Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

عیدالفطر کا دن اور اسلامی شریعت کا تقاضہ

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

عیدالفطر کا دن اور اسلامی شریعت کا تقاضہ

سرفرازاحمد قاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186

عید الفطر کا دن اسلامی تاریخ میں خوشی و مسرت کا دن ہے یہ درحقیقت انعام خداوندی ہے جسے اللہ تعالی نے روزوں کے اختتام پر معین فرمایا ہے،حدیث شریف میں ہے کہ عید الفطر کی رات کو آسمانوں میں لیلۃ الجائزہ یعنی انعام کی رات سے جانا جاتا ہے اور ایک تفصیلی روایت کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالی شانہ فرشتوں کو تمام شہروں اور جگہوں میں بھیج دیتے ہیں پھر وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں،راستوں اور چوک چوراہوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو انسان اور جنات کے علاوہ ہرمخلوق سنتی ہے،پکارتے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت! اس رب کریم کی بارگاہ میں چلو،جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے بڑے گناہوں کومعاف کرنے والا ہے،پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالی شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو وہ عرض کرتے ہیں،اے ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی پوری پوری مزدوری دیدی جائے،حق تعالی شانہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کردی اور بندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے،اے میرے بندو! مجھ سے مانگو! میرے جلال کی قسم! میری عزت کی قسم! آج کے دن اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے عطا کروں گا اور دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا،میری عزت کی قسم! جب تک تم میرا خیال کرو گے میں تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا اور ان کو راز میں رکھوں گا،میری عزت کی قسم! میرے جلال کی قسم! تمہیں مجرموں، کافروں کے سامنے رسوا اور ذلیل نہیں کروں گا،بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاؤ،تم نے مجھے راضی کردیا، میں تم سے راضی ہو گیا،یہ انعام خداوندی ان خوش نصیب مسلمانوں کے لیے ہے،جنہوں نے رمضان کے معاملات کو پورا کیا ہو،اس ماہ میں اپنے رب سے خصوصی لگاؤ اور تعلق پیدا کیا ہو، طبیعت کو نیکیوں کا خوگر بنایا ہو،قران مقدس سے اپنا رشتہ مضبوط کیا ہو،تمام گناہوں پر توبہ استغفار کیا ہو،رات میں اپنے گرم بستروں اور میٹھی نیندوں کو چھوڑ کر اپنے رب کو منانے کا سامان کیا ہو،خوف خدا اور خشیت الہی کے گرم آنسوؤں سے اپنے رخساروں کو ترک کیا ہو،حقیقت میں عید الفطر کی خوشی و مسرت انہی لوگوں کا حصہ ہے،عیدسعید کی یہ خوشیاں ان لوگوں کو ہرگز زیب نہیں دیتی جنہوں نے رمضان المبارک کے احترام کو پامال کیا ہو،خواہش نفس کے غلام بنے رہے ہوں،جھوٹ،غیبت اور چغلی وغیرہ میں کوئی کمی نہ آئی ہو اور اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لیے چند آنسو تک نہ بہاسکے ہوں،ایسے لوگوں کے لیے حقیقت میں یہ دن پیغام خوشی و مسرت نہیں بلکہ انکے لیے تازیانہ عبرت ہے،آج ہمیں عیدسعید کی پرمسرت ساعتیں حاصل ہورہی ہیں آج کا دن ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ عیدسعید کی حقیقی مسرتیں