حسن سلوک، ادب و احترام، رواداری وغیرہ سبھی کچھ ہماری زندگی سے غائب ہو جاتی ہیں؟ حالانکہ رمضان اس لئے دیا گیا تھا تاکہ اس میں مسلمانوں کی ایمانی وعملی لو تیز ہو سکے اور مسلمان رمضان کے بعد چلتا پھرتا ایسا انسان نظر آئے جن کی زندگی قرآنی تعلیمات کے سانچے میں اس طرح ڈھل جائے کہ ان کو دیکھ کر لوگ شریعتِ اسلامی کو سمجھ سکیں ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے روزوں کو فرض کرنے کی حکمت تقویٰ کے ساتھ متصف ہونا بیان کیا ہے یعنی انسان کا دل، دماغ، سوچ سمجھ، نظر، اور اخلاق وکردار سب کچھ اس طرح بدل جائے کہ رمضان کے بعد ایک نئی اور صالح زندگی کا حامل بن جائے اور زندگی میں ایک طرح کا انقلاب برپا ہوجائے، مثلاً اگر وہ رمضان سے قبل سودی کاروبار کرتا تھا تو اب وہ توبہ کرلے اور اس کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ خدا نخواستہ اگر وہ شراب نوشی میں مبتلا تھا تو اب اس سے نفرت پیدا ہو جائے۔ دھوکہ دہی، کذب بیانی، ظلم و زیادتی، حسد، کینہ غیبت اور دوسرے تمام منکرات سے توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے آپ کو پاک و صاف کرلے اور دوبارہ ایسی معصیت کا ارتکاب ہرگز نہ کرے فرائض و نوافل کا ایسا عادی بن جائے کہ ان کے بغیر رات میں نیند نہ آئے اور دن کا چین و سکون چھن جائے !.
اگر یہ کیفیات دل میں پیدا ہو گئیں اور زندگی میں ایسا تغیر رونما ہو گیا تو سمجھنا چاہئے کہ رمضان کا مقصد حاصل ہوا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو پالیا ورنہ بظاہر رمضان کا مہینہ ہم نے پایا اور کچھ اس سے حاصل کئے بغیر وہ ہم سے رخصت ہوگیا جو اہل ایمان کے لئے سب سے بڑی مایوسی کا ذریعہ اور محرومی کا سبب ہے.
مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “رمضان المبارک کا مہینہ گزر گیا، اس کے گزرنے سے بہت سے لوگوں پر ایک مایوسانہ کیفیت طاری ہوئی جیسے کوئی عزیز مہمان رخصت ہو جائے اور بہت دنوں میں اس کے آنے کی امید ہو۔ بہت سے لوگوں پر ایک اطمینانی کیفیت طاری ہوئی جیسے ان کا کام ختم ہو گیا اور اب ان پر کوئی ذمہ دارینہیں۔ یہ دونوں کیفیتیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے منشا اور رمضان المبارک کی روح اور پیام کے منافی ہیں۔ رمضان اگر رخصت ہوا تو ایمان اور اس کے تقاضے، شریعت اور اس کے احکام، اللہ تعالیٰ اور اس سے تعلق بہرحال باقی ہے۔ رمضان درحقیقت ایک دور کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک دور کا آغاز ہے۔ رمضان انتہا نہیں، ابتدا ہے۔ رمضان سب کچھ لے کر اور سب نعمتیں تہ کر کے اور لپیٹ کر نہیں جاتا ہے، وہ بہت کچھ دے کر، جھولیاں بھر کر اور نعمتیں لٹا کر جاتا ہے۔ رمضان کے بعد آدمی گناہوں سے ضرور ہلکا ہوتا ہے لیکن ذمہ داریوں سے بوجھل اور گراں بار ہو جاتا ہے۔ ان سب کے باوجود بہت سے بھائی دل میں کہتے ہوں گے کہ رمضان گیا اب کیا کریں؟ یہاں ان باتوں کا تذکرہ کیا جائے گا جو رمضان کے بعد اور ہمیشہ کرنے کی ہیں۔
(۱) توبہ: سب سے مقدم اور اہم کام جس کے لیے کسی زمانے اور مقام کی قید نہیں مگر رمضان المبارک اس کی تحریک اور تقاضا پیدا کرتا ہے اور اس کو آسان بنا دیتا ہے، ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے ٹوٹا ہوا رشتہ یا چھوٹا ہوا رشتہ جوڑیں۔(۲) ایمان کی تجدید: بہت سے بھائی سمجھتے ہیں کہ ایمان ایک مرتبہ لے آنا کافی ہے۔ اس کے بعد اس کو تازگی، غذا، تجدید، کی ضرورت نہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایمان اسی طرح پرانا ہوتا جاتا ہے جیسے کپڑا میلا اور پرانا ہو جاتا ہے۔ اس کو نیا اور اُجلا کرتے رہو۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ اس کو کس طرح نیا کریں؟ فرمایا: لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کی کثرت کرو۔
