Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*تزکیہ، تعلیم اور اتحاد: حضرت خواجہ ابو الحسن جاگیردارؒ کی دینی و ملی خدمات*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*تزکیہ، تعلیم اور اتحاد: حضرت خواجہ ابو الحسن جاگیردارؒ کی دینی و ملی خدمات*

(عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا عظیم سفر: حضرت افضل پیرؒ صاحب اور 47 سالہ سنتِ میلادالنبیﷺ)

از : حضرت خواجہ ضیاء الحسن جاگیردار

غفران مآب حضرت خواجہ ابو الحسن جاگیردار قبلہ رحمۃ اللہ علیہ (المعروف بہ افضل پیر) اپنے وقت کے ایک جید عالم، صوفی، شاعر، مرشد اور مربی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین واعظ، مفسرِ قرآن اور عاشقِ رسول ﷺ تھے۔ سرزمینِ بسواکلیان میں آپ “حضرت افضل پیر” کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔ ماضیِ قریب میں آپ بارگاہِ حضرت سیدنا تاج الدین شیر سوار رحمۃ اللہ علیہ (بسواکلیان) کے سجادہ نشین رہے، اور آپ نے تزکیہ و تصفیہ کے ذریعہ اس مسندِ رشد و ہدایت کا مکمل حق ادا کیا۔ آپ کا پورا نام خواجہ ابو الحسن جاگیردار تھا اور آپ “افضل” تخلص فرماتے تھے، جبکہ ارادت مند آپ کو “افضل پیر” کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ آپ کی ولادت 1929ء میں کلیانی شریف، ضلع بیدر میں ہوئی۔ آپ کے والدِ گرامی کا نام حضرت شیخ محمد جاگیردار صاحب قبلہ نور اللہ مرقدہ تھا۔
حضرت افضل پیر کی تعلیم سے فراغت کے بعد 1945ء میں آپ کے والدِ محترم، شیخ المشائخ حضرت محمد صاحب جاگیردار نور اللہ مرقدہ نے آپ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ والدِ محترم کی حیات میں آپ ان کی صحبت سے فیض حاصل کرتے رہے اور ان کے وصال کے بعد 1948ء سے درگاہِ شریف حضرت سید تاج الدین راجہ باگ سوار رحمۃ اللہ علیہ (کلیانی شریف) میں مسندِ رشد و ہدایت اور سجادگی کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس کے بعد آپ مواعظ و نصائح، اشاعتِ دین اور علمِ دین کے علاوہ سلسلہ عالیہ چشتیہ کے فروغ میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔ حضرت قبلہ 1948ء سے 2009ء تک (61 سالہ طویل عرصے تک) بارگاہِ حضرت راجہ باگ سوار رحمۃ اللہ علیہ کی مسندِ سجادگی و تولیت پر فائز رہے اور اسی دور سے درگاہِ شریف کی مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ آپ کے خطبہ جمعہ سے استفادہ کرنے کے لیے بسواکلیان کے علاوہ اطراف و اکناف کے علاقوں سے بھی لوگ کثیر تعداد میں شرکت کرتے تھے۔ آپ 50 سال تک مسجد میں درسِ تفسیر کا اہتمام فرماتے رہے اور مریدین و معتقدین کو علومِ شریعت سے آراستہ کرنے کے لیے تجوید کے قواعد، علمِ صرف اور علمِ نحو کی مشق بورڈ پر کروایا کرتے تھے، جس کی بدولت آج بھی آپ کے تربیت یافتہ مریدین درسِ تفسیر دینے کی کامل صلاحیت رکھتے ہیں۔ حضرت قبلہ کے تمام مریدین و معتقدین نے آپ کو ایک کامل مرشد و رہنما پایا اور آپ کی صحبتِ بابرکت سے علمی و روحانی فیض حاصل کیا۔ حضرت کے ارادت مندوں نے ہمیشہ آپ کے ظاہری و باطنی تقویٰ سے استفادہ کیا اور بامراد ہوئے۔ الحمد للہ، آج بھی بسواکلیان کی مختلف مساجد میں آپ کے خلفاء امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں، جو حضرت افضل پیر کی عالی شان تربیت کا مرہونِ منت ہے۔