ہمیں حاصل ہورہی ہیں یا نہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو یہ ہمارے لیے لائق شکر ہے اور قابل مبارکباد ہے لیکن اگر جواب نفی میں ہے تو یہ ہمارے لیے حسرت و افسوس کا مقام ہے کہ آج جب کہ اللہ تعالی کی جانب سے بخشش و انعام کی موسلادھار بارش ہورہی ہے وہ کون سی رکاوٹ اور کون سا جادو ہے جو ہمیں فکر آخرت اور خدا کے سامنے جواب دہی سے غافل بنائے ہوئے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ غفلت و کوتاہی اور خواہش نفس کی اسیری،دائمی راحت و سکون کی تباہی و بربادی کا پیش خیمہ بن جائے،اس لیے آج اس مبارک موقع پر خدا کی بارگاہ میں سر نیاز و خم کر کے خواہش نفس سے آزادی،خدا و رسول سے وابستگی،قران مقدس سے تعلق،احکام اسلام کو بروئے کار لانے کا پختہ عہد و پیمان کریں،اللہ ہم سب کو عید کی حقیقی مسرت و شادمانی سے ہم کنار فرمائے۔
اسلامی تقریبات کی خصوصیت جواسے دوسرے مذاہب اور قوموں کے تہواروں سے ممتاز و منفرد بناتی ہے یہ ہے کہ عام طور پر دنیا میں منائے جانے والے تہوار افراد و شخصیات سے منسوب ہوتے ہیں اور بہت سے تہوار انہی کی یادگار سمجھے جاتے ہیں یا کچھ ایسے تہوار ہوتے ہیں جو موسم اور وقت کی تبدیلی کا پتہ دیتے ہیں،اس طرح کے تہواروں سے یا تو متعلقہ شخصیات وقتی طور پر ذہنوں میں زندہ ہوجاتی ہیں یا موسم اور وقت کی تبدیلی کے اظہار کے طور پر منائے جانے والے تہوار ایک جزوی تقریب کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ اگر وہ تہوار نہ بھی منائے جائیں تو موسم تو خود بخود بدلے گا وہ کسی تقریب یا تہوار کے بغیر بھی اپنی حیثیت کو منوا لے گا۔اس کے برعکس اسلامی تقریبات میں بنیادی حیثیت صرف دو تہواروں کو حاصل ہے ایک عید الفطر کو اور دوسرے عید الاضحی کو،یہ دونوں عید حقیقتا اسی اصل مقصد کی تجدید کے لئے ہے تاکہ یہ امت عبدیت و ایثار کے اس مقام پر فائز رہ سکے جو فی الحقیقت اسی کے لیے خاص ہے،امت مسلمہ کو اطاعت و قربانی کے مثالی مظاہرے کے لیے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم،آخری کتاب اور آخری شریعت،تاریخ انسانی کے اس آخری دور میں مبعوث کیا گیا ہے،جسے صحیح معنی میں انسانی تعمیر و ترقی کے دور کا آغاز کہا جا سکتا ہے،اسلئے تمام اسلامی عقائد و اعمال کو اسی کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے،ایسے موقع پر ہمیں یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ ان تہواروں کے موقع پر اسلامی شریعت ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے،چنانچہ عید الفطر فتوحات اسلامی کے باعث یا ایک قوم کے دوسرے قوم پر غلبہ پانے کی خوشی میں نہیں منائی جاتی،یہ دراصل اپنے نفس پر فتح پانے اور صبر و ضبط کے ایک طویل مرحلے سے کامیابی کے ساتھ گزر جانے پر اظہار تشکر ہے،اسی خوشی میں انسانی شکر و سپاس کے جذبات اور اجتماعی مسرت و انبساط کے احساسات کو عبادت کی شکل میں ڈھال دیا گیا ہے،ایسی عبادت جو ایک طرف اخوت و مساوات کا عملی سبق ہے تو دوسری طرف عابد و معبود کے رشتے کا دل پذیر پہلو بھی ہے،اسی کے ساتھ ساتھ انسانی فطرت کی رعایت سے ہر علاقے اور ہر ملک کے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں رائج مناسب اور جائز رسمی خوشیوں کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے جو اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے افراد کے لیے نشاط آفریں تو ہوں مگر خواب آور نہ ہوں جو انہیں مستی و مدہوشی کے اس عالم میں پہنچادے جہاں تہذیب و متانت اور عقل و ہوش نام کی کوئی چیز نہ رہے۔