Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

ٹی ڈی بی کالج رانی گنج کا دو روزہ قومی سیمینار زبردست کامیابی سے ہم کنار

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

رانی گنج28اگست(پریس ریلیز): مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے اشتراک سے شعبہء اردو رانی گنج کا دو روزہ قومی سیمینار 24اور25اگست کو کالج کے سیمینار ہال میں بعنوان”معاصر اردو فکشن، مسائل اور امکانات ”منعقد ہوا جس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت مولانا مظہر الحق یونیورسٹی،بہار کے سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر توقیر عالم نے کی جبکہ کلیدی خطبہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی کے ممتاز پروفیسر اور ناقد جناب سید محمد انور عالم پاشا نے دیا مہمان خصوصی اور مہمان اعزازی بالترتیب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہء اردو کے پروفیسر اور مشہور و معروف فکشن ناقد جناب صغیر افراہیم اور جناب شہاب الدین ثاقب تھیاس اجلاس میں خیر مقدمی کلمات شعبہء اردو کی استانی ڈاکٹر مہ جبین نے ادا کیے جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد شمشیر عالم نے بحسن و خوبی انجام دیا اورہدیہء تشکر ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا نے پیش کیااس افتتاحی اجلاس میں شعبہ اردو کی جانب سے مہمانوں کو گلدستہ،میمنٹو،فائل اور شال کا نذرانہ پیش کیا گیا 

اس سیمینار کے پہلے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر جے این یو کے پروفیسر سید محمد انور عالم پاشا اور علی گڑھ کے پروفیسر شہاب الدین ثاقب نے فرمائی جبکہ مقالہ نگاروں میں پروفیسر صغیر افراہیم،فخرالدین علی احمد پوسٹ گریجویٹ کالج یوپی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر منتظر قائمی،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے سابق مدیر ڈاکٹر ہادی رہبر،کلٹی کالج کے صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر صوفی ظفر شاہد،ٹی ڈی بی کالج کے سیکٹ ٹیچر ڈاکٹر ارشاد انصاری،اور اسی کالج کے ریسرچ اسکالر آفتاب عالم موجود تھے اس سیشن کی کامیاب نظامت ڈاکٹر محمد شفقت کمال نے کی جبکہ اظہار تشکر ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا نے کیا بعد ازاں وقفہء ظہرانہ میں سبھی حاضرین کی زبردست ضیافت کی گیی اور پھر دوسرے اجلاس کا دور شروع ہوا جسکی نظامت بڑی ہی عمدگی سے ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا نے کی اور صدور میں پروفیسر صغیر افراہیم اور پروفیسر توقیر عالم نے موضوع کی مناسبت سے شاندار صدارتی خطبے سے نوازا مقالہ نگاروں میں پروفیسر شہاب الدین ثاقب،بھیرب گانگولی کالج،کولکاتہ کے ڈاکٹر افضال عاقل،اسی کالج کے شعبہء انگریزی کی استانی ارونیما کرموکار،لال بابا کالج ہوڑہ کے ڈاکٹر محمد راشد اور نیلوفر شاہین وغیرہ تھیں جبکہ ہدیہء تشکر ڈاکٹر مہ جبین نے ادا کیا۔

اس طرح پہلے دن کا یہ سیمینار بڑی ہی کامیابی سے شام چھ بجے اختتام پذیر ہوا دوسرے دن کا اجلاس بھی اپنے مقررہ وقت پر پروفیسر صغیر افراہیم اور پروفیسر شہاب الدین ثاقب کی صدارت میں شروع ہوا جس کی زبردست نظامت ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا نے کی حسب دستور ایک طالب علم ذکی امام ساجد نے تلاوت قرآن پاک کی اور مولانا آزاد کالج کولکاتا کے صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر دبیر احمد،ہگلی محسن کالج کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عمر غزالی،اسنسول کے معروف کالم نویس انجینئر خورشید غنی،اسی کالج کے ڈاکٹر مہ جبین،رانی گنج گرلس کالج کے صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر محمد فاروق اعظم،ٹی ڈی بی کالج کی سیکٹ ٹیچر صبیحہ خاتون اور ریسرچ اسکالر شاہینہ پروین مقالہ نگاروں میں شامل تھیں جنہوں نے بڑی ہی عمدگی سے اپنے مقالے پیش کیے اس سیشن میں اظہار تشکر ڈاکٹر محمد شمشیر عالم نے ادا کیا جبکہ اس کے بعد والے دونوں ہی سیشن کی مشترکہ نظامت بھی انہوں نے ہی کی بعد والے چوتھے اور پانچویں اجلاس اور اختتامی اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر ڈاکٹر دبیر احمد،ڈاکٹر عمر غزالی اور بزرگ افسانہ نگار الحاج نذیر احمد یوسفی نے فرمائی اس سیشن میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے تشریف لائے ہوئے ڈاکٹر رشی کمار شرما اور عالیہ یونیورسٹی کولکاتہ کی ڈاکٹر درخشاں زریں،جبکہ آسنسول بی بی کالج کے صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر مشکور معینی،معروف افسانہ نگار ڈاکٹر عشرت بیتاب نے موضوع کی مناسبت سے اپنے بسیط مقالے پیش کیے۔ عالیہ یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر شاہد اقبال،اور ٹی ڈی بی کالج کی ریسرچ اسکالرز سومی پروین اور انجم پروین نے بھی بڑے ہی پرمغز مقالے پیش کیے اور اساتذہ سے داد بٹوری اس روز بھی شاندار ضیافت کا انتظام تھا طلباؤ طالبات بطور خاص صاعقہ غیاث،سلطانہ پروین،گل افشاں،صفیہ حسن،مسکان پروین، فرید دانش،وقار احمد،عزیر ٹیپو،منور،شاہنوازکے علاوہ تمام ہی اساتذہ اور لائبریرین افروز عالم وغیرہ نے بھی دن بھر موجود رہ کر مہمانوں کا خیال رکھا چاےء ناشتہ کا دور چلتا رہا اور اختتامی اجلاس میں نیلوفر شاہین،انجم پروین،فرید دانش،صاعقہ غیاث،سومی پروین وغیرہ کے ساتھ شرکاء بزم نے بھی اس دوروزہ سیمینار کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اس طرح یہ قومی سیمینار بڑی ہی کامیابی سے شام کے ساڑھے چھ بجے اختتام کو پہنچا کالج کے اس پروگرام کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے دوسرے شعبے کے اساتذہ اور شہر کے متعدد ادب نواز،شاعرو ادیب بھی آخر تک موجود رہے جس کے لیے شعبہء اردو کے اساتذہ نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔۔