*چھ سالہ ہانیہ ایشال اور نو سالہ حفظہ ارم نے رکھا پہلا روزہ*
لکھنؤ (پریس ریلیز/ابوشحمہ انصاری): رمضان ایک بابرکت اور مقدس مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے مسلمان پورے مہینے روزے رکھتے اور عبادات میں مشغول رہتے ہیں۔ اس مبارک مہینے کی روحانی فضا میں جہاں بڑے اور بزرگ عبادت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، وہیں بچے بھی نہایت شوق اور عقیدت کے ساتھ روزہ اور عبادت میں شریک ہو کر اس کی رونق کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
اسی سلسلے میں پروفیسر داؤد احمد کی چھ سالہ بیٹی ہانیہ ایشال اور شہباز احمد کی نو سالہ بیٹی حفظہ ارم نے اپنا پہلا روزہ رکھا۔ اس خوشی کے موقع پر گھر میں خوشگوار اور روحانی ماحول دیکھنے کو ملا۔ ہانیہ ایشال اور حفظہ ارم کے پہلے روزے پر اہلِ خانہ نے خوشی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر نانا ظہیر الدین، بڑے ابو محمد مزمل، ماموں شہباز احمد، شہنواز احمد اور شہنشاہ عالم، بہن ضیا عرش، بھائی محمد ضیان، عامر جمال اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے بچوں کو دعاؤں سے نوازا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
اس موقع پر پروفیسر داؤد احمد کے قریبی دوستوں میں پروفیسر محمد سعید، ڈاکٹر عبدالرشید صدیقی، مولانا محمد خلیل، مولانا عبد الرحمن، حافظ محمد عمران (استاذِ ہانیہ)، محمد صغیر، اشتیاق احمد، محمد متین اور فیضی رئیس نے بھی ہانیہ ایشال اور حفظہ ارم کو مبارک باد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
مہمانوں نے کہا کہ بچوں کا کم عمری میں اللہ کی رضا کے لیے عبادات کی طرف راغب ہونا ایک خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے ہانیہ ایشال اور حفظہ ارم کے لیے صحت، کامیابی اور دین پر قائم رہنے کی دعا کی۔










