Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

استقبال رمضان 2026

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ستقبال رمضان 2026*

*محمد ہاشم القاسمی* (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال) فون 9933598528

رمضان، اسلامی قمری کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے، دنیا بھر میں مسلمان رحمت، برکت، مغفرت، اور جہنم سے چھٹکارا والے مہینے رمضان المبارک کا شدت سے انتظار کرتے ہیں۔ اس ماہ مقدس کی آمد میں صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں۔ ماہرین فلکیات نے پہلا روزہ کب ہوگا اور عیدالفطر کب منائی جائے گی، اس حوالے پیشگوئی کی ہے۔ ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی لندن کے شہر مانچسٹر میں قیام پزیر ہیں، رویت ہلال کے سلسلے میں ان کی اکثر پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی ہے ان کے حساب سے ہندوستان۔ پاکستان۔ بنگلہ دیش۔ برما۔ نیپال۔ ایران۔ افغانستان میں پہلا رمضان 19 فروری بروز جمعرات کو ہے۔ اور عید الفطر 21 مارچ بروز سنیچر کو ہوگی۔ ان شاء اللہ۔ انہوں نے پورے وثوق سے کہا ہے کہ “اسی اعتبار سے اپنی چھٹی بک کرائیں”۔ (ثمیر الدین قاسمی)
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امارات فلکیاتی انجمن نے نئے ہجری سال 1477 میں پہلا روزہ جمعرات 19 فروری 2026 کو ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔
اماراتی فلکیاتی انجمن کے صدر ابراہیم جروان کے مطابق رمضان 1447 کا چاند منگل 17 فروری کو شام 4 بج کر ایک منٹ پر (امارات کے وقت کے مطابق) پیدا ہوگا، جو سعودی عرب کے وقت کے مطابق 3 بجکر 1 منٹ بنتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سورج غروب ہونے کے تقریباً ایک منٹ بعد ہی چاند غائب ہو جائے گا، اس طرح غروبِ آفتاب کے وقت اس کی عمر صرف 2 گھنٹے 12 منٹ ہوگی، لہٰذا اس شام ہلال نظر آنے کا امکان بہت کم ہے۔ فلکیاتی ماہر نے اسی بنیاد پر جمعرات 19 فروری کو یکم رمضان المبارک ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اماراتی فلکیاتی انجمن کے صدر ابراہیم جروان نے رواں برس رمضان المبارک میں 29 روزے ہونے اور عیدالفطر جمعہ 20 مارچ کو ہونے کی پیشگوئی بھی کی ہے۔واضح رہے کہ اسلامی مہینوں کا آغاز چاند دیکھ کر کیا جاتا ہے اور اس کا باضابطہ اعلان مرکزی رویت کمیٹی کرتی ہے۔رمضان کا روزہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے، اور یہ اس مہینے کی یاد دلاتا ہے جب قرآن کریم، اسلام کی مقدس کتاب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔ رمضان کے دوران، مسلمان سحری (طلوع فجر سے پہلے کا کھانا) اور افطار (غروب آفتاب پر روزہ کھولنے کا کھانا) کھاتے ہیں۔ یہ مہینہ خود پر قابو، روحانی نشو و نما، اور کم خوش قسمت لوگوں کے ساتھ ہمدردی کو فروغ دیتا ہے۔ علماء کرام اور بزگان دین نے رمضان المبارک کے استقبال اور تیاری کے لیے بہت سی اہم ہدایات اور تجاویز بیان فرمائی ہیں جن کا خلاصہ 30 اہم ہدایات کی شکل میں آپ کی خدمت میں پیش ہے۔1 فراض و واجبات کی ادائیگی اور توبہ واستغفار : آمد رمضان سے قبل فرائض و واجبات کی ادائیگی کا اہتمام کریں، اگر ذمے میں قضا نمازیں یا روزے ہوں تو ادائیگی کی ترتیب بنائیں، سابقہ زندگی کی تمام لغزشوں پر سچی توبہ کریں دل کو گناہوں اور برے خیالات سے پاک کریں، آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں اور دل و دماغ غرض جسم کے کسی بھی حصے سے صادر ہونے والے گناہوں پر پکی توبہ کریں تاکہ آپ گناہوں سے پاک ہوکر رمضان المبارک کا استقبال کریں۔ 2 رمضان المبارک کے مسائل سیکھیں اور سکھائیں: روزہ، تراویح، صدقۃ الفطر، زکوۃ، اعتکاف اور دیگر احکامات ابھی سے سیکھیں اور سکھائیں۔ 3 اپنے نفس کو تقوی کا پابند بنائیں: اپنے نفس کو ابھی سے تقوی کا پابند بنائیں، کیونکہ رمضان المبارک تقوی کی عملی تربیت گاہ اور اللہ رب العزت نے رمضان المبارک میں روزوں کی فرضیت کا اہم مقصد تقوی و پرہیز گاری کا حصول بتایا ہے۔ 4 صلہ رحمی میں جلدی کریں:
