Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*جمعۃ الوداع کی شرعی حیثیت: ایک علمی و تحقیقی جائزہ* *​محمد ہاشم القاسمی*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*جمعۃ الوداع کی شرعی حیثیت: ایک علمی و تحقیقی جائزہ*
*​محمد ہاشم القاسمی* (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال) موبائل 9933598528
​رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ اپنے اختتام کی طرف رواں دواں ہے۔ بڑے خوش نصیب اور سعادت مند ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس مبارک مہینے میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹیں اور اپنے رب سے گناہوں کی بخشش کروا کر جہنم کی آگ سے آزادی کا پروانہ حاصل کیا۔
​رمضان کے آخری عشرے میں جہاں “شبِ قدر” جیسی عظیم رات پوشیدہ ہے، وہیں اس عشرے کا آخری جمعہ عوامی سطح پر “جمعۃ الوداع” کے نام سے مشہور ہے۔ عام طور پر اس دن کو دیگر جمعوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، لیکن ایک طالبِ علمِ دین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا شرعی طور پر اس دن کی کوئی الگ فضیلت ثابت ہے یا نہیں؟
​شبِ قدر اور جمعہ کا مقام:
​نبی کریم ﷺ نے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شبِ قدر تلاش کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ یہ وہ عظیم رات ہے جس میں قرآنِ کریم کا نزولِ اول ہوا اور جس کی عبادت کو اللہ تعالیٰ نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا۔ جمعتہ الوداع کو ایک مخصوص مذہبی تہوار یا “الوداعی دن” کے طور پر منانے کی تاریخ کے بارے میں مستند اسلامی تاریخ خاموش ہے۔ تاہم، تحقیقی نقطہ نظر سے اس کے آغاز کے بارے میں درج ذیل حقائق سامنے آتے ہیں: 1. عہدِ نبوی ﷺ اور صحابہ کرامؓ کا دور
​نبی کریم ﷺ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ کے دور میں “جمعتہ الوداع” نامی کسی مخصوص دن کا کوئی وجود نہیں تھا۔ رمضان کا آخری جمعہ بھی دیگر جمعوں کی طرح ایک عام جمعہ ہی سمجھا جاتا تھا۔ صحابہ کرامؓ رمضان کے آخری عشرے میں الوداعی جشن منانے کے بجائے اعتکاف اور شبِ قدر کی تلاش میں مصروف رہتے تھے۔ ​2. تاریخی آغاز (مصر کا فاطمی دور)
​مؤرخین کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ جمعتہ الوداع کو ایک سرکاری سطح پر “اہتمام” کے ساتھ منانے کی روایت مصر کے فاطمی دور میں شروع ہوئی۔
​فاطمی حکمران اپنے دور میں کئی نئے تہوار متعارف کروانے کے لیے مشہور تھے (جیسے مختلف اماموں کے یومِ پیدائش وغیرہ)۔
​انہوں نے رمضان کے آخری جمعہ کو بڑی مساجد (جیسے جامع الازہر) میں ایک شاہی جشن کی صورت میں منانا شروع کیا، جہاں خلیفہ خود تشریف لاتا تھا اور مخصوص وعظ و نصیحت کی محفلیں سجتی تھیں۔ 3. برصغیر میں رواج
​برصغیر (پاک و ہند) میں اس روایت نے مغلوں کے آخری دور اور اس کے بعد انگریزوں کے عہد میں بہت شہرت حاصل کی۔
​یہاں کی مقامی تہذیبوں میں رخصت ہونے والے مہمان کو الوداع کہنے کا رواج بہت گہرا تھا، چنانچہ عوام نے رمضان کی رخصت کو “جمعتہ الوداع” کے نام سے ایک جذباتی رنگ دے دیا۔ مرورِ ایام کے ساتھ یہ ایک عوامی رسم بن گئی اور مساجد میں “الوداعی نظمیں” اور اشعار پڑھنے کا رواج پڑ گیا۔ جہاں تک یومِ جمعہ کا تعلق ہے، تو اسلام میں جمعہ کا دن ہفتے کے تمام دنوں میں سب سے افضل اور “مومنوں کی عید” ہے۔ تاہم، یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ فضیلتِ جمعہ ایک مستقل امر ہے، اس کا رمضان کے آخری ہونے سے کوئی خاص شرعی تعلق احادیث میں صراحت کے ساتھ نہیں ملتا۔
​مخصوص “خطبہ الوداع” اور فقہی نقطہ نظر
​عوامی حلقوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ جمعۃ الوداع کا خطبہ عام جمعوں سے مختلف ہونا چاہیے، جس میں “الوداع والفراق” جیسے کلمات شامل ہوں۔ اس حوالے سے مستند دینی اداروں کے فتاویٰ درج ذیل ہیں:
​ازہر الہند دارالعلوم دیوبند (فتویٰ نمبر 48405): “اس مخصوص خطبے کا وجود قرونِ اولیٰ (صحابہ و تابعین کے دور) میں نہیں تھا اور نہ ہی فقہاء نے اس کا ذکر کیا ہے۔ علماء نے اس تخصیص کو مکروہ و بدعت تک لکھا ہے۔ لہذا رمضان کے آخری جمعہ میں بھی عام خطبہ ہی پڑھا جائے۔”
​جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن (کراچی):
جامعہ کے فتاویٰ کے مطابق، آخری جمعہ کے لیے نئے کپڑے سلوانا، خاص تیاری کرنا یا اسے ایک مستقل تہوار سمجھ کر منانا نبی کریم ﷺ، صحابہ کرامؓ اور ائمہ مجتہدین سے ثابت نہیں ہے۔
​اکابرینِ امت کی آراء:
حضرت مولانا عبدالحی لکھنویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، مولانا اشرف علی تھانویؒ اور مفتی محمود حسن گنگوہیؒ جیسے جید علماء نے اپنی تصانیف (فتاویٰ رشیدیہ، امداد الفتاویٰ، فتاویٰ محمودیہ) میں اس مخصوص دن کی خود ساختہ رسومات کو بدعت اور مکروہ قرار دیا ہے۔
​ایک غیر مستند روایت کی حقیقت
​ایک دعا حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ کی طرف منسوب کی جاتی ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں رمضان کے آخری جمعہ کو ایک مخصوص دعا سکھائی۔ تحقیقی جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت اہل سنت کی کسی معتبر کتاب میں موجود نہیں، بلکہ بعض دیگر کتب سے منتقل ہو کر کتبِ مواعظ (وعظ کی کتابوں) میں جگہ پا گئی ہے۔ لہذا اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرنا احتیاط کے خلاف ہے۔
​یومِ جمعہ کی اصل فضیلت
​جمعہ کے دن کی عظمت مسلم ہے، جیسا کہ سنن ابن ماجہ اور دیگر کتب میں مذکور ہے کہ:
​اس دن حضرت آدمؑ پیدا ہوئے اور اسی دن دنیا میں خلیفہ بنا کر بھیجے گئے۔
​اسی دن قیامت قائم ہوگی۔
​اس دن میں ایک ایسی ساعت (گھڑی) آتی ہے جس میں مانگی گئی دعا رد نہیں ہوتی (راجح قول کے مطابق یہ عصر سے مغرب کے درمیان یا خطبے کا وقت ہے)۔
​خلاصہ کلام
​تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ: عبادات میں توقیفیت: اسلام میں عبادت کا وہی طریقہ معتبر ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہو۔
​برابری: رمضان المبارک کے تمام جمعے فضیلت میں برابر ہیں۔ آخری جمعہ کو دیگر پر کوئی ایسی فوقیت حاصل نہیں جس کے لیے الگ سے مخصوص احکام ہوں۔جمعۃ الوداع کے حوالے سے معاشرے میں کئی ایسی باتیں اور رسومات رائج ہو گئی ہیں جن کی اصل قرآن، حدیث، صحابہ کرامؓ کے عمل یا ائمہ مجتہدین کے اقوال میں نہیں ملتی۔ علمی اور فقہی اعتبار سے انہیں بدعات یا من گھڑت رسومات کہا جاتا ہے۔ یہاں ان مخصوص بدعات کی تفصیل دی جا رہی ہے جو عام طور پر اس دن دیکھنے میں آتی ہیں: 1. قضائے عمری کا تصور (سب سے خطرناک غلط فہمی) بعض حلقوں میں یہ مشہور ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ کے دن ایک مخصوص طریقے سے (مثلاً چار رکعت یا بارہ رکعت) نماز ادا کرنے سے زندگی بھر کی چھوٹی ہوئی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں۔
​شرعی حقیقت: یہ محض ایک من گھڑت بات ہے۔ اسلام میں چھوٹی ہوئی نمازوں کا حل “قضا” پڑھنا ہے، کوئی ایک نماز زندگی بھر کے فرائض کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ فقہاء نے اسے بدعتِ سیئہ قرار دیا ہے۔2. مخصوص “خطبہ الوداع” کی پابندی
​بہت سی جگہوں پر ائمہ کرام ایسے اشعار اور کلمات پر مشتمل خطبہ پڑھتے ہیں جن میں رمضان کو رخصت کرنے کا ذکر ہوتا ہے (مثلاً: “الوداع الوداع یا شہر رمضان”)۔
​شرعی حقیقت: خطبہ جمعہ کا مقصد وعظ و نصیحت اور اللہ کی حمد و ثنا ہے۔ نبی ﷺ یا صحابہ سے رمضان کے آخری جمعہ کے لیے کسی الگ یا مخصوص کلمات والے خطبے کا ثبوت نہیں ملتا۔ اسے لازم سمجھنا بدعت ہے۔ 3. یتیم جمعہ کی رسم
​کچھ علاقوں میں اسے “یتیم جمعہ” کا نام دیا جاتا ہے اور یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ اس دن مخصوص اعمال کرنے سے بیماریاں ٹل جاتی ہیں یا جادو ٹونے کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔
​شرعی حقیقت: شریعت میں “یتیم جمعہ” جیسی کسی اصطلاح کا کوئی وجود نہیں، یہ محض عوامی توہمات ہیں۔ 4. مساجد میں غیر معمولی ہجوم اور مخصوص تیاری
​کچھ لوگ پورے سال جمعہ کی نماز کا اہتمام نہیں کرتے، لیکن جمعۃ الوداع کو “قومی تہوار” کی طرح مناتے ہیں، نئے کپڑے پہنتے ہیں اور صرف اسی ایک جمعہ کو پڑھنا نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
​شرعی حقیقت: جمعہ کی فرضیت پورے سال کے لیے یکساں ہے۔ صرف ایک دن کی حاضری کو پورے سال کا کفارہ سمجھ لینا شرعی احکامات کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ 5. مخصوص دعاؤں اور اوراد کا اہتمام
​اس دن کے لیے خاص تسبیحات یا “صلاۃ الفائدہ” جیسی نمازیں وضع کر لی گئی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کا ثواب ہزار گنا زیادہ ہے۔
​شرعی حقیقت: نفل عبادت بذاتِ خود اچھی ہے، لیکن کسی خاص دن کے ساتھ اپنی طرف سے فضیلت جوڑ دینا اور اسے سنت کا درجہ دینا بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔
​خلاصہ
​ان تمام رسومات کی بنیاد “تخصیص بلا مخصص” (یعنی بغیر کسی شرعی دلیل کے کسی وقت یا عمل کو خاص کر لینا) پر ہے۔ ایک مسلمان کے لیے رمضان کا آخری جمعہ بھی ویسا ہی مبارک اور عبادت کا دن ہے جیسا کہ پہلا یا دوسرا جمعہ۔
​اعتدال: رمضان کے آخری جمعہ کو “یتیم جمعہ” کہنا یا اسے کسی خاص بیماری سے شفا کا ذریعہ سمجھنا من گھڑت باتیں ہیں۔جمعتہ الوداع کے حوالے سے عوامی سطح پر کچھ ایسی باتیں اور رسمیں بھی رائج ہو گئی ہیں جن کا تعلق نہ تو فقہ سے ہے اور نہ ہی کسی مستند روایت سے۔ ان میں سے کچھ باتیں تو محض توہم پرستی پر مبنی ہیں۔
