Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*عظمتِ ماہِ رمضان* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *روزہ کے پسِ پردہ بےشمار دینی ودنیاوی حکمتیں ہیں اور ایسے ایسے رموز ہیں جو صرف روزہ دار کو حاصل ہوتے ہیں ۔*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*عظمتِ ماہِ رمضان*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*روزہ کے پسِ پردہ بےشمار دینی ودنیاوی حکمتیں ہیں اور ایسے ایسے رموز ہیں جو صرف روزہ دار کو حاصل ہوتے ہیں ۔*
7908825334
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*مولانا محمد علیم الدین فیضی الرضوی*
خطیب وامام ایم، اے ، ایم ، سی جامع مسجد درگاپور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالٰی کا بےپناہ شکرو احسان ہے کہ اس نے ہمیں گناہوں سےبچنے ، گناہوں سےتلافی اوراپنا قرب حاصل کرنےکا بیشمار موقع عنایت فرمایا ، جیسے  شب عاشورہ، شب معراج ، شب برأت اور ماہ رمضان ۔ رمضان المبارک کا فیضان دیکھیں کہ رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی اللہ تعالٰی قبروں سے عذاب اٹھالیتاہے قبروالے کہتے ہیں ، اے اللہ ! یہ عنایت کیسی ہے یہ کرم کیسا ہے یہ رحیمی کیسی ہے یہ کریمی کیسی ہے ؟ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ، اے قبر والو !  ہم نے اس لئے رحم وکرم کے دریابہاۓ ہیں کہ دنیا میں رمضان کاچاند نظرآگیا ہے۔
اللہ رب العزت کا ارشاد عظیم ہے ، اےایمان والو ! تم پرروزےفرض کئےگئے  جیسے اگلوں  پرفرض ہوئے تھےکہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے ( سورةالبقرہ آیت نمبر ١٨٣ ) بھوکا پیاسا رکھ کر اللہ تعالٰی  اپنے بندوں کو پریشان کرنا نہیں چاہتا ، تکلیف میں مبتلاکرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ تو اپنے بندوں کو اپنا قریب کرنا چاہتاہے اپنا محبوب بنانا چاہتاہے متقی بنانا چاہتاہے پرہیزگار بناناچاہتاہے۔  اللہ تعالٰی فرماتاہے ،  اے میرے بندو ! میں کھانے پینے سے پاک ہوں میں چاہتاہوں کہ چند گھنٹےبھوکاپیاسارہ کر میری والی صفت اختیار کرلو اور میرا محبوب بندہ بن جاؤ۔ روزہ حصولِ روحانیت کاذریعہ ہے ، روزہ جسمانی بیماریوں کا مجرب علاج ہے ، روزہ فضل خداوندی کا آئینہ ہے ، اللہ تعالٰی جن بندوں کے روزوں سے خوش ہوا انہیں غوث ، قطب ، ولی وابدال کردیا اور دارین کی نعمتوں سے سرفراز کردیا ۔ صحابئہ کرام کی زندگی اور ان کی تواریخ کا مطالعہ کریں گے تو اس حقیقت کاانکشاف ہوگا کہ وہ صحرائے عرب کے تپتےہوئے ریگ زاروں میں گرمیوں کےموسم میں روزہ رکھتے تھے اور جہاد بھی کرتےتھے ان کی نماز ، روزوں اور اعمال  صالحہ سے اللہ تعالٰی اتنا خوش ہوا کہ ان کی شان مبارکہ میں قرآن مجید میں فرمادیا  ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ( سورہ مجادلہ ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہےکہ سید عالم ﷺ نے فرمایا : جس نے رمضان کے روزے ایمان کی تکمیل اور حصولِ اجرکے لئے رکھے اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جاتےہیں اور جس نے ایمان اور حصولِ  ثواب کےلئے رات کو قیام کیااس کے گزشتہ گناہ معاف کردیئے جاتےہیں ۔ رمضان المبارک کا آنا خیروبرکت کا پیغام دیتاہے کہ روزاداروں کے دنیاوی امور میں اللہ رب العزت کی طرف سے خیروبرکت شامل ہوتی ہے جس سے نیکی کے کاموں میں کثرت ہوجاتی ہے دنیاوی فضل وکرم کے علاوہ روحانی فضل وکرم بھی اللہ تعالٰی کی رحمت اور نعمت ہے جو انسان کو صرف روزہ کے سبب سے حاصل ہوتاہے ۔ روزہ رکھنے سے اللہ تعالٰی کی تائید حاصل ہوتی ہےاور جتنے امور روزےکے متعلق ہوتے ہیں ان سب میں اللہ تعالٰی کی طرف سے مدد شامل حال ہوجاتی ہے۔
روزہ کی بدولت کئی اولیائے کرام کو ولایت حاصل ہوئی ۔ حضرت جنید بغدادی رحمة اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ روزہ نصف طریقت ہے ، روزےکے پسِ پردہ بےشمار دینی ودنیاوی حکمتیں ہیں اور ایسے ایسے رموز ہیں جو صرف روزہ دار کو حاصل ہوتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور گناہ سرزد ہونے کی صورت میں اللہ رحمٰن ورحیم کی بارگاہ میں توبہ کریں ، بےشک اللہ تو بہ قبول کرنےوالا بڑا مہربان ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