*عید الفطر 2026: تجدیدِ عہد اور صدائے انقلاب*
*(امت کا فکری اتحاد: بقا اور وقار کا واحد راستہ)*
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
عید الفطر 2026 محض ایک تقویمی تہوار یا روایتی مسرتوں کا استعارہ نہیں، بلکہ عالمِ اسلام کے لیے بیداری، تجدیدِ عہد اور ایک عظیم الشان صدائے انقلاب بن کر طلوع ہو رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے سلگتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی تناظر میں، جہاں مظلومیت اور استقامت کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ برپا ہے، یہ عید روایتی مبارکبادوں کے خول سے باہر نکل کر امتِ مسلمہ کے ضمیر پر دستک دے رہی ہے۔ آج جب ہم ہلالِ عید کو آسمان کی وسعتوں میں تلاش کرتے ہیں، تو مشرقِ وسطیٰ کی لہو رنگ سرزمین ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اس ماہِ مبارک کی حقیقی روح کو سمجھیں جو محض فاقہ کشی کا نام نہیں، بلکہ نفسِ امارہ اور عالمی طاغوت دونوں کے خلاف ایک مسلسل اور کٹھن جہاد کی تربیت گاہ ہے۔ موجودہ عالمی حالات کی سنگینی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تہواروں کی حقیقی خوشی اس وقت تک ناگزیر اور نامکمل ہے جب تک امت کا ہر فرد جبر و استبداد کی زنجیروں سے آزاد نہ ہو جائے۔
اس تجزیاتی تناظر میں جب ہم ماہِ رمضان کے فلسفے کا عمیق مطالعہ کرتے ہیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ روزہ انسان کو جبر کے سامنے سینہ سپر ہونے کا درس دیتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اس ماہِ مقدس میں عالمی استعمار اور صیہونی ہتھکنڈوں کے خلاف جس بے خوف مزاحمت اور حکمتِ عملی پر مبنی استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ دورِ حاضر کی تاریخ کا ایک روشن اور چشم کشا باب ہے۔ ایران کی یہ مزاحمتی حکمتِ عملی محض ایک مخصوص جغرافیائی خطے کے دفاع تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس آفاقی سچائی کا عملی مظاہرہ ہے کہ جب پختہ نظریاتی اساس اور غیر متزلزل ایمان مادی طاقتوں سے ٹکراتے ہیں، تو جدید ترین عسکری فنی مہارت بھی بے بس ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس جرات مندانہ اقدام نے عالمِ اسلام کو یہ بصیرت افروز پیغام دیا ہے کہ خاموشی، مصلحت پسندی اور معذرت خواہانہ رویوں سے قوموں کا وجود مٹ جایا کرتا ہے، جب کہ بقا اور وقار کا واحد راستہ کٹھن مگر جرات مندانہ مزاحمت میں مضمر ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی اس خونریز جنگ نے بین الاقوامی سیاست کے ان تمام کھوکھلے دعووں کی قلعی کھول دی ہے جن کی بنیاد پر نام نہاد مہذب دنیا انسانی حقوق کا پرچار کرتی ہے۔ مظلوم فلسطینیوں اور خطے کے دیگر نہتے عوام پر گرنے والے بارود نے اقوامِ متحدہ اور عالمی امن کے ضامن اداروں کی مجرمانہ خاموشی اور منافقت کو پوری طرح طشت از بام کر دیا ہے۔ اس نازک موڑ پر امتِ مسلمہ کے لیے یہ سمجھنا ناگزیر ہو چکا ہے کہ ہماری سلامتی اور تحفظ کے لیے کسی بیرونی مسیحا یا عالمی منصف کا انتظار ایک سراب کے سوا کچھ نہیں۔ تاریخ کا یہ ایک بے رحم مگر مسلمہ اصول ہے کہ دنیا صرف اور صرف طاقت اور اتحاد کی زبان سمجھتی ہے۔ جب تک ہم اس زبان میں مکالمہ کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں کرتے، عالمی استعمار ہمارے وسائل کو لوٹتا اور ہمارے خون کو ارزاں سمجھتا رہے گا۔
آج عالمِ اسلام کو جس شدید ترین اور تباہ کن چیلنج کا سامنا ہے، وہ بیرونی دشمن کی عسکری یلغار سے زیادہ ہماری اپنی صفوں میں موجود فکری انتشار، مسلکی منافرت اور جغرافیائی تقسیم ہے۔ امتِ مسلمہ، جسے قرآنی تعلیمات نے مضبوط سہارے کے تصور کے تحت ایک جسدِ واحد قرار دیا تھا، آج لسانی، قومی اور فروعی اختلافات کا شکار ہو کر اپنی اصل طاقت اور عالمی وقار کھو چکی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی دہکتی ہوئی آگ اور وہاں سے اٹھنے والی آہیں ہم سے اس بات کا پرزور مطالبہ کر رہی ہیں کہ ہم اپنے تمام تر فروعی و جزوی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ اگر ہم اب بھی اس تباہ کن خوابِ غفلت سے بیدار نہ ہوئے اور ہم نے اتحاد و اتفاق کی مضبوط رسی کو نہ تھاما، تو مستقبل کا مورخ ہمیں ان بدقسمت قوموں کی فہرست میں شمار کرے گا جو اپنی بقا کی جنگ ہار گئیں۔