اسلام مادی اور روحانی عوامل کے اس حسین امتزاج کا فکر و عقیدہ سے لے کر قول و فعل تک اہتمام کرتا ہے جو زندگی کو متوازن،معقول اور افراد انسانی کے لیے لائق اختیار و قابل قبول بنا دے،وہ جسم روح کی بیک وقت پاکیزگی کی تلقین کرتا ہے،اس لیے اس کی ہر تقریب،باطن کی تطہیر اور ظاہر کی تزئین سے مرکب ہے۔حضرت انس سے مروی ہے کہ ایک مسلمان کی عید درحقیقت ان پانچ دنوں سے وابستہ ہے ایک وہ دن جب وہ گناہوں سے محفوظ رہے اور اس کا دل گناہوں سے داغدار نہ ہو،دوسرا وہ دن جب سلامتی ایمان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو اور شیطانی لشکر اس پر اثر انداز نہ ہو،تیسرا وہ دن جب وہ پل صراحت سے بحافیت پار ہوجائے،چوتھا وہ دن جب وہ جہنم سے محفوظ ہو کر جنت میں داخل ہو اور پانچواں وہ دن جب وہ حق تعالی کا دیدار اور اس کی رضا پالے بلا شبہ لقائے رب ایک بندہ مومن کی سب سے بڑی عید ہوگی،بس یہ سمجھیے کہ عید مومن کی عبدیت کا مسلمہ اطاعت خالص کا نام ہے۔
سعد ابن اوس انصاری رضی اللہ عنہ اپنے باپ حضرت اوس انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب عید الفطر کا دن آتا ہے تو خدا کے فرشتے تمام راستوں کے نکڑ پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے مسلمانو! رب کے پاس چلو جو بڑا کریم ہے اور جو نیکی و بھلائی کی باتیں بتاتا اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دیتا ہے پھر اس پر بہت زیادہ انعام دیتا ہے، تمہیں اس کی طرف سے تراویح پڑھنے کا حکم دیا گیا تو تم نے تراویح پڑھی تم کو دن میں روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا تو تم نے روزے رکھے اور اپنے رب کی اطاعت گزاری کی تو اب چلو اپنا انعام لے لو اور جب لوگ عید کی نماز سے فارغ ہوتے ہیں تو خدا کا ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ اے لوگو! تمہارے رب نے تمہاری بخشش فرما دی،پس تم اپنے گھروں کو کامیاب و کامران لوٹ جاؤ،یہ عید کا دن،انعام کا دن ہے اور اس دن کو فرشتوں کی دنیا میں یعنی آسمان پر انعام کا دن کہا جاتاہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عید کے ایک موقع پر فرمایا اصل عید تو ان کی ہے جو عذاب آخرت سے چھٹکارا پاچکے ہوں،حضرت وہب ابن منبہ کو عید کے دن روتے ہوئے دیکھ کر کسی نے کہا( ہذا یوم السرور والزینہ) یہ تو خوشی اور زینت کا دن ہے،وہب نے فرمایا بے شک یہ خوشی کا دن ہے لیکن اس شخص کے لیے جس کے روزے مقبول ہو گئے ہوں،حضرت شبلی کو عید کے دن نہایت پریشان حالت میں دیکھ کر لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میں اس لیے پریشان ہوں کہ لوگ عید میں مشغول ہو کر وعید کو بھول گئے۔
