*آسنسول سے امتیاز احمد انصاری کی خصوصی رپورٹ*
“قرآن مقدس خدائے بزرگ وبرتر کےبےشمار معجزات میں سے ایک زندہ معجزہ ہے جسے ہرایمان والا آج بھی اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ اور محسوس کرسکتا ہے ۔” ان باتوں کا اظہار منگل کی شب شمالی آسنسول جہانگیری محلہ پوسٹ آفس کے نزدیک واقع نو تعمیر مسجد عثمان میں تراویح میں تکمیل قرآن کے موقعے پر منعقدہ خصوصی دعائیہ مجلس میں آسنسول جامع مسجد کے امام وخطیب مفتی خورشید اکرم رحمانی نےمجمع سے خطاب کے دوران کیا۔واضح ہوکہ رمضان المبارک کے شروع ہونے سے ٹھیک تین دن قبل بے سروسانی کے عالم میں اس نئی مسجد میں پنج وقتہ نمازکی کی ادائیگی کاسلسلہ شروع کیا گیا تھا اور پھر رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی قیام الیل کے طور پر تراویح بھی شروع کی گئی۔کسی مستقل امام کی غیر موجودگی میں تین حفاظ کرام میں شامل حافظ محمد عکرمہ،حافظ میں شہباز اور حافظ محمد یاسر نے باری باری تراویح میں ایک قرآن مکمل کیا۔منگل کی شب اسی موقعے پر خصوصی دعائیہ مجلس منعقد کی گئی جس میں اس مسجد کے مقتدیوں کے علاؤہ دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے چنندہ شخصیات بھی شامل ہوئی۔دعاء سے قبل مفتی خورشید اکرم رحمانی نے مجمع سے خطاب کے دوران قرآن کی عظمت اور اہمیت پر مدلل گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن اللہ تبارک وتعالیٰ کا ایسازندہ معجزہ ہے جسے مٹانے کی لاکھ کوششیں کی گئی مگر کامیابی نہیں ملی۔ تاریخی حوالے سے موصوف نے بتایا کہ مسلمانوں کو مٹانے کے لئے کس طرح تاتاریوں نے ایک دن میں دو لاکھ مسلمانوں کو شہید کیا جن کے خون سے دجلہ و فرات کا پانی کئی مہینوں تک سرخ رہا۔یہی نہیں اس وقت بغداد میں موجود دنیا کی سب سے بڑی لائبریری جس میں قرآن وحدیث اور فقہ کی اسی لاکھ کتابیں موجود تھیں ان سبھوں کو جلاکر دریا کے حوالےکردیا جس سے ان دریاؤں کا پانی نہ صرف سیاہ ہوگیا بلکہ ان جلی ہوئی کتابوں کے راکھ پانی کی سطح پر پل کی شکل دے دیا جس پر لوگ مہینوں مہینے چڑھ کر دریا پار کرتے رہے۔ایسا کرکے اطمینان کا سانس لیا کہ قرآن پاک کا وجود ختم کرڈالا مگر دوسرے ہی لمحے ایک سات سال کے بچے پر نظر پڑی جس کے سینے میں قرآن موجود تھا اور جو بڑی روانی کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کررہا تھا۔انہیں احساس ہوگیا کہ قرآن کے نسخوں کو تو جلایا جاسکتا ہے مگر جو انسان کے سینوں میں محفوظ ہے، اسے مٹانا ناممکن ہے۔ قرآن کے ایک اور معجزہ اور آسمانی کتاب ہونے کی دلیل دیتے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا کہ اس زمانےمیں عرب میں شعراء و ادباء اور عربی زبان کے ماہرین جن کی فصاحت و بلاغت کا زمانہ قائل تھا،ان سبھوں نے مل کر بھی پورا قرآن کریم تو دور کی بات ہے اس کی ایک آیت کی جیسی کوئی دوسری آیت نہ لکھ سکے جو قرآن کے زندہ معجزہ ہونے کی دلیل ہے۔موصوف نے صاف لفظوں میں کہا کہ جب تک ہم نے قرآن وحدیث سے اپنا رشتہ مضبوط بنائے رکھا تھا اور سنت پر عمل کررہے تھے پوری دنیا ہماری غلام تھی۔ خشکی وتری،پہاڑ،جنگل اور ہواؤں پر ہماری حکمرانی تھی مگر جیسے جیسے قرآن سے ہمارا رشتہ کمزور ہوتا چلا گیا،ذلت ورسوائی ہمارا مقدر بنتی چلی گئی،ہم ذلیل وخوار ہوتے چلے گئے۔ آج ہم پر جو مصیبتیں اور پریشانیاں ہیں اس کی بنیادی وجہ یہی ہے۔انہوں نےمسجد عثمان کے علاقے کے لوگوں کو ان معنوں میں خوش نصیب بتایا کہ ان کے گھر کے قریب خانہ خدا کی تعمیر ہوگئی ہے۔اب اس کی دیکھ بھال اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھنا اور تمام امور کے حل کے اقدامات کرنا یہاں کے لوگوں کی ذمہ داری ہے۔اس لئے اپنی جائز کمائی مسجد میں لگانا آپ سبھوں کا اولین فرض ہے۔مسجد عثمان کے خدام میں شامل وقیع الرحمن ،خالد پرویز،وقار احمد،محمدطہ ،محمد شاداب،محمد فیروز،محمد انور،عبدالغفار ودیگر کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئےعوام الناس سے ان کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی بھی اپیل کی۔بعد ازاں عالم اسلام کی امن وسلامتی کی دعاؤں کے ساتھ مجلس کے خاتمے پر تمام مصلیان کرام کے درمیان مٹھائی اور دم کیا ہواپانی تقسیم کیا گیا۔




















