بالاسور 13 دسمبر:تعلیمی ادارے جہاں بچوں کی تربیت، تحفظ اور کردار سازی کی ذمہ داری نبھاتے ہیں، اگر وہیں کسی قسم کی بدسلوکی کا الزام سامنے آئے تو یہ نہ صرف تشویش کا باعث بنتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سبق آموز لمحہ بھی بن جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک سنگین معاملہ اڈیشا کے ضلع بالاسور سے سامنے آیا ہے، جس نے والدین اور عوامی حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔اطلاعات کے مطابق بالاسور کے حاجی نصیرالدین اسکول میں ساتویں جماعت میں زیرِ تعلیم ایک طالبہ کے ساتھ اسکول کے ایک ٹیچر کی جانب سے مبینہ طور پر بدسلوکی کی گئی۔ متاثرہ طالبہ کی ماں نے اس واقعہ کے بعد بالاسور ٹاؤن تھانے میں تحریری شکایت درج کراتے ہوئے انصاف کی مانگ کی ہے۔ ایف آئی آر میں ملزم ٹیچر کا نام شیخ ریحان بتایا گیا ہے۔ماں کا الزام ہے کہ اس واقعہ سے بچی ذہنی طور پر سخت متاثر ہوئی ہے، اور اسکول جیسے محفوظ سمجھے جانے والے مقام پر پیش آنے والا یہ واقعہ نہایت افسوسناک ہے۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے اور قانونی کارروائی عمل میں لانے کی بات کہی ہے۔یہ معاملہ کے سامنے آنے پر متاثرہ کے پریوار کے لوگوں نے اسکول پہنچ کر خوب ہنگامہ کیا۔اور حیوان صفت ٹیچر ریحان کا لات گھونسے سے استقبال کیا۔ دوسری جانب، اسکول مینیجنگ کمیٹی نے ان الزامات کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور حقیقت جانچ کے بعد ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا جانا چاہیے۔ کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ وہ تفتیشی عمل میں مکمل تعاون کرے گی۔

فی الحال یہ معاملہ پولیس تفتیش کے دائرے میں ہے۔ ایسے واقعات تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ، اساتذہ کی ذمہ داری اور والدین کی بیداری پر کئی سوال کھڑے کرتے ہیں، اور اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ بچوں کے حقوق اور وقار کا تحفظ ہر حال میں اولین ترجیح ہونی چاہیے۔بالاسور سے عظیم بالیسری کی رپورٹ۔











