ہے آج دن کی طرح رات مصطفٰےآئے
کہ لے کے نور کی برسات مصطفٰےآئے
فلک سے سوئے زمیں آفرین زندہ باد
سبھی پہ کرتے عنایات مصطفٰےآئے
سنا ہے تم نےکہ جسمِ بشر میں ہی اک شب
خدا سے کرکے ملاقات مصطفٰےآئے
جہان و زیست کی ظلمت کو جو کرے روشن
وہ بن کے نور کی اک ذات مصطفٰےآئے
کرم تو دیکھئے ہم عاصیوں کو دینے کو
بہشتوں حوروں کی سوغات مصطفٰےآئے
دکھا کے معجزے گاہے بہ گاہے زندہ باد
مٹانے زورِ طلسمات مصطفٰےآئے
جہاں میں رحمتیں عنقا بہت ہی عنقا تھیں
انھیں کی کرنےکو بہتات مصطفٰےآئے
چلے بھی آؤ عزیزو کہ ہم سبھی گائیں
درودِ پاک کے نغمات مصطفٰےآئے
“ذکی” جو کانوں میں پڑتے ہی روح گرما دیں
لبوں پہ رکھ کے وہ آیات مصطفٰےآئے
ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج، بارہ بنکی، ہوپی


Post Views: 186










