دُرگاپور میں پیش آئے نہایت سنسنی خیز اجتماعی زیادتی کے واقعے کے ایک ہفتے بعد متاثرہ میڈیکل طالبہ کو جمعہ کی شام اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔ 10 اکتوبر (جمعہ کی رات) پیش آنے والے واقعے کے فوراً بعد اسے شوبھا پور میں واقع اُس نجی میڈیکل کالج کے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں وہ زیرِ تعلیم تھی۔ یعنی واقعے کے ساتویں دن اسے اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا۔
جمعہ کی شام آئی کیو سٹی فاؤنڈیشن کی جانب سے اس طالبہ کی تازہ ترین صحت کی صورتحال پر ایک باضابطہ میڈیکل بلیٹن جاری کیا گیا، جس پر ادارے کی عہدیدار سودرشنا گانگولی کے دستخط تھے۔
بلیٹن میں کہا گیا کہ ملٹی اسپیشیلٹی میڈیکل بورڈ نے طالبہ کی جسمانی اور ذہنی صحت کا نہایت باریک بینی سے خیال رکھا۔ ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کی تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد اسے اسپتال سے ڈسچارج کے قابل قرار دیا گیا۔ اس حوالے سے طالبہ کے والدین سے مکمل بات چیت کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا گیا۔
فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں ڈاکٹرز، طبی عملے اور متعلقہ ٹیم کے جذبۂ خدمت اور لگن کی تعریف کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی عوام اور میڈیا سے اپیل کی گئی کہ اس نازک وقت میں متاثرہ طالبہ اور اس کے اہلِ خانہ کی رازداری اور وقار کا احترام کیا جائے۔
ادارے نے زور دے کر کہا کہ قیاس آرائیوں سے گریز کرتے ہوئے سب کو بحالیِ صحت، ہمدردی اور حساسیت کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ مزید یہ کہ فاؤنڈیشن تمام طلبہ کی صحت، سلامتی اور ذہنی بہبود کے لیے احترام، ذمہ داری اور انسانیت کے جذبے کے ساتھ کام کرنے کے عزم پر قائم ہے۔