بہرحال ہر شخص کو اپنے ایمان کی تکمیل ‘تجدید اور تقویت کی ضرورت ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہیں: (الف) سوچ سمجھ کر شعور و احساس کے ساتھ کلمۂ توحید کی تکرار و کثرت۔ صحابہ کرام سے کہا گیا کہ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کی کثرت کرو۔ ظاہر ہے کہ وہ بے سوچے سمجھے اور معنی و مطلب پر غور کیے بغیر کلمہ کی تکرار اور کثرت نہیں کرتے ہوں گے۔ (ب) ذکر کی کثرت اور ذکر کی قوت، یہ دونوں مستقل چیزیں ہیں۔ عام حالات میں ذکر کی کثرت ذکر میں قوت پیدا کر دیتی ہے۔ خاص حالات میں ذکر کی قوت کثرت کے قائم مقام بن جاتی ہے۔ قوت کے معنی یہ ہیں کہ خاص کیفیاتِ توجہ و استحضار کے ساتھ اللہ کو یاد کیا جائے۔ ان کیفیات و خصوصیات کے ساتھ تھوڑا سا یاد کرنا بھی تھوڑا نہیں ہے اور بڑے اثرات رکھتا ہے۔ لیکن یہ بات بڑی استعداد یا اعلیٰ یقین یا طویل محنت، یا ندامت اور انابت سے پیدا ہوتی ہے۔(ج) اہل یقین کی صحبت، جس کی کیمیا اثری اور پارس صفتی دنیا کو تسلیم ہے اور قرآن مجید کی اس پر مہر لگی ہوئی ہے: وَکُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ (التوبہ ۹:۱۱۹) ’’اور صادقین (راست بازوں) کے ساتھ رہو‘‘. (د) اعمال کی کثرت اور مداومت، اس سے بھی ایمان میں جِلا اور قوت اور زندگی پیدا ہوتی ہے۔ (۳) احکام شریعت کی پابندی: رمضان کے بعد اور ہمیشہ کرنے والے کاموں میں شریعت کی پابندی اور فرائض و احکام کی بجا آوری ہے جس کی خصوصی مشق رمضان میں کرائی جاتی ہے لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب رمضان میں حلال و طیب چیزیں ایک خاص وقت کے اندر ممنوع قرار دی گئیں اور ان پر بندش عائد ہوگئی تووہ چیزیں جو سدا سے حرام اور قیامت تک حرام رہیں گی وہ غیر رمضان میں کیسے جائز ہو سکتی ہیں۔؟
واقعہ یہ ہے کہ مومن کے دو روزے ہیں، ایک عارضی اور ایک دائمی۔ عارضی روزہ رمضان میں ہوتا ہے، صبح صادق کے طلوع سے غروب آفتاب تک۔ اس میں کھانا پینا اور ممنوعات صوم سب ناجائز ہوتے ہیں۔ دائمی روزہ بلوغ سے موت تک ہے۔ اس میں خلاف شریعت کام اور ممنوعات شرعیہ سب ناجائز ہوتے ہیں۔ وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ (الحجر ۱۵:۹۹) ’’اپنے رب کی اور تابعداری کرو جب تک موت نہ آجائے‘‘ کیسی تعجب کی بات ہے کہ عارضی روزے کی پابندی کی جائے اور دائمی روزے کو کھیل بنالیا جائے، جس کا ایک جز اور ایک حصہ یہ عارضی روزہ ہے۔ اگر وہ روزہ نہ ہوتا تو یہ روزہ بھی نہ ہوتا۔ وہ روزہ صبح صادق سے شروع ہوتا ہے، یہ روزہ کلمہ پڑھ لینے اور اسلام کی حالت میں زمانۂ بلوغ کے آجانے سے شروع ہوتا ہے۔ وہ روزہ آفتاب کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، یہ روزہ بھی جب تک زندگی کا آفتاب رہتا ہے، باقی رہتا ہے۔ جہاں زندگی کا آفتاب غروب ہوا اور طائر روح نے اپنے قفس کو چھوڑا وہ روزہ بھی ختم ہوا۔
(۴) قرآن سے تعلق: رمضان مبارک کا بڑا تحفہ اور عطیہ ربانی یہ قرآن مجید ہے: شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ (البقرہ ۲:۱۸۵) ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں‘‘۔ رمضان تو سال بھر کے لیے رخصت ہوا۔ مگر اپنا پیام، اپنا تحفہ اور اپنی سوغات چھوڑتا گیا۔ ضرورت ہے کہ رمضان گزر جانے کے بعد اس تحفے سے اس کی یاد تازہ کی جائے، اس کی برکات حاصل کی جائیں۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ تحفہ قاصد سے بڑھ کر ہے۔ شاہِ وقت اپنے کسی منتخب غلام کو کسی قاصد کے ہاتھ تحفہ بھیجے تو یہ تحفہ اس کی خاص سوغات ہے۔ یہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفات کا مظہر ہے۔ اس وقت پورے عالم انسانی میں اور اس زمین کی سطح کے اوپر اللہ تعالیٰ کی ذات سے قرب رکھنے والا اور اس کی صفات و کمالات کا پرتو قرآن مجید ہی ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو ایک زندہ کتاب کی طرح ہمیشہ پڑھا جائے اور یقین پیدا کیا جائے کہ ہم اللہ کا کلام پڑھ رہے ہیں اور اُس ذاتِ عالی سے مخاطب اور ہم کلام ہیں۔ پڑھتے وقت ہمارا سینہ اس یقین سے معمور، ہمارا دل اس احساس سے مسرور اور ہماری روح اس کیفیت سے مخمور ہو۔ حضرت ابی بن کعبؓ نے حضورؐ سے پوچھا تھا: ھل سمّانی ربّی، کیا میرے مالک نے میرا نام لے کر کہا کہ (ابی بن کعب سے) قرآن مجید پڑھوا کر سنو اور جب اس کا جواب اثبات میں ملا تو فرطِ مسرت سے رو پڑے۔