قطع رحمی یعنی رشتے ناطے توڑنا بہت بڑا گناہ ہے، قطع رحمی کی وجہ سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں، لہذا رمضان آنے سے قبل اس سنگین گناہ سے توبہ اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے: اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ قطع رحمی یعنی رشتے ناطے توڑنے کا معاملہ کیا جائے تب بھی وہ صلہ رحمی کرے۔(بخاری شریف) 5 دل صاف کریں: ہمارا دل، نفرت، جذبہ، انتقام اور حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے، دل میں نفرت اور کینہ رکھنے والے کی اللہ سبحانہ وتعالیٰ مغفرت نہیں فرماتے، لہذا رمضان آنے سے قبل اپنے دل کو ان فضول مصروفیات سے فارغ کر کے خالص عبادات کی طرف اسے متوجہ کریں، سب کو دل سے معاف کردیں کسی کا کینہ اپنے دل میں نہ رکھیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: دل کے صاف ہونے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ متقی اور صاف ستھرا دل جس میں نہ گناہ ہو نہ بغاوت، نہ ہی اس میں کسی کا کینہ ہو اور نہ کسی کے بارے میں حسد۔ (سنن ابن ماجہ) 6 گذشتہ روزوں کی قضاء: گذشتہ سالوں کے روزے اگر کسی شرعی عذر سے رہ گئے ہوں تو رمضان آنے سے پہلے پہلے ان کی قضا کرلیں تاکہ رمضان شروع ہونے سے قبل گذشتہ رمضان کے روزوں کا حساب بے باق ہوجائے۔7 دعاؤں کا معمول: رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے، لہذا ابھی سے اپنے آپ کو لمبی دعاؤں کا عادی بنائیں، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ رمضان سے قبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعاؤں کے الفاظ زبانی یاد کیے جائیں، مسنون الفاظ پر مشتمل دعاؤں میں تاثیر بھی زیادہ ہوتی اور قبولیت کا امکان بھی۔8 صدقہ کرنے کی عادت: شعبان کے مہینے میں روزانہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ رمضان المبارک میں سخاوت کرنا آسان ہوجائے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم سب لوگوں میں زیادہ سخی تھے اور رمضان المبارک میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جود و سخا تیز چلتی خوشگوار ہوا سے بھی زیادہ ہوجاتی۔ (صحیح بخاری) 9 کثرت تلاوت کا معمول: رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے خوش قسمت لوگ اس ماہ میں تلاوت کی کثرت کا معمول بناتے ہیں لہذا ابھی سے تلاوت قرآن کو زیادہ وقت دینا شروع کریں تاکہ رمضان کی آمد تک آپ کثرت سے تلاوت کرنے کے عادی بن جائیں نیز اگر آپ حافظ قرآن ہیں تو ابھی سے قرآن کریم دہرانا شروع کر دیں۔10 شب بیداری کی عادت: رمضان میں راتوں کی عبادات تراویح، تہجد وغیرہ کا دورانیہ بڑھ جاتا، ان عبادات کو احسن انداز میں اور بلا تھکاوٹ سر انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ ابھی سے شب بیداری اور نفلی عبادات کا اہتمام کریں اور اپنے بدن کو عبادات کی کثرت کا عادی بنائیں تاکہ رمضان کی راتوں میں دقت پیش نہ آئے۔11 انٹرنیٹ وسوشل میڈیا سے احتراز: رمضان میں اوقات کی قدر دانی بڑی اہم ہے، آج کل انٹرنیٹ وسوشل میڈیا وقت کے ضیاع کا بڑا سبب بن رہے ہیں، لہذا رمضان سے قبل ان کے استعمال کو ختم یا محدود کرنے کی کوشش کریں، امام مالک رحمتہ اللہ علیہ و دیگر اسلاف واکابرین کا تو یہ تک معمول تھا کہ رمضان آتے ہی علمی مجالس بھی موقوف فرمادیتے اور تلاوت قرآن میں مشغول ہوجاتے۔ 