بارابنی بلاک کی دوموہانی گرام پنچایت کے تحت آنے والے چرن پور ہاٹ تلا علاقے میں اچانک زمین دھنس جانے سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ یہ واقعہ سنیچر کے روز ہاٹ (بازار) کے ایک حصے میں پیش آیا، جس کے باعث علاقے میں افرا تفری مچ گئی۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ایک عارضی ڈھانچہ یا دکان جو اوپر سے ترپال سے ڈھکی ہوئی تھی، زمین میں دھنس گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ واقعہ دن کے وقت پیش آتا، جب بازار میں بھیڑ ہوتی ہے، تو کئی لوگوں کی جان جا سکتی تھی۔ اس واقعے کے خلاف سنیچر کو مختلف برادریوں کے لوگ چرن پور ہاٹ تلا میں جمع ہوئے اور انتظامیہ کی لاپرواہی کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ مظاہرین میں سشانت باؤری، سنٹو بھویان اور نین گوپ سمیت کئی مقامی رہنما شامل تھے۔ مظاہرین نے بتایا کہ واقعے کے بعد سے پورا علاقہ خوف کے سائے میں ہے، کیونکہ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ زمین دھنسنے کی اصل وجہ کیا ہے۔
مظاہرے کے دوران مقامی رہنما سنٹو بھویاں نے انتظامیہ کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ دھنسان دیکھ کر لوگ خوفزدہ ہیں، اگر یہ دن کے وقت ہوتا تو بڑا جانی نقصان ہو سکتا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم زمین کیوں دھنس رہی ہے، لیکن خطرہ بہت بڑا ہے۔ اگر 48 گھنٹوں میں وجوہات کی جانچ اور کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا تو ہم علاقے کی تمام کانیں بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔‘‘
مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس زمین دھنسنے کے واقعے کی فوری جانچ کی جائے اور علاقے میں بسنے والے لوگوں کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
Post Views: 77










