Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*مدرسہ تعلیم الدین میں حجاج کرام کو دیا گیا‌استقبالیہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

شمالی آسنسول ریل پار اوکے روڈ میں واقع دینی ادارہ مدرسہ تعلیم الدین میں جمعرات کے دن حجاج کرام کے اعزاز میں ایک استقبالیہ و دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔پروگرام کا باضابطہ آغاز حافظ نعمان اختر قمری کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔بعد ازاں قاری محمد جنید نے اپنی مترنم آواز میں بارگاہ رسالت میں نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا۔مذکورہ پروگرام کی صدارت مفتی سعید اسعد قاسمی، دارالقضا امارت شرعیہ لوکو مسجد آسنسول نے کی جبکہ نظامت کے فرائض حافظ اسرائیل مظاہری نے اپنے منفرد لب و لہجہ میں ادا کیے۔امسال حج بیت اللہ سے واپس آنے والے حجاج کرام کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کی پاکیزہ محفل سجاءی گءی۔ ناظم تقریب مولانا اسرائیل مظاہری صاحب نے حج کی قبولیت کے سلسلے سے فرمایا کہ حجاج کرام اپنے دل سے اس کا فتویٰ لیں کہ انکا حج قبول ہوا یا کچھ کمی رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ دل سے فتویٰ لو یہ سب سے بڑا مفتی ہے۔حج مقبول کی پہلی علامت انہوں نے یہ بتائی کہ بیت اللہ سے واپس آنے کے بعد دوبارہ جانے کا جی چاہے گا۔دوسری علامت یہ بتائی کہ سلام میں پہل اور کثرت ہو گی۔قلب اور مزاج پہلے کے مقابلے نرم محسوس ہونے کے ساتھ ۔بخل پر سخاوت کا عنصر غالب ہوتا محسوس ہوگا۔حج کے بعد عجز و انکساری جھلکے گی۔انہوں نے صاف طور پر کہا کہ حج کرلینے سے حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔ حج پوری زندگی میں ایک بار فرض ہے لیکن نماز بالغ ہونے کے بعد زندگی کے آخری ایام تک فرض ہے۔ایسے افراد جن پر حج فرض نہیں وہ حج کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں اور نماز جو پنجگانہ فرض ہے اس سے بے فکر آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ اللہ یہ نہیں پوچھے گا کہ تونے حج کیوں نہیں کیا کیونکہ تم پر حج فرض نہیں تھا لیکن یہ ضرور پوچھے گا کہ تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی جبکہ وہ تم پر فرض تھا۔مولانا طاہر رشیدی نے حج کے اخراجات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آخر ہر سال حج کرنا اس قدر کیوں مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو متحد ہوکر ارباب اقتدار سے سوال پوچھنا چاہیے۔قاری مستقیم ندوی صاحب نے بھی مختصر طور پر حج کے سلسلے سے اپنی باتیں رکھیں۔مدرسہ کے بانی و مہتمم قاری اسلام قمری صاحب نے سکریٹری رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 سالوں سے کورونا‌ نحوست کی وجہ کر لوگ حج کی سعادت سے محروم رہے۔امسال حج کی سعادت حاصل کرنے والوں کو گزشتہ روایت کی طرح حجاج کرام کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی ہے۔موجودہ دور میں مدرسوں کی طرف باطل طاقتوں کی بری نظر پر انجینیر خورشید غنی نے اپنی باتیں سامعین کے گوش گزار کی۔ انہوں نے یوپی کے مظفر نگر کا‌ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک متنازعہ زمین کا‌مسلہ عدالت میں پہنچا مسلمان اور ہندو دونوں ہی اس زمین کے دعوے دار تھے۔ انگریز جج نے پوچھا آپ لوگوں کی نظرمیں ایسا کوئی شخص ہے جس کی گواہی آپ دونوں فریق مان لیں۔ دونوں جانب کے افراد نے مولانا مظفر صاحب کا‌نام‌لیا۔مولانا کو عدالت میں بلایا گیا۔مولانا سے گواہی لی گئی۔ مولانا نے کہا کہ زمین ہندو بھائیوں کی ہے۔مسلمانوں نے اس پر قبضہ جما یا ہے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ انگریز جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ آج مسلمان ہار گیے اور اسلام جیت گیا۔ پروگرام میں بیت الصلوٰۃ مسجد کے خطیب و امام الحاج مولانا نیاز احمد ندوی،نورانی مسجد کے خطیب و امام مولانا‌ امداد‌اللہ رشیدی،عید گاہ والی مسجد کے خطیب و امام قاری تبارک حسین،

مولانا‌طاہررشیدی،الحاج انجینیر خورشید غنی،الحاج ماسٹر شکیل احمد،الحاج ماسٹر عبدالمنان،الحاج محمد تاشفین انصاری،غلام محمد،عبد الودود انصاری،

قاری داؤد عرفانی سمیت آسنسول و اطراف کے علماء کرام و آ ئمہ عظام موجود رہے۔صدر مجلس کی دعا پر تقریب کا اختتام ہوا۔بعد تقریب مدرسہ میں پر تکلف ظہرانہ کا‌ نظم تھا۔