12 ٹی وی سے احتراز: ٹی وی خرافات کا مجموعہ ہے لہذا رمضان کی آمد سے قبل اس سے جان چھڑانے کی کوشش کریں ٹی وی پر رمضان نشریات کے نام پر اکثر پروگرام غیر شرعی اور مخلوط ہیں ایک آدھ دینی پروگرام درست بھی ہو تو اسے بنیاد بنا کر ٹی وی کے سامنے وقت ضائع کرنا ہوشمندی نہیں کیونکہ دینی پروگرامز کے دوران اشتہارات میں موسیقی اور نامحرم عورتیں رمضان کی روحانیت ختم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ 13 رمضان سے پہلے پہلے خریداری کرلیں: رمضان عبادت کا مہینہ ہے شاپنگ و خریداری کا نہیں نیز رمضان میں رش اور مہنگائی کی وجہ سے وقت اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے لہذا رمضان کی آمد سے قبل شعبان میں ہی عید کی شاپنگ مکمل کرلیں اور اہل خانہ کو بھی یہ بات سمجھائیں۔14 رمضان المبارک کے لیے کاموں کا بوجھ ہلکا رکھیں:
گھر میں کوئی تعمیراتی یا رنگ و روغن کا کام کروانا ہو، مشین کی مرمت ہو، گاڑی یا سواری کا کوئی لمبا اور پیچیدہ کام ہو اسی طرح دفاتر و کارخانوں کے محنت طلب پروجیکٹ ہوں تو انہیں رمضان المبارک سے پہلے پہلے نمٹانے کی کوشش کریں۔15 نظام الاوقات ترتیب دیں : رمضان المبارک سے قبل اپنا نظام الاوقات مرتب کریں، جس میں صبح اٹھ کر تہجد، ذکر، دعائیں، سحری، نماز فجر اور تلاوت سے لے کر افطاری، تراویح و دیگر معمولات تک کے لیے مناسب وقت متعین ہو اور نیند و آرام کی بھی بھر پور رعایت رکھی جائے۔ 16 نوکر، خادم اور ملازم پر کاموں کا بوجھ ہلکا کریں : رمضان المبارک کی آمد سے قبل نوکر وملازمین سے محنت طلب اور مشکل کام کروالیں تاکہ روزے کی حالت میں ملازمین پر کام کا بوجھ ہلکا رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص رمضان کے مہینے میں اپنے غلام (خادم، ملازم) کے بوجھ کو ہلکا کردے تو حق تعالیٰ شانہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں، اور اسے آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔(مشکوۃشریف) 17 عمرے کی ترتیب بنائیں : رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، صاحب ثروت لوگ ابھی سے عمرے کی ترتیب بنائیں، اسی طرح مسجد حرام اور مسجد نبوی میں اعتکاف اور نمازوں کا ثواب دیگر مساجد سے بہت زیادہ ہے، یہ ثواب حاصل کرنے کی ابھی سے کوشش کریں۔ 18 زیادہ سے زیادہ وقت مسجد میں گزاریں: عموما ہمارا دل مسجد میں نہیں لگتا، لہذا ابھی سے نمازوں کے بعد کچھ دیر مسجد میں نفلی اعتکاف کی نیت سے ٹھہریں اور مسجد میں دل لگانے کی مشق کریں تاکہ رمضان کے آخری عشرے کے مسنون اعتکاف میں بیٹھنا آسان ہوجائے۔ 19 نیند کم کرنے کی عادت ڈالیں: اگر آپ 8 گھنٹے سونے کے عادی ہیں تو 6 گھنٹے سونے کی عادت ڈالیں تاکہ رمضان میں دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے، البتہ تھکاوٹ سے بچنے کے لیے دن میں تھوڑی دیر قیلولہ کرلینا مسنون بھی ہے اور تہجد پڑھنے میں معین و مددگار بھی۔ 20 چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ نمازیں پڑھیں: اس کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے، نیز ماہ شعبان کے آخری عشرے اور رمضان المبارک کے تیس دنوں میں اس کا اہتمام نسبتا زیادہ آسان ہے، لہذا تکبیر اولیٰ کے ساتھ پنج وقتی نمازیں باجماعت پڑھنے کی ابھی سے ترتیب بنائیں۔ 21 سگریٹ، نسوار، پان و گٹکھہ و دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال ابھی سے محدود کریں اور کوشش کریں کہ ان سے جان چھڑالی جائے تاکہ روزے کی حالت میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، رمضان المبارک نشہ آور اشیاء سے جان چھڑانے کا بہترین موقع ہے اور اس میں ہمت، حوصلہ اور اللہ سے مدد مانگتے ہوئے ان آفات سے با آسانی جان چھڑائی جاسکتی ہے۔ 