مزاحمت کے اس کٹھن مگر روشن راستے پر گامزن ہونے کے لیے خوف اور احساسِ کمتری کی ان نفسیاتی دیواروں کو منہدم کرنا ہماری سب سے اہم دفاعی ضرورت ہے۔ استعماری طاقتوں نے اپنے ابلاغی ذرائع اور پروپیگنڈے کی مشینری کے ذریعے مسلم دنیا کے ذہنوں پر جو ہیبت مسلط کر رکھی تھی، مشرقِ وسطیٰ میں جاری موجودہ مزاحمت نے اس طلسم کو چکنا چور کر دیا ہے۔ ایران اور اس کے ہم خیال مزاحمتی محاذ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر ارادے آہنی ہوں اور جدوجہد کا مقصد اعلیٰ ہو، تو بڑی سے بڑی طاغوتی قوت کو بھی پسپائی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ یہ عید الفطر ہمیں یہ عظیم درس دیتی ہے کہ جس طرح ایک ماہ کی سخت ترین ریاضت اور نفس کشی کے بعد ربِ ذوالجلال اپنے بندوں کو روحانی اور قلبی مسرتوں سے نوازتا ہے، بالکل اسی طرح قربانیوں اور طویل مزاحمتی سفر کے بعد ہی حقیقی آزادی اور خودمختاری کی صبح طلوع ہوتی ہے۔
عسکری اور سیاسی محاذ کے متوازی، آج امتِ مسلمہ کو فکری اور معاشی مزاحمت کے میدان میں بھی اتنی ہی مستعدی دکھانے کی ضرورت ہے۔ استعمار اپنے مالیاتی اداروں، کڑی معاشی پابندیوں اور اقتصادی تسلط کو ایک جدید اور مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ان قوموں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کی بالادستی کو چیلنج کرتی ہیں۔ رمضان المبارک کے دوران اور اس سے قبل، ایران کے عوام نے شدید ترین معاشی دباؤ اور ظالمانہ عالمی پابندیوں کے باوجود جس غیر معمولی استقامت اور خود انحصاری کا مظاہرہ کیا ہے، وہ امت کے لیے معاشی آزادی کا ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ عالمِ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی وسائل، مضبوط اور جواں سال افرادی قوت، اور ایک انتہائی کلیدی جغرافیائی محلِ وقوع سے نوازا ہے۔ اگر ان تمام وسائل کو ایک مشترکہ اور مربوط اسلامی اقتصادی بلاک کی صورت میں مجتمع کر لیا جائے، تو کسی بھی عالمی قوت کی یہ مجال نہیں کہ وہ ہمیں معاشی طور پر ہراساں کر سکے۔
اس عظیم اور ہمہ گیر انقلاب کی کامیابی کا تمام تر دارومدار ہماری نوجوان نسل کی فکری بیداری اور مسلم قیادت کی دور اندیشی پر منحصر ہے۔ آج کا مسلمان نوجوان عالمگیریت اور ٹیکنالوجی کے دور میں سانس لے رہا ہے؛ وہ دشمن کے مکروہ عزائم، ابلاغی جنگ کی باریکیوں اور عالمی سیاست کی منافقت کو بخوبی سمجھتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی درسگاہوں، مساجد کے منبروں، تحقیقی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں میں امت کے درد اور مزاحمت کے آفاقی فلسفے کو پوری شدت کے ساتھ راسخ کریں۔ اس کے ساتھ ہی، یہ ہماری قیادت کا اولین فرض ہے کہ وہ ذاتی، گروہی اور وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر امت کو ایک واضح، بے باک اور امید افزا بیانیہ فراہم کرے۔ جس دن مسلم دنیا کے عوام اور ان کی قیادت ایک ہی صفحے پر کھڑے ہو کر باطل کے خلاف مزاحمت کا علم بلند کریں گے، وہ دن موجودہ ظالمانہ عالمی نظام کے زوال اور ایک منصفانہ اسلامی نشاۃ الثانیہ کا نقطہ آغاز ہوگا۔
الغرض، یہ انقلاب جس کی آج ہمیں شدت سے ضرورت ہے، وہ محض ایک جذباتی نعرہ یا وقتی جوش نہیں بلکہ ہماری روحوں کی مکمل تطہیر اور فکری بیداری کا نام ہے۔ ہمیں یہ شعور بیدار کرنا ہوگا کہ حقیقی آزادی، عالمی سطح پر عزت اور وقار کبھی کسی ظالم سے بھیک مانگ کر حاصل نہیں کیے جا سکتے، بلکہ انہیں اپنے خون، پسینے، کمالِ استقامت اور غیر متزلزل یقین کی بھاری قیمت ادا کر کے چھیننا پڑتا ہے۔ ماہِ صیام کے روزے ہمیں بھوک اور پیاس کی شدت برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ باطل کے سامنے کبھی سر نہ جھکانے کی جو روحانی مشق کرواتے ہیں، وہی دراصل مزاحمت کی اصل روح ہے۔ عید الفطر 2026 کا یہ غیر معمولی دن ہم سے اس پختہ اور انقلابی عہد کا متقاضی ہے کہ ہم امتِ مسلمہ کے عظیم تر اتحاد کے لیے اپنی تمام تر علمی، عملی اور فکری صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے، تاکہ جب تک مسجدِ اقصیٰ کی مقفل فضائیں اور مشرقِ وسطیٰ کے مظلوم عوام مکمل طور پر آزاد نہ ہو جائیں، ہماری جدوجہد رکے گی نہیں۔ یہی وہ ابدی اور زندہ درسِ انقلاب ہے جو آج کا یہ دن پوری دنیا کے مسلمانوں بشمول پاکستان اور بھارت کے مسلمانوں کو دے رہا ہے، تاکہ ہم ایک روشن، متحد اور پروقار مستقبل کی جانب پوری استقامت کے ساتھ قدم بڑھا سکیں۔


















