*سرفرازاحمدقاسمی* حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
ملک کے مختلف حصوں میں فرقہ وارانہ منافرت ان دنوں عروج پر ہے،شاید اب کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں نفرت کی آگ نہ دہک رہی ہو،گزشتہ 6 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف انڈیا کے عظیم الشان مرکزی حال میں وہ ناقابل یقین واقعہ پیش آیا، جس نے نہ صرف عدالتی اقدار بلکہ ملک کے اجتماعی ضمیر پر شدید سوالات اٹھا دئے،ملک کی بلند ترین عدالت کی کرسی پر فائز چیف جسٹس بی آر گوائی وکلاء کے مقدمات سن رہے تھے کہ اسی درمیان بار کونسل آف دہلی کے رجسٹرڈ ایک سینئر وکیل راکیش کشور اچانک جج کے ڈائس کے قریب پہنچا،اپنا جوتا اتارا اور چیف جسٹس کی سمت پھینکنے کی کوشش کی،اس وقت موجود سیکورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر اس حرکت کو ناکام بنا کر کشور کو عدالتی حال سے باہر لے کر چلے گئے۔اس ہنگامہ آرائی کے دوران ملزم وکیل نے زور سے چیخ چیخ کر یہ کہا کہ ہم سناتن کی توہین برداشت نہیں کریں گے اور سناتن کا اپمان نہیں سہے گا ہندوستان،اس نعرے نے پورے واقعے کو محض فرد واحد کے جنون سے کہیں آگے ایک مخصوص نظریاتی غصے اور عدم برداشت کے منظم اظہار میں بدل دیا،اس سانحہ پر ساری عدالت ہکا بکا رہ گئی، مگر چیف جسٹس بی آر گوائی نے غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کورٹ میں موجود وکلاء کو صبر و ضبط کی تلقین کی اور عدالتی کاروائی بغیر تعطل کے جاری رکھی،یہ واقعہ صرف عدالتی بدتمیزی نہیں بلکہ گہری،تاریخی اور سماجی رینج میں چلتے رجحان کی انتہا ہے،جسٹس گوائی ہندوستان کے دوسرے دلت چیف جسٹس ہیں اور اپنی شناخت میں بدھ مت کے پیروکار بھی ہیں،حملہ آور وکیل کی مذہبی بنیاد پر برہم نظریاتی کیفیت اور اس کا نعرہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں عدلیہ کے وقار کے بجائے اب مقدس روایتوں اور ذاتی تعصبات کو اولیت ملنے لگی ہے۔مبینہ طور پر یہ واقعہ کھجورا ہو کے جواری مندر میں بھگوان بشنو کی سات فٹ اونچی مورتی کی دوبارہ تنصیب کی درخواست سے متعلق ہے،جو 16 ستمبر کو سپریم کورٹ کی بینچ نے مسترد کر دی تھی،اس موقع پر چیف جسٹس گوائی نے کہا تھا کہ یہ پبلک انٹرسٹ لیٹیگیشن ہے،جا کر خود دیوتا سے کچھ کہیے،اس بیان کو دائیں بازو کے حلقوں میں مذہبی توہین قرار دیا گیا اور سوشل میڈیا پر بھرپور مذمت میں مہم چلی،اس غبار کو کچھ حلقوں نے چیف جسٹس کے نجی مذہبی رجحان سے بھی جوڑنے کی کوشش کی اور یہ سوال اٹھایا کہ اگر وہ اونچی ذات کے ہندو ہوتے تو کیا حملہ آور اتنی جرات کرتا؟بار کونسل آف انڈیا نے فوری رد عمل دکھاتے ہوئے راکیش کشور کو تمام عدالتی کاروائیوں،پریکٹس اور وکالتی خدمات سے معطل کر دیا،چیئرمین منن کمار مشرا کے عبوری حکم نامے میں اس عمل کو عدلیہ کے وقار،ایڈوکیٹس ایکٹ اور بار کونسل کے قواعد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مزید تادیبی کاروائی کا عندیہ دیا گیا،ساتھ ہی دہلی بار کونسل کو عمل درآمد کی ہدایت بھی جاری کی گئی،سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی عدم دلچسپی کی بنا پر تین گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد دہلی پولیس نے کشور کو رہا کر دیا، اس ہنگامہ خیز منظر نامے کا المیہ یہ ہے کہ ملکی میڈیا نے اس سنجیدہ واقعے کی مذمت بالفاظ بلند کرنے کے بجائے حملہ آور وکیل کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کی قابل غور یہ بھی ہے کہ جب اتر پردیش،اڈیشہ اور بریلی جیسے شہروں میں دلتوں اور اقلیتوں پر