*مولانامحمدعلیم الدین فیضی الرضوی*
خطیب وامام ایم، اے، ایم، سی جامع مسجد درگاپور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہِ محرم الحرام اسلامی سال کا ابتدائی مہینہ ہے جسے اللّٰہ رب العزت نے بےپناہ رحمتیں ، عظمتیں ،فضیلتیں اور برکتیں عطا کی ہیں ۔
اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس کااسلامی سال محرم الحرام میں حضرت عمرفاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ، حضرت سیدنا امام حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اور ان کے رفقاء کی بےمثال قربانی سے شروع ہوکرحضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی لازوال قربانی پر اختتام ہوتاہے ۔ یہ ماہِ مبارک اپنےدامن میں متعدد خصوصیات سمیٹے ہوئے ہے ۔ سیدعالم ﷺ کا ارشاد مبارکہ ہے جوبندۂ مومن دسویں محرم الحرام ( یومِ عاشورہ) کا روزہ رکھے اللّٰہ تعالٰی اسے ہزارحج ، ہزارعمرےاور ہزار شہیدوں کا ثواب عطا کرتاہے اور دس ہزار فرشتوں کا ثواب عطا فرماتاہے ۔ اللّٰہ رب العزت نے یومِ عاشورہ کو آدم علیہ السلام کو برگزیدہ کیا ، اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کوہِ جودی پر قرار دیا ، اسی دن حضرت ادریس علیہ السلام کو مکان علیا کی طرف اٹھایا ، اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کودوبارہ حکمرانی وسلطانی پر فائزکیا، اسی دن حضرت ابراھیم علیہ السلام کو خلیل بنایا ، اسی دن حضوراکرم ﷺ کےساتھ ام المؤمنین حضرت خدیجةالکبریٰ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھاکا نکاح آسمانوں پرکیا، اسی دن آسمان وزمین ، لوح وقلم اور آدم وحوا کی تخلیق فرمائی ۔ یومِ عاشورہ کی عظمت واہمیت اس لئےاور بڑھ جاتی ہےکہ اسی دن حضرت سیدناامام حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اپنےرفقاءکےساتھ شہادت عظمیٰ سے سرفراز ہوئے۔ امام عالی مقام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی شہادت یہ ایسا المناک سانحہ ہےکہ صدیاں گزرگئیں گلشنِ دہر میں ہزاربار بہاروخزاں کےموسم آئے اور گزر گئے لیکن چشم فلک آج بھی اس دلخراش داستان کی یاد میں اسی طرح اشکبار ہے اور فرات کی لہریں آج بھی شہیدِ کربلا کی مظلومیت پر سر پیٹ رہی ہیں خاکِ کربلا کا ذرہ ذرہ اس مجاہدِ اعظم کی عظمتوں اور سرفروشانہ رفعتوں کی داستان آج بھی سنارہاہے اور اس پیکرِِ صبرواستقلال اورجرأت واستقامت کے زریں کارناموں کی یاد تازہ کررہی ہے۔ یزیدی مٹ گئے اس کی نام نہاد عظمت وشوکت کے تخت اوندھے ہوگئے اس کی روحوں کوسلام کرنےوالا اور اس کی قبروں پر فاتحہ پڑھنے والا ایک انسان بھی باقی نہ رہا ۔ پوری کائنات میں ایک بھی زبان نہیں جو ابنِ زیاد اور ابنِ سعد کا قصیدہ پڑھے اور کوئی آنکھ نہیں جو یزیدیوں کےلئے اشکبار ہو اور کوئی دل نہیں جوکوفیوں کےلئے بےچین ومضطرب ہو۔ مگر واہ رے حسین ! صدیاں گزرجانےکےبعد بھی آپ کاخون انتہائی بےبسی وبےکسی کےعالم میں فرات کے کنارے بہایاگیا آج آپ کی شہنشاہی اور فرمانروائی روحوں اور دلوں پر قائم ودائم ہے اور قیامت تک قائم ودائم ریےگی۔
مگر افسوس کہ ہمیں تقوٰی وطہارت اختیار کر نےکےبجائے محرم الحرام کا آغاز ہوتےہی مروجہ تعزیہ داری ، ڈھول تاشے ، اور قسم قسم کے گانے بجانے اورگوناگوں خرافات میں ملوث ہوکر اس ماہ کےتقدس کو پامال کرنےمیں مصروف ہوجاتے ہیں۔ یہ بات اپنے اذہان وقلوب کے حسین گوشےمیں محفوظ رکھنے کی ضرورت ہےکہ ہم مسلمان ہیں اپنے عظیم اوربےمثال آئیڈیل محسن اعظم ﷺ پر اپنی جان نچھاورکرتے ہیں فاتحِ خیبر مولاعلی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے دلارے ، سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھاکے جگر پارے ، شفیع اعظم ﷺ کے نواسے سیدنا امام حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی مقدس اور عظیم ہستی پر مرمٹتے ہیں پھر تعزیہ داری کرنا، تعزیہ پرمنتیں ماننا، تعزیہ کےپاس مرثیہ پڑھنا، تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا، پھراس چڑھاوے کاکھانا، پیک باندھنا، اظہارِغم کےلئے سرکےبال بکھیرنا، سرپرخاک ڈالنا، کپڑے پھاڑنا، پرانےکپڑے نہ اتارنا، نئےاورصاف ستھرےکپڑےنہ پہننا، گھرمیں جھاڑو نہ دینا، اس ماہ کےابتدائی دس دنوں میں روٹی نہ پکانا، اس کےعلاوہ اوربھی ایسے خرافات ہیں جوبلا تکلف عمل میں لاتےہیں یہ کس قدراحمقانہ اور جاہلانہ فعل ہے ۔ یاد رکھیں ! یہ تمام خرافات اور غیراسلامی رسومات بےاصل ہیں شریعتِ مطہرہ میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان خرافات اورافعال قبیحہ سےہرگزہرگز سیدناامام حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ خوش نہیں ۔ یہ بات قابلِ غور ہےکہ سیدنا امام حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ احیائے دین وسنت کےلئے بےمثال قربانیاں پیش کیں مگر حیف صد حیف کہ ہم لوگوں نے اسےبدعات کا ذریعہ بنالیا ۔ اسلام میں سوگ ( غم ) کے تین ایام ہیں حدیث پاک میں ہمیں حکم دیاگیاہےکہ کسی کی وفات پر تین دن سے زیادہ غم نہ منائیں مگر شوہر کی وفات پر بیوی چارماہ دس دن غم منائےگی ( صحیح بخاری شریف جلداول ص 804 ) اہل اسلام کو چاہئےکہ محرم الحرام میں مذکورہ بالا تمام خرافات سے بچیں ۔ ٩ اور ١٠ محرم الحرام کو روزہ رکھیں شہدائے کربلاکی یادمیں محفلیں منعقد کریں دودھ اور شربت پلائیں سبیلیں لگائیں بھوکوں کوکھانا کھلائیں غسل کریں اچھے کپڑے پہنیں صدقہ وخیرات کریں۔ سید عالم ﷺ کا ارشاد عظیم ہے ، میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں جن کی بھی اقتداکروگے ہدایت پاجاؤگے اور میرے اہلبیت اطہار کشتیٔ نوح کی مانند ہیں جواس میں سوار ہوگیا نجات پاگیااور جو پیچھےہٹارہاوہ ہلاک ہوگیا ۔ گویا منزل پر پہنچنےکےلئے اہلبیت اطہار کی محبت کی کشتی میں سوارہونا ضروری ہے اور حصولِ منزل کےلئے ستاروں سے رہنمائی لینا ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