زمانہ قدیم سے دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہب میں یہ دستور چلا آرہا ہے کہ ان میں خاص دن ہوتا ہے جس دن وہ سب، بہتر سے بہتر خوراک،عمدہ سے عمدہ لباس،استعمال کرتے ہیں اور پوری شان و شوکت کے ساتھ ایک دوسرے سے ملتے اور ملاقاتیں کرتے ہیں،اپنا تیوہار اور اپنی عید مناتے ہیں،اسلامی شریعت نے بھی انسانی فطرت کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے متبعین کے لیے سال میں دو دن خوشی و مسرت کے لیے مقرر کیا ہے،اسلام اپنے ماننے والوں کو رسم و رواج کا پابند بنانے کے بجائے خوشی کے اس عظیم موقع پر ایک معتدل اور متوازن طریقے کی رہنمائی کرتا ہے اور دو رکعت نماز واجب کر کے خوشی کے جذبات کے ساتھ معرفت خداوندی کے حصول اور نعمت خداوندی کے شکریہ کی بجا آوری کی طرف توجہ دلاتا ہے،اسی طرح خوشی کے اس موقع پر شریعت اسلامیہ نے امت کے پسماندہ،غریب، محتاج،ضرورت مند لوگوں کی خبرگیری کرنے اور ہر مسلمان کو تکبر و گھمنڈ سے بچنے کی تلقین کرتا ہے،آج عموما لوگ اپنے تہواروں کے موقع پر غرور و تکبر اور معاصی کا اعلانیہ اظہار کرتے ہیں مگر مسلمان زمین و آسمان کی تمام طاقتوں کو ہیج سمجھ کر اس خوشی کے موقع پر خدا کی عظمتوں کبریائی اور اسی کی طاقت و قوت کی آواز لگاتا ہے، گھر سے نکلتے وقت بھی اور عیدگاہ جاتے ہوئے بھی حتی کہ بار بار نماز کے اندر بھی اللہ اکبر،اللہ اکبر،یعنی اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے،لوگ ایسے موقع پر فخر کیا کرتے ہیں لیکن شیدائیان رسول اعلان کرتا ہے للہ الحمد تمام خوبیاں اور تمام تعریفیں صرف خدا کی ذات میں ہے، لوگ اپنے تہواروں میں گردن اٹھا کر اور سینہ تان کر اکڑتے ہوئے پھرتے ہیں لیکن اسلام کے چاہنے والے گردن جھکائے،نظریں نیچی کیے ہوئے کیا امیر کیا غریب کیا بادشاہ اور کیا غریب سب ایک ساتھ خدائے واحد کے سامنے سجدوں میں گرجاتے ہیں۔
عیدالفطر کے عظیم موقع پر اس احساس کو اپنے اندر جگائے رکھیے کہ گناہ کا احساس، غلطی کا اعتراف،اپنے لغزش پر ندامت اور اپنے رب کی طرف رجوع و انابت،آئندہ نہ کرنے کا عزم، کسی بندے کا حق مارا ہے تو اس کی تلافی کی فکر، یہی وہ چیزیں ہیں،جن کے مجموعے کا نام توبہ ہے،توبہ قوم و فرد کی زندگی اور ان کے شعور کی بیداری کا کھلا ہوا ثبوت ہے،اگر یہ نہ ہو تو سمجھاجائے گا کہ اس قوم یا فرد کے اندر نیک و بد کا امتیاز،صلاح و فساد کا فرق ختم ہو گیا اور رات و دن کی درمیانی لکیرمٹ گئی،آپ توبہ کے اس احساس کو بہرحال اپنے اندر جگائے رکھیے۔
آج ہماری عید اور خوشی کا دن ضرور ہے لیکن حال یہ ہے کہ ہم محکوم و غلام اور مفلس و نادار ہیں،دوسری قوموں کی نظر میں ذلیل و خوار ہیں دولت دین و دنیا سے تہی دست ہیں تو دراصل سچی اور حقیقی مسرت و خوشی سے ہم بلاشبہ محروم ہیں،ایسے میں ہمیں خواب غفلت سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے،غور کیجئے مسلمانوں کے زوال سے نکلنے اور عروج حاصل کرنے کا راستہ کیا ہے؟ ہماری ترقی کا صحیح راستہ کون سا ہوسکتا ہے؟ ہمارا نام مسلمان ہے اور یہ نام کسی خاص نسل یا کسی خاص علاقے کے رہنے والوں کا نہیں بلکہ یہ اس جماعت کا نام ہے جس نے اسلام کے اصول و مقاصد کو اپنے لیے پسند کیا اور صرف خدائے وحدہ لاشریک لہو کے حکومت اور اس کے رسول کی اطاعت کو قبول کیا،پس جس کی زندگی کا وہ مقصد نہ ہو جو اسلام نے مسلمانوں کے لیے متعین کیا اور جس نے وہ اصول اختیار کرنا پسند نہیں کیا ہے جو اسلام نے اس کے لیے تجویز کیے ہیں تو ایسے لوگوں کا اسلام سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ آئیے اس کا فیصلہ کرنے کے لیے ذرا ہم اپنے حالات پر ایک نظر ڈالیں،ہم جب اپنے خیالات کا تجزیہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے کچھ نظریات اسلامی ہیں کچھ غیر اسلامی، اعمال پر غور کرتے ہیں تو کچھ اسلامی