مظالم کے واقعات ہوئے تو یہی میڈیا خاموش تماشائی بنا رہا، نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 کے دوران دلتوں کے خلاف جرائم میں کوئی خاطرخواہ کمی نہ ہوسکی، بلکہ کئی ریاستوں میں اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہی دیکھنے میں آیا،ابھی چند یوم قبل ہی اتر پردیش میں کسی دلت نوجوان کی قتل اور مذہبی نعرے پر بریلی میں ہنگامہ جیسے واقعات میڈیا میں اپنی اہمیت کے مطابق جگہ نہ پا سکے،اڈیشہ میں مورتی و سرجن پر فرقہ وارانہ فساد اور ملک بھر میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے تشدد کو کسی بھی سنجیدہ ضابطے میں اب تک نہ لیا گیا،جسکا نتیجہ یہ ہے کہ اب یہ آگ عدالت عظمی تک پہونچ چکی ہے،یہ صورتحال نہ صرف آئینی مساوات بلکہ عدلیہ کے وقار کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے،اہم سیاسی جماعتیں بھی اس بحران کو اجاگر کرنے کی کوشش کررہی ہیں،کانگریس قائد راہل گاندھی اور صدر ملکار جن کھڑگے نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں دلتوں، قبائلیوں اور مسلمانوں سمیت تمام پسماندہ طبقات کو ملک میں نشانہ بنائے جانے پر شدید مذمت کی،موجودہ حکومت اور میڈیا کے متعصبانہ رویے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ انصاف کی جگہ بیلوں اور خوف نے لے لی ہے،ملک کے سینئر لیڈر شرد پوار نے کہا کہ انصاف کے اعلی ترین ادارے میں چیف جسٹس آف انڈیا پر حملہ کرنے کی کوشش نہ صرف عدلیہ پر حملہ ہے،بلکہ ہماری جمہوریت،ہمارے آئین اور ہماری قوم کی بھیانک توہین ہے،انھوں نے کہا کہ عدلیہ کا مقصد جمہوریت اور آئینی اقدار کو برقرار رکھناہے،انہوں نے مزید کہا ہے کہ عدلیہ ملک میں جمہوری اقدار کے تحفظ اور اختلاف رائے کو منصفانہ انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے،اس طرح کی حرکتیں ملک کی بنیادی روح کے خلاف ہیں اور اسے کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا،موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں آئینی اداروں کو کمزور کرنے کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے اور ہمارے ملک میں گزشتہ کچھ برسوں سے جو زہر پھیلایا جا رہا ہے وہ اب اعلی ترین آئینی اداروں کا بھی احترام نہیں کرتا،یہ ملک کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے، انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ہندوستانی جمہوریت کے ستونوں کو کمزور نہیں ہونے دیں گے،اب تمام جماعتوں اور شہریوں کو جمہوری اداروں کے وقار اور تحفظ کے لئے کھڑا ہونا چاہئے، ملک کی فضاء میں ہر جانب نفرت کا زہر گھول دیا گیا ہے۔اس سے پورے منظر نامے میں اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہم ایسے ہندوستان کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں مذہبی اور طبقاتی تفاخر کے سامنے آئینی اور عدالتی وقار بے وقعت ہوکر رہ جاتے ہیں،آج جسٹس گوائی پر جوتا پھینکا گیا مگر اصل ہدف ہمارا مشترک آئینی ضمیر ہے،ہندوستانی معاشرے کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ قانون و انصاف کے دیپ جلائے رکھنا چاہتا ہے یا نفرت اور تعصب کی آندھی میں یہ چراغ بھی بجھ جانے دینا چاہتا ہے،یہ جوتا دراصل اس تاریخی راستے پر ایک تازیانہ ہے جس پر ہندوستان کی جمہوریت قدم بہ قدم آگے بڑھ رہی ہے۔