درسِ تفسیر، حدیث اور فقہ کے علاوہ محافلِ نعت وغیرہ کے ذریعے بھی حضرت قبلہ اہل ایمان کے قلوب کو جلا بخشتے رہے۔ بالخصوص آپ نے ختمِ نبوت کے حساس و اہم موضوع پر گراں قدر خطابات فرمائے۔ بسواکلیان میں ایک وسیع میدان واقع ہے جسے “فتح میدان” کہتے ہیں، جہاں 1995ء میں “اتحاد بین المذاہب” کے عنوان سے ایک عظیم الشان پروگرام منعقد ہوا تھا۔ اس پروگرام میں تمام ادیان و مذاہب کے لوگ شریک تھے اور حضرت افضل پیر کو بطورِ مقررِ خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔ کم و بیش 10000 افراد کے اس عظیم مجمع میں آپ نے نہایت مدلل و جامع انداز میں حضور اکرم ﷺ کے “خاتم النبیین” ہونے کی حقانیت کو واضح فرمایا، جو آپ کی جرات اور حرارتِ ایمانی کا بین ثبوت ہے۔
عشقِ رسول ﷺ کے فروغ کے سلسلے میں حضرت افضل پیر نے 8 جنوری 1982ء کو عید میلاد النبی ﷺ کے پرمسرت موقع پر بسواکلیان میں مرکزی جلوسِ میلاد النبی ﷺ کی بنیاد ڈالی، جو الحمد للہ آج بھی جاری و ساری ہے۔ حضرت قبلہ نے جب اس جلوس کا آغاز فرمایا تھا تو اس وقت شرکاء کی تعداد محض چند سو تھی، مگر آج بفضلِ خدا ہزاروں کا مجمع اس میں شرکت کرتا ہے۔ الحمد للہ، حضرت افضل پیر کے فرزند و جانشین، تقدس مآب حضرت مولانا خواجہ ضیاء الحسن جاگیردار صاحب قبلہ مدظلہ العالی بحیثیت متولی و سجادہ نشین بارگاہِ حضرت راجہ باگ سوار، ان تمام دینی و ملی امور کو احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں جنہیں حضرت خواجہ ابو الحسن جاگیردار رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں قائم اور پروان چڑھایا تھا۔ آج بھی یہ جلوس بصد عقیدت و احترام منعقد ہوتا ہے اور اس کے اختتام پر ایک عظیم الشان جلسہ میلاد النبی ﷺ عمل میں لایا جاتا ہے، جس میں مقامی علماء و مشائخ کے علاوہ دیگر اضلاع سے جید مقررین کو مدعو کیا جاتا ہے، جہاں واعظینِ اہل سنت اپنے ایمان افروز خطابات سے عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کے قلوب کو منور کرتے ہیں۔ جلوسِ میلاد النبی ﷺ کے جس چراغ کو حضرت افضل پیر نے 46 سال قبل روشن کیا تھا، وہ آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ منور و تاباں ہے۔
حضرت افضل پیر ماہِ صفر المظفر کے آغاز ہی سے اپنے خطابات کے ذریعے آمدِ مصطفیٰ ﷺ کی عظمت و فضائل کا بیان شروع فرما دیتے تھے۔ اس زمانے میں عوام میں عید میلاد کو “بارہ وفات” کہنے کا رواج عام تھا، مگر حضرت افضل پیر نے یہ شعور بیدار کیا کہ اہل سنت اپنے آقا ﷺ کی وفات کا سوگ نہیں بلکہ آپ کی حیاتِ مبارکہ کا جشن مناتے ہیں۔ آپ نے اپنے آفاقی خطابات کے ذریعے “حیاتِ النبی ﷺ” کا مدلل ثبوت پیش کیا اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ حقیقت راسخ کر دی کہ عید میلاد النبی ﷺ ہی تمام عیدوں کی عید ہے۔ اسی تناظر میں آپ نے ایک منظوم سلام بھی تحریر فرمایا: “یا حیاتِ النبی سلام علیک”، اور اس کو عام کیا، جس کی برکت سے عوام نے “بارہ وفات” کے بجائے “عید میلاد” کہنا شروع کر دیا اور یوں معاشرے میں عقیدہ حیاتِ النبی ﷺ کے حوالے سے ایک عظیم انقلابی تبدیلی آئی۔