22 ملا قا توں کا سلسلہ محدود کریں : رمضان میں تقاریب، ملاقاتوں اور دعوتوں کا سلسلہ بھی محدود کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں صرف ہو سکے، البتہ بیمار کی عیادت اور تیمار داری اسی طرح میت کی تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ میں شرکت کے مواقع جتنے مل سکیں، غنیمت سمجھیں۔ 23 چھوٹی چھوٹی سورتیں زبانی یاد کریں: قرآن کریم کی چھوٹی چھوٹی سورتیں ابھی سے یاد کرنا شروع کریں تاکہ نوافل اور تہجد میں انہیں پڑھا جاسکے، عام طور پر صرف ایک یا دو سورتیں یاد ہوتی ہیں، اور انہی کو بار بار دہرایا جاتا ہے، جو مثالی طرز عمل نہیں۔ 24 بچوں کو روزے کی عادت ڈالیں : سات سال یا اس سے بڑے بچوں کو روزے کے حوالے سے خصوصی ترغیب دیں اور ان کی ذہن سازی کریں تاکہ رمضان میں انہیں روزے رکھنے کی عادت پڑ جائے اور بچوں کے زندگی بھر کے روزے آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہوں۔ 25 کم کھانے کی عادت ڈالیں: شعبان میں کھانے کی مقدار خاص تناسب سے کم کریں، غذا میں سبزی، پھل اور کھجور کا استعمال زیادہ رکھیں تاکہ صحت و توانائی برقرار رہے اور رمضان تک آپ کم کھانے کے عادی بن جائیں نیز زیادہ کھانے کا بوجھ، بد ہضمی اور سستی عبادات میں رکاوٹ نہ بنے۔ 26 اس رمضان کو گذشتہ سے ممتاز کریں: کسی ایسی عبادت کی ترتیب بنائیں جو آپ کے نامہ اعمال میں اس رمضان کو گذشتہ رمضانوں سے ممتاز کر دے مثلا تیسواں پارہ زبانی یاد کرلیں، یا سورۃ رحمٰن، سورۃ یسین، سورۃ الملک، سورۃ الم سجدہ زبانی یاد کرلیں، یا کسی یتیم کو ڈھونڈ کر اس کی کفالت کا بندوبست کرلیں، یا جیلوں میں قید لوگوں کی تعلیم وتربیت کی ترتیب بنائیں، یا پانی کی اشد ضرورت ہو تو ٹیوب ویل، کنواں یا ٹھنڈے پانی کا پلانٹ لگوادیں، یا مساجد و مدارس کے ساتھ پر خلوص تعاون کریں، یا مستحق طلبہ کے لیے فیس اور یونیفارم وغیرہ کا بندوبست کرلیں، یا کسی غریب لڑکی کی رخصتی کے اخراجات کا بندوبست کردیں وغیرہ وغیرہ۔ 27 ماہ شعبان کی تاریخیں یاد رکھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کی تاریخیں یاد رکھنے کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے، ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رمضان کے لیے شعبان کے چاند گنتے رہو۔ (سنن ترمذی) 28 مالی حقوق سے متعلق مسائل سیکھیں: عام طور پر رمضان المبارک میں مالی حقوق جیسے زکوۃ، عشر، صدقۃ الفطر، نذر وغیرہ کی ادائیگی کی جاتی ہے، لہذا ضروری ہے کہ ان سے متعلق تفصیلی احکامات پہلے سے معلوم کرلیے جائیں، اسی طرح جو مالی حقوق ذمہ میں ہوں (جیسے بیوی کا مہر یا کسی کا قرض وغیرہ) اور ادا کرنے کی صلاحیت بھی ہو تو رمضان سے پہلے ادا کرلیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری شریف) 29 رات جلدی سونے کی عادت ڈالیں: دوستوں کی فضول مجالس، گپ شپ کی محافل اور رات گئے تک سر انجام دی جانے والی سرگرمیوں سے آہستہ آہستہ کنارہ کشی اختیار کریں تاکہ آپ رمضان میں تراویح کے فورا بعد بلا تاخیر سو سکیں، یاد رکھیں تہجد اور سحری میں ہشاش بشاش اٹھنے کا دارو مدار بروقت سونے پر ہے۔ 30 دعاؤں کا اہتمام کریں : رمضان المبارک کی تیاری کے حوالے سے درج بالا ہدایات وتجاویز پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے رمضان المبارک کی روحانیت و برکات کے حصول کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں، بالخصوص ان دعاؤں کا اہتمام فرمائیں۔***