کلٹی تھانے کے قریب قومی شاہراہ 19 کے کنارے واقع ایک لائن ہوٹل کے پیچھے بڑے پیمانے پر غیرقانونی کوئلہ مخفی طور پر ذخیرہ کیا گیا تھا۔ چاروں طرف سے چھپا کر رکھی گئی اس کوئلے کی اطلاع خفیہ ذرائع سے ملنے پر سی آئی ایس ایف اور ای سی ایل کی مشترکہ ٹیم نے رات تقریباً 2 بجے اچانک کارروائی شروع کی۔ کارروائی کے دوران تقریباً 512 میٹرک ٹن غیرقانونی کوئلہ برآمد ہوا۔ سی آئی ایس ایف نے کئی گھنٹوں کی مشقت کے بعد ڈمپروں کی مدد سے تمام کوئلہ ضبط کر لیا۔ اس کارروائی میں کلٹی تھانے کے چورنگی پھانڑی پولیس اہلکار اور سالان پور ایریا کی ای سی ایل سیکیورٹی ٹیم بھی موجود تھی۔ اتنی بڑی مقدار میں کوئلہ ایک ہوٹل کے پیچھے کیوں اور کہاں سے لا کر ذخیرہ کیا گیا تھا، اس کی تفتیش سی آئی ایس ایف کی خصوصی ٹیم کر رہی ہے۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید یہاں سے کوئلہ اسمگلنگ کے مقصد سے رکھا گیا تھا۔ البتہ کارروائی کے دوران کسی کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ صنعتی علاقے میں غیرقانونی کوئلہ کاروبار کے سلسلے میں سی بی آئی کی تفتیش اب بھی جاری ہے۔ اس کیس میں سی بی آئی نے جن بڑے اسمگلروں کے نام اپنی چارج شیٹ میں شامل کیے ہیں، وہ پہلے ہی زیرِ تفتیش ہیں۔ آسنسول سی بی آئی عدالت میں کوئلہ اسمگلنگ کا معاملہ زیرِ سماعت ہے، اس کے باوجود علاقے میں مختلف جگہوں پر غیرقانونی سرگرمیاں سامنے آتی رہتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ ہوٹل کے پیچھے ای سی ایل کے ڈمپروں سے کوئلہ لا کر کاٹا جاتا تھا اور پھر اسے اسمگل کر دیا جاتا تھا۔ اسی طرح مختلف سامانیں لے جانے والے ٹرک ڈرائیوروں سے سازباز کرکے وہاں راڈ سمیت دیگر سامان کی بھی کٹنگ کی جاتی تھی۔ سی آئی ایس ایف کی جانب سے کلٹی تھانے میں اس سلسلے میں دھننجے پاتَر اور منورنجن پاتَر کے خلاف تحریری شکایت درج کرائی گئی ہے۔










