*نا امیدی کیوں رحمت کی انتہا*
ہے جب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاتقنطومن رحمتللہ ان اللہ یغفرازنوب جمیعا انہ’ھوالغفوررحیم،0
قرآن کی یہ آیت خدا کے نیک وفرمابرداربندوں کو نہیں بلکہ شریر،بد چلن،زانی ،شرابی،سود خور،کریمنل،دھوکھے بازاور ہر لحاظ سے گرجانے والوں کو امید دیتی ہے آسرا بنتی ہے۔۔۔کہ بے شک اۓ اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں جنہوں نے بد کر داری اپنایٔ،سود کھایا،جرم کیا،دنیا داری کی حوس میں آکر طرح طرح کے غلط کام کیے۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔۔آجاو توبہ کرو وہ رب معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔رب کی بارگاہ میں توبہ تن نسوہا کرواور تمہارے گناہ جواگر سمندر کی جھاگ کی طرح بھی ہوں وہ معاف کر دیے جایںنگے اور تم ہدایت کے راستے پر آجاوگے۔
چلو رمضان آنے والا ہے اللہ کی رحمت اور مغفرت حاصل کرنے کا ذریعہ آرہا ہے۔یہ خدا کی عنایت ہے کے ہماری زندگی میں رمضان پھر سے دستک دینے آرہا ہے۔ کتنے ہی ایسے لوگ تھےجو پچھلے سال کے رمضان کے بعد معبود حقیقی کے پاس چلے گے ہمیں اللہ نے پھر موقع دیا ھے۔۔کیا اس موقع کو ہم یوں ہی رسمن گزار دینگے یا پھر موقع کو غنیمت جان کر خوب خوب عبادت میں اپنا وقت گزار ینگے۔۔۔
رمضان کی تیاری ایسے کریں گویہ کہ ہہ ہمارا آخری رمضان ہے۔ ہم اللہ کے آگے خود کو surrender کر دیں اور اللہ کی رضا حاصل کر لیں
اس طرح ہم پستی سے نکل کربلندی کی طرف چلے جاینگے۔۔۔۔
(محمد صابر اسمعیل)
سیتارامپور ،ضلع پچھم بردوان
رابتہ۔8436355526






