اخلاق ایک قیمتی جوہرہے۔یہ ایک ایسی صفت ہےجو انسان کوہردلعزیز بنایےرکھتی ہے۔جب ہم معاشرےکا جایٔزہ لیتے ہیں تو کچھ لوگ اخلاق کے معاملےمیں بڑےامیرہوتےہیں،کچھ لوگ غریب اورکچھ لوگ توانتہایٔ غریب ہوتےہیں۔وہ انتہایٔ غریب اخلاق کے سہارےاپنی زندگی گزارتے ہیں۔ذرا ذرا سی بات پر جھگڑتےہیں،بدکلامی،اوربدکرداری میں آگےآگےرہتےہیں اور اپنی پہچان اسی شان وشوکت سے قایم رکھتے ہیں۔
اے کاش کے وہ اس بات کو سمجھ لیں کےبد اخلاقی سے بد نصیبی جنم لیتی ہے۔
اخلاق اعلی حسب ونسب کی میراث نہیں ہے یہ کوشش کرنے سےفطرت میں بنتی ہےاورتربیت کے ساتھ روح میں دوڑتی ہے۔۔ہم اخلاق مند کیوں نہیں بنتے کیا ہم اسے زندگی کے آخری حصہ کیلےچھوڑ کر رکھنا چاہتے ہیں۔
آج کے جدید دور میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسان جب خوش ہوتا ہے،دوسروں کی مددکرتا ہے،دوسروں کے ساتھ نرمی ونیک جزبہ کے ساتھ معاملات کرتاہےتو اس کے اندر oxitocin اورserotonin جیسےہارمون پیداہوتے ہیں۔جو ہماری دماغی صحت اور جسمانی صحت کےلۓکارآمد ہے۔
آج کے اس بھاگ دوڑ کی زندگی میں جہاں لوگ سکون کی تلاش میں ہیں جہاں اپنی طرززندگی کی وجہ سے مختلف نفسیاتی بیماریوں میں جکڑے ہوے ہیں وہاں اخلاق کے زینہ کو اپنا کر ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
آیٔے اس عیدمیلادالنبی پر ہم سب یہ عہد کریں کہ ہم سب اخلاق مند مسلمان ہونگے،ہمارا اخلاق وکردارہی ہماری نمایندگی کرےگا۔یہی ہماری انفرادی اور اجتمای پہچان بنے گا۔
آیےحضور صللہ علیہ وسلم کی اس ایک سنت کو اپنا کر اپنی محبت کا اظہار کریں تاکہ عید میلادالنبی منانے کا مقصد پو را ہو سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*محمد صابر اسمعیل* ،سیتا رام پور ضلع پچھم بردوان)









