*بارہ بنکی* ،(ابوشحمہ انصاری) سعادت گنج کی انتہائی فعال ادبی تنظیم “بزمِ ایوانِ غزل” کے زیرِ اہتمام ایک بہت ہی شاندار اور نہایت کامیاب ماہانہ طرحی مشاعرے کا انعقاد آئیڈیل انٹر کالج محمد پور باہوں کے وسیع و عریض ہال میں ہوا۔ اس یادگار و عظیم الشان مشاعرے کی صدارت دانش رام پوری نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ضمیر فیضی رام نگری، مہمانِ اعزازی کے طور پر محمد سفیر قریشی سیدنپور اور مہمانِ ذی و وقار کی صورت میں قیوم بہٹوی نے شرکت کی۔
اس حسین و پر وقار مشاعرے کی نظامت کی ذمہ داری طنز و مزاح کے معروف شاعر بیڈھب بارہ بنکوی نے اپنے البیلے، دل کش و جداگانہ انداز میں انجام دی۔ اس ماہانہ طرحی مشاعرے کا آغاز دانش رام پوری نے نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جس نے مشاعرے کو روحانی فضا سے بھر دیا۔ اس کے بعد غزل کے دل نشین و بے انتہا خوبصورت مصرعِ طرح
“کر نہیں پائے گا یہ طوفان کچھ”
پر باضابطہ طریقے سے طرحی مشاعرے کی ابتداء ہوئی۔ مشاعرہ بہت ہی کامیاب رہا۔ کچھ چنندہ اشعار کا انتخاب پیش ہے جو شعراء و سامعین کی جانب سے بہت زیادہ پسند کیے گئے اور خوب داد و تحسین سے نوازے گئے:
برکتوں کا سلسلہ جاری رہا
جب تک گھر پر رہے مہمان کچھ
دانش رام پوری
یوں نہ بجھ پائے گی دل کی تشنگی
اور پاس آجاؤ میری جان کچھ
بیڈھب بارہ بنکوی
عالمِ نَا آفریدہ کا مجھے
شکر ہے ہونے لگا وجدان کچھ
ذکی طارق بارہ بنکوی
کیا کرے گا موت کا کوئی علاج
کر نہیں پائے ہیں جب لقمان کچھ
بشر مسو لوی
آج ہم کو یہ سمجھنا چاہیے
مانگتا ہے ہم سے ہندوستان کچھ
عاصی چوکھنڈوی
اس بشر پر ہر بشر قربان ہے
اس بشر کی ہے الگ ہی شان کچھ
اثر سیدنپوری
گھر کے اندر طے ہوا کچھ اور تھا
کہہ رہے ہو بر سرِ میدان کچھ
کلیم طارق
چند سکوں کے لیے راشد ظہور
بیچ دیتے ہیں یہاں ایمان کچھ
راشد ظہور
مصلحت اوڑھے رہے احباب سب
اور مجھ کو کھا گئے بہتان کچھ
ظہیر رام پوری
بھولنا مجھ کو مگر پہلے ذرا
یاد کر لینا میرے احسان کچھ
سید فیروز نظامی
ڈال دے بیڑا تو اس کے نام پر
کر نہیں پائے گا یہ طوفان کچھ
نورِ عین چمن ولی
صرف اپنوں پر کیا تو کیا کیا
آپ غیروں پر کریں احسان کچھ
اسلم سیدنپوری
اے خدا اب بھیج دے مہمان کچھ
گھر میں کھانے کا نہیں سامان کچھ
مشتاق بزمی
حسن، ابرو، زلف اور مسکان کچھ
ہیں یہ میرے قتل کے سامان کچھ
شفیق رام پوری
جب سے تھاما زندگی کی ڈور کو
میرے دل کے رہ گئے ارمان کچھ
ڈاکٹر زعیم اختر بارہ بنکوی
سنسنا اٹھا ہے یہ پورا بدن
خون کا جب کم ہوا دوران کچھ
چٹک چوکھنڈوی
تجھ کو چھونے کی تمنا ہے مجھے
ہے یہی دل میں مرے ارمان کچھ
اقبال خوشتر بانسوی
ظالموں کا ظلم وہ سہتے رہے
صبر کی ٹوٹی نہیں چٹان کچھ
راشد رفیق
کیا کروں دل کو اسی کی ہے طلب
جس کے ملنے کا نہیں امکان کچھ
نازش بارہ بنکوی
موت میری جن کو بخشے گی خوشی
زندگی سے میری ہیں حیران کچھ
دیپ نارائن “دیپ”
دور ہو جائیں گی ساری مشکلیں
پڑھ کے دیکھو آیتِ قرآن کچھ
دلکش چوکھنڈوی
خواہشِیں ان کی تو پوری کیں مگر
دفن میرے ہو گئے ارمان کچھ
نظر مسو لوی
عشق میں ملنے کے تیرے اے صنم
دل میں مچلے ہیں مرے ارمان کچھ
سحر ایوبی
سوچ سے میری کٹھن تھیں منزلیں
حوصلوں نے کر دیا آسان کچھ
عاصم اقدس
کل تک تسلیم ہی تسلیم تھا
آج ہیں اس شخص کے ارمان کچھ
ماہر بارہ بنکوی
بھیج دے اپنی طرف سے اے خدا
پھر صلاح الدین سے سلطان کچھ
نعیم سکندر پوری
بزمِ ایوانِ غزل کے فضل سے
کچھ نہ تھے پر ہو گئے سلمان کچھ
سلمان یونس
بچ نہیں سکتا ہے اپنی موت سے
کر لے چاہے جو بھی یہ انسان کچھ
قاسم سکندر پوری
دل کے بھید اسرار اب کھلتے نہیں
ورنہ کر دیتا ابھی اعلان کچھ
اسرار حیات
بے غرض جو کرتے ہیں سب کی مدد
ایسے بھی عالم میں ہیں انسان کچھ
جان وارث صہبا
ان شعراء کے علاوہ ضمیر فیضی رام نگری اور قیوم بہٹوی نے بھی اپنا اپنا طرحی کلام پیش کیا اور خوب داد و تحسین حاصل کی۔ سامعین میں ماسٹر محمد وسیم انصاری، ماسٹر محمد قسیم انصاری، ماسٹر محمد حلیم انصاری کے نام بھی قابلِ ذکر ہیں۔ “بزمِ ایوانِ غزل کا آئندہ ماہانہ طرحی مشاعرہ بِتاریخ 25/ جنوری 2026 اپنے مقرر وقت 2 بجے دن آئیڈیل انٹر کالج محمد پور باہوں، سعادت گنج کے ہی ہال میں درج ذیل مصرعِ طرح پر منعقد ہوگا،
“کوئی ساتھی نہ ملا کوچہءرسوائی تک”
قافیہ: رسوائی
ردیف: تک
اس اعلان کے ساتھ بزم کے صدر ذکی طارق بارہ بنکوی نے مشاعرے میں شرکت کرنے والے تمام شعراء و سامعین کا شکریہ ادا کیا!










