*زکوٰۃ اور صدقہ فطر معاشرہ میں توازن پیدا کرتا ہے*
*محمد ہاشم القاسمی* (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)
فون نمبر 9933598528
صدقۃ الفطر ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو مسلمان اتنا مال دار ہو کہ اس پر زکوۃ واجب ہو یا اس پر زکوۃ تو واجب نہیں لیکن ضروری اسباب سے ز ائد اتنی قیمت کا مال یا سامان اس کے پاس موجود ہے جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچتی ہو تو اس پر عیدالفطر کے دن صدقہ دینا واجب ہوتاہے چاہے وہ مال تجارت کا ہو یانہ ہو اور چاہے اس مال پر سال پورا گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو اور اس صدقہ کو شرع میں “صدقہ فطر ” کہتے ہیں ۔ عیدالفطر کے دن جس وقت فجر کا وقت شروع ہوتا ہے (یعنی جب سحری کا وقت ختم ہوتاہے) اسی وقت یہ صدقہ واجب ہوتا ہے۔ اور عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے پہلے اسے ادا کرنا ضروری ہے، اگر عیدالفطر کی نماز سے پہلے ادا نہ کیا گیا تو بعد میں بھی ادا کرنا ہوگا، لیکن بعد میں ادا کرنے سے اس صدقہ کی فضیلت ختم ہو جائے گی، اور یہ عام صدقہ بن جائے گا، نیز عید الفطر کی نماز کے بعد تک تاخیر مکروہ ہے۔ غریب کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر یہ صدقہ عیدالفطر سے پہلے رمضان المبارک میں بھی ادا کیا جاسکتاہے۔ (دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن) اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے زکوٰۃ ہی کی طرح صدقة الفطر نکالنے کا حکم “ہجرت” کے دوسرے سال نازل ہوا، اس کا ایک مقصد تو ضرورت مند، محتاج اور غرباء کی مدد کرنا ہے، اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ مومن بندوں کے روزوں میں جو کمی اور کوتاہی رہ گئی ہو اس صدقہ کے ذریعہ اس کی تلافی ہوجائے. اسلامی تعلیمات کا خاصہ یہ ہے کہ مسرت کے لمحات محض ایوانوں اور محلوں تک محدود نہ رہیں، بلکہ غریبوں کی کٹیا میں بھی خوشیوں کے چراغ روشن ہوں۔
اسی لئے شریعت میں ایسے موقع پر معاشرے کے غریب اور محتاج افراد کو مال دے کر توازن برقرار رکھنے اور اپنے روزوں کی تلافی اور بھر پائی کے لئے صدقہ فطر کو ہر صاحب نصاب پر لازم قرار دیا ہے. یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ روزہ دار روزہ کی حالت میں اگر چہ مجسم نیکی اور تقوی و طہارت کی کیفیت میں ہوتا ہے، اس کے مادی جسم میں ملکوتی کیفیت فرشتوں جیسی روح پیدا ہو جاتی ہے وہ جھوٹ، بدگوئی، لا یعنی، چغلی، بدکلامی ایذا رسانی اور حق تلفی اور ہر طرح کی برائیوں سے دور رہتا ہے، یا کم از کم دور رہنے کی کوشش اور اس کے لئے جدوجہد کرتا ہے، لیکن پھر بھی وہ انسان ہے فرشتہ نہیں، اور انسان خطا و چوک اور لغزش کا مرکب و مجموعہ ہے، اس لئے ہزار کوششوں کے باوجود اس سے غلطیاں اور لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں۔ زبان سے بیہودہ اور لا یعنی باتیں نکل ہی جاتی ہیں، اس لئے قدرتی طور پر روزوں کا بالکل بے داغ اور ہر نقص و عیب اور کمی و کوتاہی سے پاک رہنا ممکن نہیں ۔ اسی لئے اللہ تعالی نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ روزہ داروں کو اس طرح کے داغ دھبوں سے پاک و صاف کرنے کے لئے صدقئہ فطر کو ادا کرنے کا حکم دیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوة فطر مقرر فرمائی تاکہ لغو اور بے ہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہو جائے اور مساکین کے خورد و نوش کا انتظام ہو جائے صدقہ فطر عید کے دن جس وقت فجر کا وقت ہوتا ہے اسی وقت یہ صدقہ واجب ہوتا ہے، (فتاوی ہندیہ) بہتر یہ ہے کہ جس وقت لوگ نماز کے لیے عیدگاہ جاتے ہیں اس سے پہلے ہی صدقہ فطر ادا کردیا جائے، (فتاوی ہندیہ) اگر کسی نے عید کے دن سے پہلے رمضان ہی میں ادا کردیا تب بھی درست ہے، عورتوں کو فقط اپنی طرف سے ادا کرنا واجب ہے، اور مرد پر اپنی اور اپنے نابالغ اولاد کی طرف سے دینا واجب ہے، لیکن اگر اولاد مالدار ہو تو باپ کے ذمہ اپنے مال سے واجب نہیں بلکہ انہیں کے مال سے ادا کردے، اور بالغ اولاد کی طرف سے باپ کو دینا واجب نہیں، البتہ اگر کوئی لڑکا مجنون ہو تو اس کی طرف سے بھی ادا کردے۔(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند) ذیل میں صدقہ الفطر کے کچھ مسائل دلائل کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش ہے. مسئلہ 1: صدقہ فطر واجب ہے، عمر بھر اس کا وقت ہے یعنی اگر ادا نہ کیا ہو تو اب ادا کر دے۔ ادا نہ کرنے سے ساقط نہ ہوگا، نہ اب ادا کرنا قضا ہے بلکہ اب بھی ادا ہی ہے اگرچہ مسنون قبل نمازِ عید ادا کر دینا ہے۔ (درمختار وغیرہ) مسئلہ 2: صدقہ فطر شخص پر واجب ہے مال پر نہیں، لہٰذا مر گیا تو اس کے مال سے ادا نہیں کیا جائے گا۔ ہاں اگر ورثہ بطورِ احسان اپنی طرف سے ادا کریں تو ہوسکتا ہے کچھ اُن پر جبر نہیں اور اگر وصیّت کر گیا ہے تو تہائی مال سے ضرور ادا کیا جائے گا اگرچہ ورثہ اجازت نہ دیں۔ (جوہرہ وغیرہ) مسئلہ 3: عیدکے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوتا ہے، لہٰذا جو شخص صبح ہونے سے پہلے مر گیا یاغنی تھا فقیر ہوگیا یا صبح طلوع ہونے کے بعد کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب نہ ہوا اور اگر صبح طلوع ہونے کے بعد مرا یا صبح طلوع ہونے سے پہلے کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب ہے۔ (عالمگیری) مسئلہ 4: صدقہ فطر ہر مسلمان آزاد مالکِ نصاب پر جس کی نصاب حاجت اصلیہ سے فارغ ہو واجب ہے۔ اس میں عاقل بالغ اور مال نامی (بڑھنے والا مال جیسے سونا چاندی وغیرہ) ہونے کی شرط نہیں۔ (درمختار) مسئلہ 5: نابالغ یا مجنون اگر مالکِ نصاب ہیں تو ان پر صدقہ فطر واجب ہے، اُن کا ولی اُن کے مال سے ادا کرے، اگر ولی نے ادا نہ کیا اور نابالغ بالغ ہوگیا یا مجنون کا جنون جاتا رہا تو اب یہ خود ادا کر دیں اور اگر خود مالکِ نصاب نہ تھے اور ولی نے ادا نہ کیا تو بالغ ہونے یا ہوش میں آنے پر اُن کے ذمہ ادا کرنا نہیں۔ (درمختار، ردالمحتار) مسئلہ 6: صدقہ فطر ادا کرنے کے لیے مال کا باقی رہنا بھی شرط نہیں، مال ہلاک ہونے کے بعد بھی صدقہ واجب رہے گا ساقط نہ ہوگا، بخلاف زکاۃ و عشر کہ یہ دونوں مال ہلاک ہو جانے سے ساقط ہو جاتے ہیں۔ (درمختار) مسئلہ 7: مردمالکِ نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنے چھوٹے بچہ کی طرف سے واجب ہے، جبکہ بچہ خود مالکِ نصاب نہ ہو، ورنہ اس کا صدقہ اسی کے مال سے ادا کیا جائے اور مجنون اولاد اگرچہ بالغ ہو جبکہ غنی نہ ہو تو اُس کا صدقہ اُس کے باپ پر واجب ہے اور غنی ہو تو خود اس کے مال سے ادا کیا جائے، جنون خواہ اصلی ہو یعنی اسی حالت میں بالغ ہوا یا بعد کو عارض ہوا دونوں کاایک حکم ہے۔(درمختار، ردالمحتار) مسئلہ 8: صدقہ فطر واجب ہونے کے لیے روزہ رکھنا شرط نہیں، اگر کسی عذر، سفر، مرض، بڑھاپے کی وجہ سے یا معاذ اﷲ بلاعذر روزہ نہ رکھا جب بھی واجب ہے۔ (ردالمحتار) مسئلہ 9: نابالغ لڑکی جو اس قابل ہے کہ شوہر کی خدمت کر سکے اس کا نکاح کر دیا اور شوہر کے یہاں اُسے بھیج بھی دیا تو کسی پر اس کی طرف سے صدقہ واجب نہیں، نہ شوہر پر نہ باپ پر اور اگر قابل خدمت نہیں یا شوہر کے یہاں اُسے بھیجا نہیں تو بدستور باپ پر ہے پھر یہ سب اس وقت ہے کہ لڑکی خود مالکِ نصاب نہ ہو، ورنہ بہرحال اُس کا صدقہ فطر اس کے مال سے ادا کیا جائے۔(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ 10: باپ نہ ہو تو دادا باپ کی جگہ ہے یعنی اپنے فقیر و یتیم پوتے پوتی کی طرف سے اس پر صدقہ دینا واجب ہے۔(درمختار) مسئلہ 11: ماں پراپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقہ دینا واجب نہیں۔ (ردالمحتار) مسئلہ 12: اپنی عورت اور اولاد عاقل بالغ کا فطرہ اُس کے ذمہ نہیں اگرچہ اپاہج ہو، اگرچہ اس کے نفقات اس کے ذمہ ہوں۔(درمختار وغیرہ) مسئلہ 13: عورت یا بالغ اولاد کا فطرہ ان کے بغیر اِذن ادا کر دیا تو ادا ہوگیا، بشرطیکہ اولاد اس کے عیال میں ہو یعنی اس کا نفقہ وغیرہ اُس کے ذمہ ہو، ورنہ اولاد کی طرف سے بلا اِذن ادا نہ ہوگا اور عورت نے اگر شوہر کا فطرہ بغیر حکم ادا کر دیا ادا نہ ہوا۔(عالمگیری، ردالمحتار وغیرہما) مسئلہ 14: ماں باپ، دادا دادی، نابالغ بھائی اور دیگر رشتہ داروں کا فطرہ اس کے ذمہ نہیں اور بغیر حکم ادا بھی نہیں کرسکتا.(عالمگیری، جوہرہ) مسئلہ 15: صدقہ فطر کی مقدار یہ ہے ،گیہوں یا اس کا آٹا یا ستّو نصف صاع، کھجور یا منقے یا جَو یا اس کا آٹا یا ستّو ایک صاع۔(درمختار، عالمگیری) مسئلہ 16: گیہوں، جَو، کھجوریں، منقے دیے جائیں تو ان کی قیمت کا اعتبار نہیں، مثلاً نصف صاع عمدہ جَو جن کی قیمت ایک صاع جَو کے برابر ہے یا چہارم صاع کھرے گیہوں جو قیمت میں آدھے صاع گیہوں کے برابر ہیں یا نصف صاع کھجوریں دیں جو ایک صاع جَو یا نصف صاع گیہوں کی قیمت کی ہوں یہ سب ناجائز ہے جتنا دیا اُتنا ہی ادا ہوا، باقی اس کے ذمہ باقی ہے ادا کرے۔ (عالمگیری وغیرہ) مسئلہ 17: نصف صاع جَو اور چہارم صاع گیہوں دیے یا نصف صاع جَو اور نصف صاع کھجور تو بھی جائز ہے۔ (عالمگیری، ردالمحتار) مسئلہ 18: گیہوں اور جَو ملے ہوئے ہوں اور گیہوں زیادہ ہیں تو نصف صاع دے ورنہ ایک صاع۔ (ردالمحتار)
مسئلہ 19: گیہوں اور جَو کے دینے سے اُن کا آٹا دینا افضل ہے اور اس سے افضل یہ کہ قیمت دیدے، خواہ گیہوں کی قیمت دے یا جَو کی یا کھجور کی مگر گرانی میں خود ان کا دینا قیمت دینے سے افضل ہے اور اگر خراب گیہوں یا جَو کی قیمت دی تو اچھے کی قیمت سے جو کمی پڑے پوری کرے۔ (ردالمحتار) مسئلہ 20: ان چار چیزوں کے علاوہ اگر کسی دوسری چیز سے فطرہ ادا کرنا چاہے، مثلاً چاول، جوار، باجرہ یا اور کوئی غلّہ یا اور کوئی چیز دینا چاہے تو قیمت کا لحاظ کرنا ہوگا یعنی وہ چیز آدھے صاع گیہوں یا ایک صاع جَو کی قیمت کی ہو، یہاں تک کہ روٹی دیں تو اس میں بھی قیمت کا لحاظ کیا جائے گا اگرچہ گیہوں یا جَو کی ہو۔ (درمختار، عالمگیری وغیرہما) مسئلہ 21: (۱) صدقہٴ فطر کی مقدار گیہوں سے نصف صاع اور جو کشمش سے پورے ایک صاع ہے موجودہ اوزان کے اعتبار سے نصف صاع ایک کلو چھ سو تینتیس گرام (1.633) ہوتا ہے اور مکمل ایک صاع برابر تین کلو دو سو چھیاسٹھ گرام (3.266) ہوتا ہے۔(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند) مسئلہ 22: فطرہ کا مقدم کرنا مطلقاً جائز ہے جب کہ وہ شخص موجود ہو، جس کی طرف سے ادا کرتا ہو اگرچہ رمضان سے پیشتر ادا کر دے اور اگر فطرہ ادا کرتے وقت مالک نصاب نہ تھا پھر ہوگیا تو فطرہ صحیح ہے اور بہتر یہ ہے کہ عید کی صبح صادق ہونے کے بعد اور عید گاہ جانے سے پہلے ادا کر دے۔ (درمختار، عالمگیری)مسئلہ 23: ایک شخص کا فطرہ ایک مسکین کو دینا بہتر ہے اور چند مساکین کو دے دیا جب بھی جائز ہے۔ یوہیں ایک مسکین کو چند شخصوں کا فطرہ دینا بھی بلاخلاف جائز ہے اگرچہ سب فطرے ملے ہوئے ہوں۔ (درمختار، ردالمحتار) مسئلہ 24: شوہر نے عورت کو اپنا فطرہ ادا کرنے کا حکم دیا، اُس نے شوہر کے فطرہ کے گیہوں اپنے فطرہ کےگیہووں میں ملا کر فقیر کو دے دیے اور شوہر نے ملانے کا حکم نہ دیا تھا تو عورت کا فطرہ ادا ہوگیا شوہر کا نہیں مگر جب کہ ملا دینے پر عرف جاری ہو تو شوہر کا بھی ادا ہو جائے گا۔ (درمختار، ردالمحتار) مسئلہ 25: عورت نے شوہر کو اپنا فطرہ ادا کرنے کا اذن دیا، اس نے عورت کے گیہوں اپنے گیہووں میں ملا کر سب کی نیّت سے فقیر کو دے دیے جائز ہے۔ (عالمگیری) مسئلہ 26: صدقہ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں یعنی جن کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں، انھیں فطرہ بھی دے سکتے ہیں اور جنھیں زکوٰۃ نہیں دے سکتے، انھیں فطرہ بھی نہیں سوا عامل کے کہ اس کے لیے زکوٰۃ ہے فطرہ نہیں۔ (درمختار، ردالمحتار) فقہاء کرام صدقئہ فطر کے وجوب کے سلسلہ میں اس حدیث شریف کو اپنی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مکہ کی گلیوں میں ایک منادی بھیجا کہ اعلان کر دے کہ آگاہ ہو جاو ! ہر مسلمان پر صدقئہ فطر واجب ہے خواہ مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا. ( ترمذی ،باب ما جاء فی صدقة الفطر ) صدقئہ فطر مالداروں پر واجب ہے اور غرباء اور ضرورت مند اس کا مصرف ہیں ۔ فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں : “مال دار سے مراد وہ لوگ ہیں، جن کے پاس اپنی بنیادی ضروریات ۔۔۔۔۔۔ مکان کپڑے، گھر کا ضروری سامان ،استعمال کی سواری وغیرہ کے علاوہ کوئی چیز نصاب زکوة کی قیمت کی موجود ہو، زکوة اور صدقة الفطر میں بنیادی فرق یہ ہے کہ زکوۃ کچھ مخصوص مالوں ہی میں واجب ہوتی ہے، یعنی: سونا چاندی ،مال تجارت، بعض جانور اور زرعی پیداوار، اگر کسی کے پاس ڈھیر ساری زمینین ہوں، کئی مکانات ہوں، مگر بیچنے کے لئے نہیں رکھے گئے ہوں تو ان میں زکوة واجب نہیں ہوگی، لیکن صدقة الفطر کے لئے مخصوص اموال کا ہونا ضروری نہیں، کوئی بھی مال نصاب زکوة کی قیمت کا موجود ہو تو صدقة الفطر واجب ہو جائے گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کہ جس شخص کے پاس دولت نہ ہو اس پر صدقئہ فطر واجب نہیں؛ لا صدقة الا عن ظھر غنی، شریعت نے دولت مندی کا معیار نصاب زکوة کے بقدر مال کو قرار دیا ہے۔ یکم شوال المکرم یعنی عید الفطر کی صبح صادق کے وقت جو مسلمان زندہ ہو اور ضرورت سے زائد ایسے نصاب کا مالک ہو جس پر زکوة واجب ہو جاتی ہے، یا اس کے گھر میں روز مرہ کے استعمال کی چیزوں سے زائد ایسا سامان ہو جو ساڑھے باون تو چاندی برابر (۳۵/ ۶۱۲ گرام ) یا ساڑھے سات تو سونا برابر ( ۴۷۹/ ۸۷ گرام) کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو پھر اس پر صدقئہ فطر واجب ہے، خواہ اس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے ہوں یا نہ رکھے ہوں ۔ غیر روزہ دار پر بھی صدقئہ فطر واجب ہے، کیونکہ وجوب صدقئہ فطر کے لئے محض مسلمان ہونا شرط ہے، نہ کہ روزہ رکھنا بھی، اس لئے کہ روزہ مستقل فریضہ ہے اور صدقئہ فطر الگ مستقل واجب ہے ۔ پس روزہ نہ رکھنے کا گناہ ہوگا اور صدقئہ فطر نکالنے سے اس کے ذمہ سے ایک وجوب ساقط ہو گا اور اس کا ثواب اس کو ملے گا ۔ البتہ روزہ کی قبولیت اور اس کی کمی کی تلافی کا مقصد حاصل نہ ہونا ظاہر ہے لیکن اس کے علاوہ صدقئہ فطر کے ثواب اور فوائد ان شاءاللہ حاصل ہوں گے ۔ صدقة الفطر اپنی طرف سے اور نابالغ بچوں کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے، بالغ لڑکے ،لڑکیاں، بیوی، اس کے زیر پرورش چھوٹے بھائی بہن اور والدین کی طرف سے صدقة الفطر ادا کرنا واجب نہیں ہے، لیکن ہندوستانی سماج اور معاشرہ میں بیوی اور شوہر کا مال ملا جلا ہوتا ہے اور بالغ لڑکے جب تک ماں باپ کی کفالت میں ہوتے ہیں اور تعلیم وغیرہ میں مشغول ہوتے ہیں، تو ان کی بھی ساری ذمہ داریاں گھر کا ذمہ دار اور مکھیہ خود ہی انجام دیتا ہے، یہی حال ان چھوٹے بھائی، بہن اور والدین کا ہے جن کی کفالت گھر کا کوئی مرد انجام دیتا ہو، اس لئے بہتر ہے کہ ان سب کی طرف سے بھی صدقة الفطر ادا کیا جائے ۔ جس غلام کو اپنی خدمت کے لئے رکھا جائے نہ کہ بیچنے کے ارادہ سے ہو، اس کا صدقئہ فطر نکالنا بھی مالک پر ضروری ہے ۔ آج کے زمانہ میں گھر میں خادم اور خادمہ رکھنے کا رواج عام ہے، یہ اگر چہ غلام نہیں ہوتے ۔ خادم ہوتے ہیں لیکن یہ بھی انسان کو وہی سہولت اور آرام پہنچاتے ہیں جو اس زمانہ میں غلام پہنچایا کرتے تھے، اس لئے بہتر ہے کہ ان کی طرف سے بھی صدقئہ فطر ادا کرنا چاہئے اگر واجب نہ بھی ہو تو باعث اجر و ثواب ضرور ہوگا ۔ صدقة الفطر ادا کرنے کا بہترین اور مسنون وقت عید کے دن عید گاہ کو جانے سے پہلے ہے، لیکن اگر پہلے بھی یعنی رمضان میں بھی ادا کردے تو ادائیگی ہو جائے گی بلکہ بعض علماء نے حسن انتظام کے لئے اس کو افضل کہا ہے ۔ بسا اوقات باہر یا بیرون ملک رہنے والے لوگوں کی طرف سے ان کے عزیز و اقارب اور رشتہ دار صدقئہ فطر ادا کرتے ہیں، اس میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ باضابطہ صریح اجازت لی جائے ۔ اگر گیہوں ادا کر رہا ہے تو عمدہ گیہوں ۱ کلو چھہ سو بتیس گرام ادا کرے اور اگر قیمت ادا کر رہا ہے تو جہاں آدمی رہ رہا ہے وہاں کی قیمت کے لحاظ سے مقدار گیہوں کی قیمت ادا کرے اور اگر ہندوستان میں قیمت زیادہ ہو تو یہاں کی قیمت ادا کرے اس میں فقراء کا فائدہ زیادہ ہے۔ جو آدمی زکوة لینے کا مستحق ہے، اسے فطرہ دینا بھی جائز ہے ۔ صدقئہ فطر کے مستحق پاس پڑوس، گاوں اور شہر میں رہنے والے فقراء اور مساکین ہیں، تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں. ایک فقیر کو ایک صدقئہ فطر دینا مستحب اور بہتر ہے، البتہ کم دینا بھی جائز ہے اور زیادہ دینے کی بھی گنجائش ہے ۔ ( فتاوی رحیمیہ ۸/۲۴۷) غیر مسلم محتاج اور فقیر کو صدقئہ فطر دینا صحیح قول کے مطابق (ہندو،عیسائ،یہودی وغیرہ) کو دینا جائز نہیں ہے، بلکہ صدقئہ فطر ادا ہی نہیں ہوگا، احناف میں امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کا قول عدم جواز کا نقل کیا گیا ہے اور حاوی قدسی کے حوالے سے اسی پر فتویٰ نقل کیا گیا ہے، اور امام طحاوی رحمۃاللہ علیہ نے امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کے قول کو اختیار کیا ہے ۔ علامہ عینی رحمۃاللہ علیہ نے بھی امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کے قول کو صحیح قرار دیا ہے ۔ غرض اصل مسئلہ تو یہی ہے کہ صدقئہ فطر غیر مسلم کو دینا جائز نہیں ہے ۔ لیکن کیا حالات کے پیش نظر اور تلیف قلب یعنی غیر مسلم بھائیوں کی دلجوئی کے لئے دینا جائز ہے یا نہیں؟ تو اس سلسلے میں علماء کرام اور فقہاء عظام کی رائیں الگ الگ ہیں، جمہور علماء کرام کی رائے یہ ہے کہ تالیف قلب کا مصرف ساقط نہیں ہوا ہے بلکہ اب بھی باقی ہے اس لئے اس طور پر یہ رقم غیر مسلم کو بھی وقت ضرورت دے سکتے ہیں ۔ پس اگر موجودہ دور میں تالیف قلب کی واقعی ضرورت پڑے (بلکہ واقعی ضرورت ہے ) تو علماء اور اہل افتاء کے مشورے اور رائے سے غیر مسلم کو بھی مصلحتا صدقئہ فطر دینا درست ہوگا ۔ صدقئہ فطر کی مقدار کی تفصیلات خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمادی دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اسی متعینہ مقدار کو صدقئہ فطر کے طور پر نکالتے تھے ۔ صدقئہ فطر کی مقدار کی تفصیلات یہ ہیں ۔ اگر گیہوں دیا جائے تو نصف صاع اور اس کے علاوہ دوسری چیز مثلا جو، کھجور اور کشمش میں ایک صاع دینا واجب ہے ،آج کے رائج اوزان کے لحاظ سے ایک صاع کا وزن تین کلو ایک سو انچاس گرام، دوسو ملی گرام ( ۲۸۰_۱۴۹-۳) ہے ۔ اور اس کا آدھا ایک کلو پانچ سو چوہتر گرام،چھ سو چالیس ملی گرام۔( ۶۴۰، ۱۵۷۴) نصف صاع کا وزن ہے ۔ صدقئہ فطر میں گاوں، قصبہ یا جو قریبی بازار ہو،وہاں کی قیمت سے صدقئہ فطر ادا کرنا چاہئے، شہر والے شہر کی منڈی کے اعتبار سے صدقئہ فطر ادا کریں گے ۔ اگر آدمی گہیوں دے رہا ہے تو اسے نصف صاع یعنی ایک کلو چھ سو گرام احتیاطا نکالنا واجب ہے ۔ بعض علماء نے پونے دو کلو لکھے ہیں وہ بھی احتیاط پر مبنی ہے ۔ اگر قیمت دے دے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے، لیکن عام بازاری قیمت ہونی چاہئے، کنٹرول کی قیمت سے ادا کرنا درست نہیں، اس لئے کہ اس قیمت سے فقیر بازار سے نصف صاع نہیں خرید سکے گا ۔( مستفاد فتاوی رحیمیہ: ۵/ ۱۷۱) آج ہم مسلمان صرف گہیوں ہی سے نصف صاع کی قیمت صدقئہ فطر میں نکالتے ہیں کیونکہ یہ سستا پڑتا ہے، اور اس کی قیمت کم ہوتی ہے جبکہ چاہئے یہ تھا کہ صدقئہ فطر کے طور پر جن اجناس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تذکرہ کیا ہے اور آپ جس طرح کجھور اور کشمش سے صدقئہ فطر نکالتے تھے ہم کو بھی ان اجناس کی قیمت کے اعتبار سے بھی صدقئہ فطر ادا کرنا چاہئے خاص طور پر جو زیادہ متمول اور مالدار ہیں ان کو تو ضرور اس کا خیال رکھنا چاہیے کیوں کہ یہ انفع للفقراء ہوگا ۔ گہیوں کے سلسلہ میں نصف صاع اور ایک صاع دونوں طرح کی روایات کتب حدیث میں موجود ہے، اس لئے کبھی کبھی ایک صاع گیہوں کی قیمت بھی ادا کرنا زیادہ بہتر ہوگا تاکہ اس حدیث پر بھی عمل ہوجائے اور فقراء کا بھی فائدہ زیادہ ہو جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم زیادہ تر کھجور اور کشمش سے صدقئہ فطر ادا کرتے تھے، کیونکہ حجاز میں گہیوں کی پیداوار نہیں ہوتی تھی، حجاز میں گیہوں شام اور یمن سے اسپورٹ کیا جاتا تھا ۔ اس لئے جن غذائی اشیاء کو صدقئہ فطر کا معیار بنایا گیا تھا ان میں گیہوں سب سے زیادہ قیمتی چیز تھی، اس لئے دوسری چیز ایک صاع مقدار میں واجب قرار دی گئیں اور گہیوں نصف صاع ۔ لیکن اب معاملہ اس کے برعکس ہے ۔اس لئے خاکسار کی رائے یہ ہے کہ جن لوگوں پر صدقئہ فطر واجب ہے ان میں سے جو زیادہ متمول ہیں یا بڑے تاجر ہیں ان کو کجھور اور کشمش کی قیمت سے صدقئہ فطر ادا کرنا چاہئے اور جو ان سے کم درجے کے ہیں ان کو بھی نصف صاع گیہوں کے بجائے ایک صاع گہیوں کی قیمت صدقہ فطر ادا کرنا چاہئے تاکہ تمام روایات پر عمل ہو جائے. اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ ***










