Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بدنام زمانہ مافیا کیبو عرف سُجَے پال دوبارہ گرفتار، اس بار غیر قانونی تانبا اور اسلحہ برآمد*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

بدنام مافیا کیبو عرف سُجَے پال ایک بار پھر گرفتار ہو گیا ہے۔ تاہم اس بار معاملہ غیر قانونی ریت کے کاروبار کا نہیں ہے۔ اس بار اس کی گاڑی سے غیر قانونی تانبا اور آتشیں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ درگاپور تھانے کی پولیس نے کیبو کو گرفتار کر کے درگاپور سب ڈویژنل عدالت میں پیش کیا۔پولیس ذرائع کے مطابق سنیچرکی رات درگاپور کے گاندھی موڑ پر ناکہ چیکنگ کے دوران پولیس نے جب ایک کالی گاڑی کو روکا۔ دیگر گاڑیوں کے ساتھ ضابطے کے مطابق سُجَے پال کی گاڑی کی بھی تلاشی لی گئی۔ گاڑی کے ڈِکی سے بڑی مقدار میں تانبے کے تار برآمد ہوئے، جس کا وزن تقریباً ڈیڑھ کوئنل تھا۔ جب اس سے پوچھ گچھ کی گئی کہ یہ تار کہاں سے آئے اور کہاں لے جائے جا رہے ہیں تو وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔ اس کی باتوں میں تضاد پایا گیا۔ گاڑی کی مزید تلاشی لینے پر ایک پستول بھی برآمد ہوئی، جس کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔قابلِ ذکر ہے کہ اگست 2021 میں نیو ٹاؤن شپ تھانے کی پولیس نے بھی کیبو کو گرفتار کیا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ نیو ٹاؤن شپ کے سبھاش پَلّی علاقے میں غیر قانونی ریت کے کاروبار میں ملوث ہے۔ کانکسا کے اجَے گھاٹ سمیت کئی مقامات سے اس نے اپنی نیٹ ورک کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے ریت کی سپلائی کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ اس کالے دَھندے کا بے تاج بادشاہ بن بیٹھا تھا۔ آسنسول-درگاپور پولیس کی خفیہ ٹیم کافی دنوں سے اسے پکڑنے کے لیے تاک میں تھی۔ ڈی وی سی موڑ کے قریب ایک مندر سے پولیس نے اسے گرفتار کیا تھا۔ اس وقت بھی اُس نے اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا، ”میں ٹھیکیدار ہوں، مجھے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔” لاک ڈاؤن اور اُس دوران غیر قانونی کوئلہ کان کنی پر سخت نگرانی کے سبب اس نے ریت کے غیر قانونی کاروبار میں خوب فائدہ اٹھایا۔ پولیس ذرائع کے مطابق واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے ریت کی ترسیل کا طریقہ بھی اسی کا ایجاد کردہ تھا۔ ہر گاڑی کی ”محفوظ ترسیل” کے لیے اسے فی گاڑی چار ہزار روپے دینا پڑتا تھا۔ 2021 میں گرفتاری کے بعد کیبو ضمانت پر رہا ہو گیا تھا۔اس کے بعد2023 میں ADDA کی جانب سے دیے گئے پارکنگ ٹینڈر میں بھی اس کا نام سامنے آیا۔ مگر پارکنگ کے ٹھیکے ملنے سے پہلے ہی اس کی کمپنی نے ADDA کے نام پر جعلی ٹکٹ چھاپ کر پیسے بٹورنے شروع کر دیے تھے۔ ساتھ ہی الزام یہ بھی تھا کہ اُن پارکنگ احاطے میں بھاری رقم کے عوض عارضی دکانیں بھی لگوا دی گئی تھیں۔ اگست 2024 میں ٹینڈر کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی اس کی کمپنی پارکنگ کے نام پر رقم وصول کر رہی تھی۔اب ایک بار پھر 2025 میں کیبو کو جیل جانا پڑا ہے۔ اس بار ریت نہیں بلکہ دھات کے غیر قانونی کاروبار میں اس کا نام سامنے آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریت کے کاروبار میں فائدہ نہ ہونے پر اس نے دھات کے کاروبار میں قدم رکھا؟ اگرچہ صنعتی اور کوئلری علاقوں میں افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ وہ دوبارہ غیر قانونی ریت کے کاروبار میں بھی سرگرم ہو چکا تھا۔