​کچھ مزید رائج غلط فہمیاں اور نئی باتیں درج ذیل ہیں: 1. “ہزاری” یا “لاکھي” تسبیح کا تصور
​عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ اگر جمعتہ الوداع کے دن مخصوص سورتیں (مثلاً سورہ اخلاص یا سورہ قدر) ایک خاص تعداد (ہزار یا لاکھ بار) پڑھی جائیں، تو پڑھنے والا مستجاب الدعوات بن جاتا ہے یا اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
​تحقیقی نکتہ: عبادت کا ثواب اپنی جگہ، لیکن کسی خاص تعداد کو کسی خاص دن کے ساتھ اس عقیدے سے جوڑنا کہ یہ سنت سے ثابت ہے، درست نہیں ہے۔ 2. برکت والی تھیلی یا بٹوا (برکت کا عمل)
​کچھ علاقوں میں یہ رواج ہے کہ جمعتہ الوداع کے خطبے کے دوران یا نماز کے بعد کسی کپڑے کے ٹکڑے یا بٹوے پر مخصوص کلمات پڑھ کر دم کیا جاتا ہے، اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ اب یہ بٹوا سال بھر پیسوں سے خالی نہیں رہے گا۔
​تحقیقی نکتہ: رزق میں برکت کا تعلق تقویٰ، محنت اور اللہ پر توکل سے ہے۔ اس طرح کے اعمال کو شرعی برکت کا ذریعہ سمجھنا توہم پرستی کے زمرے میں آتا ہے۔ 3. “قبروں کی صفائی” اور مخصوص زیارت
​کچھ لوگ اسے “مردوں کا جمعہ” بھی کہتے ہیں۔ اس دن قبرستانوں میں غیر معمولی رش ہوتا ہے اور یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ اس دن زیارتِ قبور کا ثواب باقی دنوں سے کہیں زیادہ ہے، یا روحیں اس دن خاص طور پر اپنوں کا انتظار کرتی ہیں۔
​تحقیقی نکتہ: قبرستان جانا سنت ہے، لیکن اسے جمعتہ الوداع کے ساتھ اس طرح جوڑ لینا کہ یہ کوئی شرعی تقاضا ہے، ایک اضافی رسم ہے۔ 4. کلمہ پڑھ کر کاغذ بانٹنا
​بعض جگہوں پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ چھوٹے کاغذوں پر کچھ کلمات لکھ کر مسجد کے دروازے پر بانٹتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اسے گھر کی دیوار پر لگانے سے آفات و بلیات سے حفاظت ہوگی۔
​تحقیقی نکتہ: حفاظتِ الٰہی کے لیے مسنون دعائیں موجود ہیں، اس طرح کی من گھڑت چیزوں کی تقسیم دین میں نئی ایجاد کے مترادف ہے۔ 5. سماجی میڈیا (Social Media) پر “الوداعی مبارکباد” کا سیلاب
​آج کل واٹس ایپ اور فیس بک پر “جمعتہ الوداع مبارک” کے ایسے پیغامات گردش کرتے ہیں جن میں لکھا ہوتا ہے کہ “جو یہ پیغام اتنے لوگوں کو بھیجے گا اسے خوشخبری ملے گی” یا “آج دعا کی قبولیت کا آخری موقع ہے”۔
​تحقیقی نکتہ: اس طرح کے پیغامات جذباتی بلیک میلنگ پر مبنی ہوتے ہیں اور ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہوتی۔ رمضان کا ہر لمحہ قیمتی ہے، صرف آخری جمعہ ہی آخری موقع نہیں ہوتا۔
​​حقیقت یہ ہے کہ رمضان کا ہر لمحہ قیمتی ہے اور جمعہ کا ہر دن مبارک ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شبِ قدر کو تلاش کریں اور جمعہ کے دن کثرت سے درود شریف پڑھنے کا اہتمام کریں۔ دین میں نئی رسومات شامل کرنے کے بجائے ان اعمال پر توجہ دینی چاہیے جو قرآن و سنت سے ثابت ہوں، تاکہ ہماری عبادات اللہ کے ہاں مقبول ٹھہریں۔ ***