اور کچھ غیر اسلامی،ہم نماز روزہ کرلیتے ہیں تو زکوۃ و حج غائب، ہم میں اگرعبادت ہے تو سخاوت نہیں،شجاعت ہے تو رحم دلی نہیں،ہمارا ظاہری اخلاق اچھا ہے تو باطن میں منافقت کی گندگی قلب کو پراگندہ کررہی ہے،ہمارا نام مسلمان ہے لیکن ہماری صورتیں کافرانہ ہے،کفر کا لیول ہمارے سروں پر چسپاں ہے لیکن اسلامی علامت ہمارے چہروں سے غائب ہے،ہمارا لباس کچھ اسلامی ہے کچھ کافرانہ، طرز زندگی کچھ اسلامی ہے کچھ غیر اسلامی،غرض کہ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں دو رنگ نمایاں ہے جس میں کچھ اثر اسلام کا ہے کچھ کفر کا،مسلمانوں کا مقصد زندگی معلوم کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات پر غور فرمائیے تو جواب یہی ملے گا کہ مسلمان کی زندگی کا آخری مقصد صرف خالق کائنات،رب العالمین کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنا ہے،چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میری نماز و قربانی زندگی اور موت سب صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،مجھے اسی کا حکم کیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں یعنی میری تمام جدوجہد کا آخری مقصد صرف اللہ تعالی کی رضا جوئی ہے،یہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا مقصد تھا اور اسی نصب العین کی آپ نے مسلمانوں کو تعلیم دی ہے،جیسا کہ قران و حدیث سے روز روشن کی طرح واضح ہے۔اب اسکے بعد سوچیے کہ ہماری زندگی کا نصب العین کیا ہے،ہمارا روز و شب کس چیز کی کوشش میں گزررہا ہے،ہماری جدوجہد کا آخری مقصد کیا ہے،آج ہمارا اور آپ کا مقصد زندگی وہی ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا تھا یا اس کے علاوہ اور کوئی مقصد ہمارے پیش نظر ہے؟آج ہم جو رات دن محنت و مشقت کررہے ہیں یہ صرف خدا کے لیے ہے یا ان دنیاوی مقاصد کے لیے جو کفار ومشرکین کا آخری مقصد ہے،مسلمانو سوچو! خدارا غور کرو کہ تم کدھر جا رہے ہو؟ کیا کر رہے ہو؟ کیوں کر رہے ہو؟ افسوس کہ ہم نے اپنا اسلامی مقصد بالکل فراموش کردیا اور ایسا بھلا دیا کہ اس کا خیال تک نہیں آتا، آخر ایسا کیوں ہورہا ہے؟اسکے وجوہات کیا ہیں؟ اس پر کون غور کرے گا؟رمضان شریف کے روزے بھی تکمیل ایمان کا ایک ذریعہ ہے،ہم نے روزے رکھے،نمازیں پڑھیں،دیگر عبادتوں کا اہتمام کیا جسکی وجہ سے کچھ نہ کچھ ہمارے قلب کا تعلق اللہ کے ساتھ وابستہ ہوا ہے،ضرورت ہے کہ اس تعلق کو اور زیادہ بڑھایا جائے،روزہ وتراویح کے ذریعے جو کچھ روحانیت،نرم دلی،ایثار و ہمدردی،اخلاقی پاکیزگی اور خلوص ہمارے اندر پیدا ہوا ہے،اس کی حفاظت کی جائے اور تکمیل ایمان کے لیے دوسرے تمام ذرائع مثلا نماز،زکوۃ،حج،جہاد و تنظیم،جفا کشی، راست بازی،حقوق کی ادائیگی اور ہمدردی و خیرخواہی،احترام انسانیت وغیرہ اختیار کیے جائیں،خلاصہ یہ کہ ہم مسلمان ہیں تو ہماری زندگی کی تمام جدوجہد کا مقصد صرف خدا کی رضا ہونی چاہیے اور ہماری ترقی کا صحیح طریقہ صرف تکمیل ایمان ہے،لہذا ہمیں کامل طور پر دین دار اور مذہب کا سچا پیروکار بننے کی کوشش کرنی چاہیے،عید سعید کی سچی اور حقیقی خوشی ہمیں اسی وقت حاصل ہوگی جب ہم ایک اعلی ترقی یافتہ قوم بن جائیں،عید کے اس عظیم موقع پر شریعت اسلامی کا ملت کے ہر فرد سے مطالبہ اور تقاضہ یہی ہے۔
*(مضمون نگار،معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com