*وَالعصر..!! خَسارے ہی خَسارے میں ہے اِنسان*
تحریر۔ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج،بارہ بنکی
دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا لمحہ ہو جب انسان نے خود کو اتنا طاقت ور سمجھا ہو جتنا آج سمجھتا ہے، اور شاید ہی کوئی ایسا زمانہ ہو جب وہ اندر سے اتنا کمزور بھی رہا ہو جتنا آج ہے۔ بلند عمارتیں، تیز رفتار زندگی، ہاتھوں میں سمٹی ہوئی دنیا، مصنوعی ذہانت اور ترقی کے دعوے ،سب کچھ موجود ہے، مگر انسان کے چہرے پر اطمینان نہیں۔ دل بے چین ہے، ذہن منتشر ہے اور روح تھکی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ایسے میں قرآن کی مختصر ترین مگر جامع ترین سورت کی صدا گونجتی ہے، “وَالعصر” زمانے کی قسم!،اور یوں لگتا ہے جیسے وقت خود انسان کے خلاف گواہی دینے کھڑا ہو گیا ہو۔
وقت کبھی رکتا نہیں، مگر انسان اکثر رک جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ زندگی بہت لمبی ہے، مواقع ختم نہیں ہوں گے، غلطیوں کی اصلاح کا وقت ہمیشہ باقی رہے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت خاموشی سے انسان کے اعمال کو تولتا رہتا ہے۔ ہر گزرتا لمحہ یا تو انسان کو کامیابی کے قریب لے جاتا ہے یا خسارے کی گہرائی میں دھکیل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے وقت کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ انسان خسارے میں ہے — یعنی اصل حالت کامیابی نہیں بلکہ نقصان ہے، جب تک کہ انسان خود کو بدلنے کی کوشش نہ کرے۔
آج کا انسان مصروف ضرور ہے مگر مقصد سے خالی ہے۔ وہ صبح سے شام تک دوڑتا ہے، مگر اسے معلوم نہیں کہ وہ کس منزل کی طرف جا رہا ہے۔ ترقی کی دوڑ میں اس نے سکون کھو دیا، مقابلے کی آگ میں رشتے جلا دیے، اور خواہشات کی تکمیل میں اپنی روح کو تھکا دیا۔ عجیب المیہ یہ ہے کہ جتنا انسان نے دنیا کو فتح کیا، اتنا ہی خود سے ہار گیا۔ وہ دوسروں کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو گیا مگر اپنے باطن کو مطمئن نہ کر سکا۔
خسارہ صرف مالی نقصان کا نام نہیں۔ اصل خسارہ وہ ہے جب انسان اپنی اصل پہچان کھو دے۔ جب سچ بولنا مشکل لگنے لگے، انصاف بوجھ محسوس ہونے لگے، اور ضمیر کی آواز شور میں دب جائے،تب انسان واقعی خسارے میں ہوتا ہے۔ آج معاشرہ اسی خاموش زوال کا شکار ہے۔ جھوٹ کو حکمت کہا جا رہا ہے، مفاد کو عقل مندی اور بے حسی کو عملی زندگی کا اصول بنا لیا گیا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ انسان وقت کو سب سے سستا سمجھتا ہے، حالانکہ یہی سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ دولت واپس آ سکتی ہے، صحت دوبارہ حاصل ہو سکتی ہے، مگر گزرا ہوا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔ ہم گھنٹوں فضول گفتگو میں گزار دیتے ہیں، دن بے مقصد مصروفیات میں ضائع کر دیتے ہیں، اور پھر زندگی کے کسی موڑ پر کھڑے ہو کر سوچتے ہیں کہ آخر ہم نے حاصل کیا کیا؟ یہی احساس دراصل خسارے کا پہلا شعور ہوتا ہے۔
سورۂ العصر انسان کو مایوسی نہیں بلکہ راستہ دکھاتی ہے۔ اعلانِ خسارہ کے فوراً بعد نجات کا فارمولا پیش کیا جاتا ہے: ایمان، عملِ صالح، حق کی تلقین اور صبر کی تلقین۔ یہ چار اصول دراصل انسانی زندگی کا مکمل نظام ہیں۔ ایمان انسان کو مقصد دیتا ہے، عملِ صالح اسے کردار دیتا ہے، حق کی تلقین معاشرے کو درست سمت دیتی ہے، اور صبر انسان کو استقامت عطا کرتا ہے۔
ایمان صرف عقیدہ نہیں بلکہ شعور ہے، یہ احساس کہ انسان تنہا نہیں، اس کے ہر عمل کا ایک معنی ہے، ہر فیصلہ ایک جواب دہی سے جڑا ہے۔ جب یہ شعور زندہ ہو جائے تو انسان اندھیرے میں بھی راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ مگر جب ایمان رسم بن جائے اور زندگی سے جدا ہو جائے تو انسان بظاہر کامیاب مگر حقیقت میں کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
