اسلامی سالِ نو کا آغاز ماہِ محرم الحرام کے ذریعہ سے ہوتا ہے،محرم الحرام اسلامی تقویم ہجری کاپہلا مہینہ ہے،حرم کے معنی پُرعظمت اور مقدس کے ہیں،محرم الحرام کا مہینہ عظمت والا اوربابرکت مہینہ ہے،اسی ماہ مبارک سے ھجری سال کی ابتداء ہوتی ہے،اسلامی تاریخ کی ابتداء اس وقت ہوئی جب آپ علیہ السلام مکہ سے ہجرت کرکے قبا پہنچے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی ابتداء کی اور اس کا پہلا مہینہ محرم کو قرار دیا (سیرت خاتم الانبیاء: ۵۹)
ماہِ محرم الحرام اپنی فضیلت و عظمت حرمت و برکت اور مقام و مرتبہ کے لحاظ سے انفرادی خصوصیت کے حامل ہیں؛جیسے ہی محرم الحرام کی آمد ہوتی ہے مسلمانوں کے دل و دماغ میں کرب انگیز واقعات؛خونچکاں داستانیں اور دلدوز کہانیاں ابھرنے اور اتھل پتھل کرنے لگتی ہیں؛ قارئین!تاریخ و سیر سے واقفیت رکھنے والے حضرات کو بخوبی معلوم ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ تک بڑے بڑے واقعات اسی ماہ میں ظہور پذیر ہوئے۔۔
ازروئے یقین یہ بات ذی شعور وحساس اور اہلِ علم حضرات سے مخفی نہیں ہے کہ سال کے بارہ مہینوں میں چار مہینے ایسے ہیں جو اپنی ذات کے اعتبار سے دوسرے مہینوں پر فضیلت اور حیثیت رکھتے ہیں،پہلا… ذیقعدہ،ذی الحجہ، محرم اور چوتھا رجب مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ہے،اور محرم الحرام بھی ان چار مہینوں میں سے ہے،جس کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن کریم میں کیا ہے،نیز محرم الحرام جو اپنی برکات و فضائل میں اپنی مثال آپ ہے۔۔یوں تو مسلمانوں کو ہر دن اور ہر مہینے جنگ وجدال اور ذنوب ومعاصی سے احتراز کرنا چاہیے اور گناہوں کا ارتکاب یا نیکیوں کو ترک کر کے اپنے نفس پر ظلم نہیں کرنا چاہیے مگر چار حرمت والے ان مہینوں میں خصوصی طور پر معاصی اور جدال وقتال سے احتراز کرنا چاہیے۔۔
قارئین!یوم عاشورہ بڑا ہی مہتم بالشان اور عظمت کا حامل دن ہے، تاریخ کے عظیم واقعات اس سے جڑے ہوئے ہیں۔
تحریر کا مطمح نظر یوم عاشورہ کے بدعات و خرافات کی نشان دہی ہے؛ تاکہ اعتدال کے ساتھ ان امور کو انجام دیا جائے جن کا شریعت نے حکم دیا ہے اور ان سے بچنے کی کوشش کی جائے جن سے منع کیاہے۔
اے بہی خاہان قوم! یادر رکھیں اس دن شیعہ کی اکثریت جماعت پیغمبر اسلام محمدﷺ کے نواسے حسین رضی اللہ عنہ ابن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کو مختلف طریقوں سے یاد کرتے ہیں،خیر اہل تشیع کا عقیدہ یہ ہی ہے۔
لیکن حیف در حیف! کچھ سنی مسلمان بھی اس ماہ کی دسیوں تاریخ میں اس قدر بے حیائی و خرافات و شراب نوشی و زناکاری کرتے ہیں الامان الحفیظ۔
شہر بھر کی تمام عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے جنہیں دیکھنے کے لئے لوگ دور دور سے پہنچتے ہیں،مساجد، گھروں، دفاتر، اندرون شہر گلیوں و مارکیٹوں اور سڑکوں کو مختلف قسم کی روشنیوں،اور خوبصورت جھنڈیوں سے سجایا جاتا ہے۔
یقیناً: یہ بات آپ سے مخفی نہیں ہے کہ لوگ یوم عاشورہ میں جلوس نکالتے ہیں جس میں زیادہ تر لڑکیوں کی بھیڑ ہوتی ہیں،نیم لباس میں ملبوس لڑکیاں پوری رات جلوس میں شریک رہتی ہیں ۔العیاذ باللہ!
یوم عاشورہ میں لوگ ثواب حاصل کرنے کی غرض سے لوگوں کو کھانا کھاتے ہیں حالانکہ دسویں محرم کو ثواب کی نیت سے غریبوں ومساکین کو یا اعزہ واقربا کو کھانا کھلانے کی کوئی فضیلت وارد نہیں ہوئی. ۔
یوم عاشورہ میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اجمعین کی شہادت کے غم میں نوحہ اور ماتم کرنے کا رواج عام ہو چکا ہے،مرثیے پڑھے جاتے ہیں، نوحے اور ماتم کے پروگرام اور مجالس منعقد کی جاتی ہے، پوسٹس بنا کر شیئر کی جاتی ہیں، الغرض غم پھیلانے، غم بڑھانے، خود رونے اور دوسرے کو رلانے کا بھر پور مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ جملہ فعل شریعت کی تعلیمات کے مزاج کے خلاف ہے ۔
یوم عاشورہ میں خصوصا: نوحہ و ماتم سینہ کوبی، شمشیرزنی، چیخ چیخ کر یا حسین کے نعرے بازی اور تعزیہ نکالنا وغیرہ، ایک بہت بڑی جہالت اور نادانی ہے۔
مگرافسوس کہ موجودہ دور کے مسلمان شہادت حسین رضی اللہ عنہ سےحاصل شدہ پیغام کو بالکل بھول چکے ہیں، اور عاشورہ کے دن شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے غم میں طرح طرح کے بدعات وخرافات(یعنی نوحہ وماتم ،سینہ کوبی، شمشیر زنی، چیخ چیخ کرحضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نعرے لگانا، تعزیہ داری اور ڈھول بجانا وغیرہ )انجام دیتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ تعزیہ انسان اپنے ہاتھ سے تراش کر بناتا ہے پھر منت مانی جاتی ہے اور اس کے سامنے اولاد وغیرہ کی صحت کی دعائیں مانگی جاتی ہیں اس کو سجدہ کیا جاتا ہے اس کی زیارت کو زیارت حسین سمجھا جاتا ہے، مذکورہ باتیں از روئے شرع بالکل غلط ہے۔
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس مہینے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ، ان کے اہل و عیال اور ان کے جانثار ساتھیوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا تھا، اس لیے یہ مہینہ غم کا مہینہ ہے اور وہ لوگ اس کو سوگ کا مہینہ قرار دے کر خوشیوں کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں، شادی بیاہ بھی نہیں کرتے، مکان کی تعمیر بھی نہیں کرتے، خوشی کی کوئی بھی تقریب نہیں کرتے، زیب وزینت اختیار نہیں کرتے، نئے کپڑے نہیں پہنتے اور غم کے اظہار کے لیے اس مہینے میں سیاہ لباس پہنتے ہیں، سوگ مناتے ہیں۔
حق جل مجدہ ہمیں اسلامی سال نو کے تمام بدعات و خرافات سے مامون رکھے، اور صحیح دین پر چل نےکی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)