کمرہ عدالت میں چیف جسٹس کے ساتھ یہ حرکت کسی مجرم یا عام آدمی نے نہیں بلکہ ایک سینئر اور تجربہ کار وکیل نے کی ہے،اسی وجہ سے یہ حرکت اور یہ واقعہ مزید تشویش کا باعث ہیں،خاص طور پر اس لئے کہ حملہ آور وکیل نے یہ دعوی کرتے ہوئے حملہ کرنے کی کوشش کی کہ ہم سناتن کی توہین برداشت نہیں کریں گے،اس کے لئے چیف جسٹس کے کچھ حالیہ ریمارکس کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے،یہ بات کس قدر افسوسناک ہے کہ مذہبی جذبات کو ملک میں اس حد تک اشتعال دلایا گیا ہے کہ اب عمر رسیدہ وکیل بھی اس بیمار ذہنیت اور نفرت کا شکار ہونے لگے ہیں،ملک کے سب سے بڑے جسٹس کو ہی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے اور یہ حرکت کمرہ عدالت میں کی جا رہی ہے،اس سے پتہ چلتا ہے کہ سماج میں فرقہ پرستی، اور بیمار ذہنیت کا زہر کس حد تک گھولا جا چکا ہے،اور نفرت کی یہ جڑیں کہاں تک سرایت کرچکی ہیں،آخر ملک میں اب کون سا ایسا گوشہ باقی ہے جہاں نفرت کا یہ زہر نہیں پہنچا ہے؟ افسوس اس بات کا ہے کہ اس وکیل کو چند گھنٹوں کی پوچھ تاج بلکہ رسمی سوالات کے بعد گھر جانے کی اجازت بھی دے دی گئی اور اس وکیل نے اپنی شرمناک حرکت پر کسی طرح کے افسوس یا پچھتاوے کا اظہار بھی نہیں کیا ہے،یہ کتنا افسوسناک اور تشویش ناک پہلو ہے کہ ہمارے ملک کے چیف جسٹس بھی خود اپنے ہی کمرہ عدالت میں نشانہ بنائے جا رہے ہیں اور اس کے لئے ایسا عذر پیش کیا جا رہا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے،ملک کے تمام ججز،قانون کی بالادستی کے لئے قانون کے مطابق ہی کام کرتے ہیں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ان کے فیصلے پسند نہیں آتے،اگر مذہبی اشتعال کا سہارا لیتے ہوئے ملک کے چیف جسٹس کو ہی نشانہ بنایا جائے تو اس سے زیادہ افسوس اور تشویش کی بات کوئی اور نہیں ہو سکتی،جہاں تک پولیس یا نفاذ قانون کی ایجنسیوں کا سوال ہے ان کا رویہ اور بھی افسوسناک ہے، کیونکہ انہوں نے صرف معمولی سے سوالات کرتے ہوئے اس وکیل کو گھر جانے کی اجازت دے دی اور یہ عذر پیش کیا کہ اس تعلق سے کوئی رسمی شکایت درج نہیں کروائی گئی ہے، کیا پولیس اس غلط حرکت کا خود نوٹ لیتے ہوئے کاروائی نہیں کر سکتی؟اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر اس تعلق سے جو بحث شروع ہوئی ہے وہ اور بھی افسوسناک ہے،سوشل میڈیا پر ہندو توا گروپ کی جانب سے اس طرح کے حملے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ حالیہ عرصے میں مخالف ہندو تبصرے زیادہ کیے جا رہے تھے، جس کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے، کچھ گوشوں کا تاثر ہے کہ ملک میں ہندوؤں کے جذبات کا پاس و لحاظ کیا جانا چاہیے،اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اس طرح کے واقعات پیش آتے رہیں گے، یہ جو جواز پیش کیا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر جس طرح کے تبصرے کئے جا رہے ہیں وہ صورتحال کی سنگینی کو اور بھی واضح کر دیتے ہیں سماج میں کس طرح سے زہر گھولا گیا ہے اور ملک کی عدلیہ اور چیف جسٹس تک کو یہ بیمار ذہنیت رکھنے والے عناصر بخشنے کو تیار نہیں ہیں،ہمارے ملک کے چیف جسٹس نے انتہائی تحمل اور بردباری کا مظاہرہ تو کیا ہے اور اس حرکت پر مشتعل ہونے کے بجائے اپنے کام کاج کو ترجیح دی،انہوں نے ایک مثال ضرور قائم کی،تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ملک اور ملک کے عوام ایسی حرکت پر خاموش ہو جائیں اور پولیس یا سکیورٹی ایجنسیوں کا یہ جواز قبول کر لیں کہ اس معاملے میں کوئی رسمی شکایت درج نہیں کروائی گئی ہے،اس معاملے میں پولیس کو از خود نوٹ لیتے ہوئے کاروائی کی جانی چاہیے تھی،جس طرح دیگر بہت سے معالے میں پولیس متحرک ہوکر کام کرتی ہے،بار ایسوسی ایشن نے وکیل کو معطل کرتے ہوئے اچھا فیصلہ کیا ہے اور بار اسوسی ایشن کو پولیس میں شکایت بھی درج کروانی چاہیے،بہت سارے معاملے میں انصاف عدم فراہمی کے باوجود ملک کے عوام کا عدلیہ پر اب بھی اعتماد اور یقین ہے،عدلیہ کا وقار سب سے اعلی ہے اور اس کو تار تار کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جانی چاہیے اور نہ ہی ایسی حرکت کا کوئی جواز ہو سکتا ہے،ستم ظریفی دیکھئے کہ ملک کا گودی میڈیا بھی اس معاملے پر کسی طرح کا ہنگامہ کھڑا کرنے اور ایسی ذہنیت رکھنے والوں کے خلاف کاروائی پر زور دینے کو تیار نہیں ہے، اگر یہی حرکت کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والے فرد کی جانب سے کی گئی ہوتی تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا،اس کے سارے خاندان کے خلاف کاروائی کی جاتی اور انکے مکان پر بلڈوزر چل گیا ہوتا لیکن موجودہ معاملے میں ایسا کچھ نہیں کیا گیا اور یہ دوہرے معیارات اختیار کیے گئے جو انتہائی افسوسناک ہے۔
ہم سب پر لازم ہے کہ اس تازیانے کی گونج کو سن کر اپنی اصلاح کا در وا کریں وگرنہ آئین کا تحفظ صرف دفعات اور دفاتر تک محدود ہو کر رہ جائے گا،افسوس اس بات کا ہے کہ عدلیہ جو اس ملک کے آئین کی سب سے بڑی محافظ ہے وہ بھی اس نفرت کی زد میں ہے،اور نفرت کی آگ میں جھلس رہی ہے،چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس گوائی پر جوتا پھینکنے کا واقعہ صرف ایک فرد یا منصب کی توہین نہیں بلکہ اس ناقابل محافظ ذہنیت کا ثبوت ہے جو آئین،جمہوریت اور اخوت کے سارے اصولوں کو روند کر گویا ہندوستانیوں کو منو کے قانون کی ریاست بنانا چاہتی ہے،مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلی، کاسٹ ریلیوں پر پابندی جیسے اقدامات کرتے ہیں،عدلیہ تک ریزرویشن کے بیانیے کو متنازعہ بنانے والے فیصلے سامنے آتے ہیں اور کچھ انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والے لوگ آئینی مساوات کے بجائے قدامت،مراتب اور پیدائشی فوقیت کو معاشرتی اصول بنانا چاہتے ہیں،آج حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کا بنیادی مسئلہ مذہبی بنیاد پرستی نہیں بلکہ ذات پات کا جبر ہے جو بالخصوص اعلی تعلیم، عدلیہ،انتظامیہ اور سیاست تک پہنچ کر بھی کچلے ہوئے سماجی طبقات سے پیچھا نہیں چھوڑتا،اگر پورن کمار جیسا اعلی تعلیم یافتہ اور با اختیار دلت افسر بھی سرکاری جبر اور ذات پات کے زہر سے خودکشی پر مجبور کیا جا سکتا ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ سماج کی نچلی پرتوں میں یہ سلوک اور یہ رویہ کس قدر خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے،اب وقت آگیا ہے کہ آئینی جمہوریت بحث و اختلاف اور مساوات کے اصولوں کو ملکی تشخص کا مستقل ستون مانا جائے،ذات پات کے قیود اور جامد نظریات کو آئین پر قربان کرنے کا رجحان نہ رکا تو امبیڈکر کا سوال آج بھی تازیانہ بن کر گونجے گا کہ کیا ہندوستان کی جمہوریت اسی سطحی تہہ تک محدود رہے گی یا اس کی جڑیں فی الواقع جمہوری بن سکیں گی؟ ملک کے ادارے خصوصا عدلیہ اور انتظامیہ اگر ذات پات کے تعصب کے خلاف فیصلہ کن موقف اور علامتی رد عمل نہیں دکھاتے تو ہندوستان کو تقسیم کرنے والی طاقتیں ایک بار پھر سر اٹھا لیں گی اور آزادی، مساوات اور اخوت پر مبنی گاندھی، نہرو اور امبیڈ کر کا ہندوستان ہمیشہ کے لیے زوال آشنا ہوجائے گا۔
راحت اندوری نے درست کہا تھا کہ
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پر صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے۔
*مضمون نگار،معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com