اس کے بعد آپ اپنے خاص مریدین، معتقدین اور شہر بسواکلیان کے متحرک افراد کے ساتھ مشاورت فرماتے کہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ اور جلوسِ میلاد النبی ﷺ کو کس طرح عظیم الشان پیمانے پر، پرامن ماحول میں منایا جائے۔ تمام لوگ حضرت افضل پیر کے زرین مشوروں پر عمل کرتے ہوئے جلوس کی تنظيم میں مصروف ہو جاتے۔ اس دور میں ڈیجیٹل بینرز وغیرہ کا رواج نہیں تھا، اس لیے بہترین خطاطوں کے ذریعے بڑے پردوں پر خوشنما تحریروں کے ساتھ بینرز اور پرچم تیار کیے جاتے تھے، اور یہ تمام تیاریاں حضرت افضل پیر کی سرپرستی میں درگاہِ حضرت شیر سوار کے احاطے میں انجام پاتی تھیں۔ آپ تمام مریدین اور عامۃ المسلمین کو جلوس میں شرکت کے آداب و قرینے بھی ارشاد فرماتے، اور لوگ بصد احترام ان پر عمل پیرا ہوتے۔ عید میلاد النبی ﷺ کے دن تمام لوگ نمازِ ظہر سے قبل قلعہ بارگاہِ حسین میں جمع ہو جاتے، جہاں حضرت قبلہ کی امامت میں نمازِ ظہر ادا کی جاتی اور پھر وہاں سے جلوسِ میلاد النبی ﷺ برآمد ہوتا۔ یہ جلوس شہر کی مختلف شاہراؤں سے گزرتا ہوا مرکزی چوراہے پر پہنچتا، جہاں مختلف مقامات پر اہلیانِ محلہ جلوس کا استقبال کرتے اور حضرت قبلہ و دیگر شرکاء کی گلپوشی کرتے۔ حضرت قبلہ ان مقامات پر قیام فرما کر اہلیانِ محلہ کو خصوصی نصائح اور دعاؤں سے نوازتے، اور بے شمار لوگ آپ کی دست بوسی کر کے دعائیں حاصل کرتے۔ اس طرح یہ جلوس نعرہ تکبیر و رسالت، کلمہ طیبہ اور مسنون دعاؤں کی گونج میں آگے بڑھتا، جبکہ شرکاء کے ہاتھوں میں عید میلاد کے پرچم ہوتے۔ حضرت افضل پیر نے اس جلوس کو ہمیشہ بھارتی اہل وطن کو ساتھ ملا کر، نہایت امن و آشتی کے ساتھ منایا ہے، اور الحمد للہ یہ روایت آج بھی برقرار ہے۔
گزشتہ سال 1500 سالہ عظیم الشان جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر 46 واں شاندار جلوس و جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ اس سال، پیرِ طریقت حضرت مولانا خواجہ ضیاء الحسن جاگیردار صاحب قبلہ (سجادہ نشین و متولی بارگاہِ حضرت شیر سوار رحمۃ اللہ علیہ، بسواکلیان) کی سرپرستی و نگرانی میں شہرِ بسواکلیان کے 47 ویں سالانہ جلوسِ عید میلاد النبی ﷺ کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ ان شاء اللہ، اس مرتبہ بھی شہرِ بسواکلیان میں یہ جلوس نہایت تزک و احتشام اور تزئین و آرائش کے ساتھ منعقد کیا جائے گا۔ تمام مریدین، معتقدین اور عوامِ اہل سنت سے التماس ہے کہ اس بابرکت جلوس میں بصد عقیدت و احترام شرکت فرمائیں۔

عشقِ سرکار کلیجے سے لگائے رکھنا
یہی ایمان ہے، ایمان بچائے رکھنا
بھول نہ جائے کوئی آمدِ میلادِ نبی
عیدِ میلادِ نبی کرتے مناتے رہنا