ہم کو بھی اس پر ناز ہونا چاہیے کہ ہمارا رب ہم سے مخاطب ہے اور ہم میں سے ہر شخص فرداً فرداً اس کا مخاطب اور شرف خطاب و التفات سے مشرف ہے۔”
حضرت بشرحافی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے دریافت کیا کہ حضرت بہت سے مسلمان ایسے دیکھے گئے جو صرف رمضان المبارک میں خوب عبادت اور مجاہدہ کرتے ہیں اور بقیہ سال بھر پھر کچھ نہیں‘ تو آپ نے فرمایا: ایسا اس لیے کہ انہوں نے اللہ کو کماحقہ نہیں پہچانا اور عارضی صرف رمضان المبارک کی حد تک کی عبادت کس کام کی؟ اصل عبادت اور حقیقی صلاح و تقویٰ تو یہ ہے کہ مسلمان سال بھر عبادت وریاضت‘ مجاہدہ و محاسبہ میں لگارہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ جب رمضان المبارک کی آخری رات ہوتی تو آپ فرماتے ہائے کاش! مجھے معلوم ہوجائے کہ کون ہے وہ شخص جس کی رمضان المبارک میں عبادتیں قبول ہو‘ تو میں انہیں مبارک باد دیتا اور اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون ہے جس کی عبادتیں قبول نہ ہوں اور وہ محروم رہا تو ہم اس کی تعزیت کرتے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ اختتام رمضان پر فرماتے: اے وہ شخص جس کی عبادتیں قبول ہوئیں، تجھے مبارک ہو اور وہ شخص جس کی عبادتیں مردہ یعنی قبول نہ ہو، اللہ تیرے نقصان کی تلافی کرے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نےعیدالفطر کے خطبہ میں فرمایا: اے لوگو! تم نے تیس دن روزے رکھے اور تیس راتوں میں اللہ کے حضور تراویح اور نمازیں پڑھیں اور آج تم عیدگاہ کی طرف آئے ہو تاکہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہاری عبادتوں کو قبول کرے۔ ایک بزرگ کو عید کے دن لوگوں نے غم زدہ دیکھا تو لوگوں نے کہا کہ خوشی اور مسرت کے دن آپ غمزدہ کیوں نظر آرہے ہیں؟ تو فرمایا: بات تو صحیح ہے کہ یہ خوشی اور مسرت کا دن ہے مگر مجھے اس بات نے غم میں ڈال رکھا ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں جس نے مجھے روزے اور دیگر عبادات کا حکم دیا مگر مجھے نہیں علم کے میرے یہ اعمال عنداللہ مقبول بھی ہوئے یا نہیں؟
علامہ ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اسلاف واکابر کا طریقہ یہ رہا کہ وہ چھ ماہ دعا کرتے کراتے، ہمارے لیے رمضان المبارک کا ماہ مبارک مقدر فرما اور چھ ماہ دعا کرتے اللہ ہمارے رمضان کے روزے اور تمام عبادتوں کو قبول فرما !
حضرت عبدالعزیز بن روّاد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے بے شمار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو دیکھا کہ جب بھی وہ کوئی نیکی کا کام کرتے پھر اس فکر میں مبتلا ہوجاتے کہ پتہ نہیں ان کا یہ عمل اور یہ نیکی قبول ہوئی یا نہیں اور پھر خوب قبولیت کی دعا کرتے۔
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، مؤمن کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ خوب محنت مجاہدہ سے نیکی کرتا ہے مگر اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اور منافق کی نشانی یہ ہے کہ وہ برائی کرکے بھی مطمئن رہتا ہے اور ڈرتا بھی نہیں ہے.
حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے دریافت کیا‘ رجب افضل یا شعبان؟ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بندہ خدا شعبانی اور رجبی بن کر کیا فائدہ ربانی بن جا۔۔۔ یعنی صرف رجب و شعبان کی فضیلت معلوم کرکے اسی میں عبادت مت کر بلکہ ربانی بن جا۔۔۔ یعنی سرتاپا از شعور تا موت اللہ کا ہو کر اسی کا بن جا۔۔۔ تاکہ کامیاب و بامراد ہوجائے۔
اللہ پاک تمام مسلمانوں کو سال کے پورے دن اور دن کے ہر ہر لمحہ اپنی مرضیات پر چلنےی توفیق عطا فرمائے آمین. ***

محمد ہاشم القاسمی (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)