عملِ صالح کا تعلق صرف عبادات تک محدود نہیں۔ کسی کا دل نہ دکھانا، انصاف کرنا، ذمہ داری پوری کرنا، کمزور کا سہارا بننا، یہ سب عملِ صالح ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے نیکی کو چند مخصوص دائروں تک محدود کر دیا ہے، جبکہ معاشرتی کردار کو نظر انداز کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عبادت گاہیں آباد ہوئیں مگر دل ویران ہوتے گئے۔
حق کی تلقین آج کے دور کا سب سے مشکل کام بن چکی ہے۔ سچ کہنا خطرہ محسوس ہوتا ہے، غلطی کی نشاندہی دشمنی بن جاتی ہے۔ لوگ خاموش رہنے کو عقل مندی سمجھنے لگے ہیں۔ مگر معاشرے کی اصلاح خاموشی سے نہیں ہوتی۔ جب اچھے لوگ خاموش ہو جائیں تو برائی کو راستہ مل جاتا ہے۔ سورۂ العصر دراصل انسان کو یہ ذمہ داری یاد دلاتی ہے کہ وہ صرف اپنی اصلاح پر اکتفا نہ کرے بلکہ دوسروں کے لیے بھی خیر کا ذریعہ بنے۔
صبر کی تلقین اس راستے کی آخری اور سب سے اہم شرط ہے۔ تبدیلی فوری نہیں آتی۔ حق کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ انسان کو مخالفت، تنقید اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر صبر وہ قوت ہے جو انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتی۔ صبر کمزوری نہیں بلکہ مضبوطی کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔
آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو محسوس ہوگا کہ انسان کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ سمت کی کمی ہے۔ علم بڑھ گیا مگر حکمت کم ہو گئی۔ رابطے بڑھ گئے مگر تعلق کمزور ہو گئے۔ معلومات کی فراوانی ہے مگر شعور نایاب ہو گیا۔ یہی وہ خسارہ ہے جس کی طرف قرآن نے صدیوں پہلے اشارہ کر دیا تھا۔
انسان اپنی زندگی کو سنوارنے کے لیے بڑی بڑی منصوبہ بندیاں کرتا ہے، مگر خود احتسابی کے لیے چند لمحے بھی نکالنا مشکل سمجھتا ہے۔ حالانکہ کامیابی کا آغاز باہر سے نہیں بلکہ اندر سے ہوتا ہے۔ جب انسان اپنے اعمال، نیتوں اور ترجیحات کا جائزہ لیتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اصل تبدیلی کہاں درکار ہے۔
وقت کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ وہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ آج جو لمحہ ہمارے پاس ہے، کل تاریخ بن جائے گا۔ جو الفاظ ہم آج بول رہے ہیں، وہی کل ہماری پہچان ہوں گے۔ جو فیصلے آج ہم کر رہے ہیں، وہی ہماری تقدیر کا حصہ بنیں گے۔ اس لیے عقل مند وہی ہے جو وقت کو صرف گزارنے کی چیز نہیں بلکہ سنوارنے کا موقع سمجھے۔
“وَالعصر” دراصل ایک تنبیہ بھی ہے اور ایک امید بھی۔ تنبیہ اس لیے کہ انسان اپنی غفلت سے جاگ جائے، اور امید اس لیے کہ نجات کا راستہ بند نہیں۔ جب تک سانس باقی ہے، اصلاح ممکن ہے۔ انسان اگر چاہے تو خسارے سے نکل کر کامیابی کی طرف لوٹ سکتا ہے۔
زندگی کی شام اچانک آتی ہے۔ انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ ابھی تو بہت وقت تھا۔ مگر وقت ہمیشہ کم ہی ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان خود سے سوال کرے: کیا میری مصروفیت مجھے مقصد کے قریب لے جا رہی ہے یا صرف تھکا رہی ہے؟ کیا میری کامیابی صرف دنیا تک محدود ہے یا آخرت تک بھی پھیلی ہوئی ہے؟ کیا میں وقت کا مالک بن رہا ہوں یا وقت مجھے خاموشی سے شکست دے رہا ہے؟
شاید یہی لمحہ بیداری کا ہو۔ شاید یہی وہ وقت ہے جب انسان رک کر اپنے اندر جھانکے، اپنے سفر کا رخ درست کرے اور زندگی کو محض گزارنے کے بجائے معنی عطا کرے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ زمانہ گزر رہا ہے، اور زمانہ گواہی دے رہا ہے ۔اگر انسان نے خود کو نہ بدلا تو وہ خسارے ہی خسارے میں رہے گا۔
وَالعصر… وقت اب بھی پکار رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ زمانہ بدل رہا ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا انسان خود کو بدلنے کے لیے تیار ہے؟
مضمون نگار،آل انڈیا ماٸنا ریٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے شعبہ نشرواشاعت کے سیکرٹری ہیں۔










