7 مئی کو پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ بھارت نے واضح کر دیا ہے کہ پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کا بھرپور جواب دے دیا گیا ہے۔ بھارتی فوج نے باضابطہ طور پر اس کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔
*دفاعی وزیر راجناتھ سنگھ کا ردعمل*
بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس کارروائی پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اپنے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ بھارت نے بتایا ہے کہ اس نے 9 مقامات پر حملے کیے ہیں، جو تمام دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانے تھے۔
*اہم نشانے:* حافظ سعید اور مسعود اظہر کے ٹھکانے تباہ
ذرائع کے مطابق ان ٹھکانوں میں سب سے اہم حافظ سعید اور لشکر طیبہ کا اڈہ تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکوں کے بعد پاکستانی کشمیر کی راجدھانی مظفر آباد میں بجلی چلی گئی۔
پاکستانی فوج نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بھارت نے یہ حملے کیے ہیں۔
حملے کے نشانے پر جو علاقے تھے، ان میں لاہور کا محلہ جوہر بھی شامل ہے، جہاں حافظ سعید چھپا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ کوٹلی، مظفرآباد، احمد پور شرقیہ (بہاولپور) میں صُبھان اللہ مسجد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہاں مسعود اظہر کا اڈہ موجود تھا، جو مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
*دیگر اہم مقامات*
بھارت نے مریدکے میں واقع لشکر طیبہ کے ٹھکانے پر بھی حملہ کیا، جبکہ اسلام آباد، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں بھی کارروائیاں کی گئیں۔ ساتھ ہی جیشِ محمد اور حزب المجاہدین کے ٹریننگ کیمپس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بھارتی وزارت دفاع کا بیان
بھارتی وزارت دفاع کے مطابق، یہ کارروائی مخصوص اور نپی تلی تھی، جس کا مقصد صرف دہشت گردی کے اڈوں کو ختم کرنا تھا۔ کسی بھی پاکستانی فوجی تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ وزارت نے واضح کیا کہ بھارت نے ہدف کے انتخاب اور کارروائی میں انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
وزارت کے مطابق، یہ قدم پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں اٹھایا گیا، جس میں 25 بھارتی شہریوں اور ایک نیپالی شہری کی جان گئی تھی۔ بھارت اپنی اس عہد پر قائم ہے کہ وہ حملے کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچا کر رہے گا۔
وزارت نے یہ بھی بتایا کہ جلد ہی ’آپریشن سندور‘ کے حوالے سے مکمل تفصیل جاری کی جائے گی۔




















