Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*اسے ہم پَر تو دیتے ہیں مگر اُڑنے نہیں دیتے!*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*اسے ہم پَر تو دیتے ہیں مگر اُڑنے نہیں دیتے!*

تحریر۔ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج،بارہ بنکی
انسانی سماج کی سب سے بڑی سچائی شاید یہی ہے کہ ہم بظاہر آزادی کی بات کرتے ہیں، مگر دل کے کسی نہاں گوشے میں ہمیں آزادی سے خوف بھی محسوس ہوتا ہے۔ ہم بچوں کو خواب دیکھنے کا حوصلہ تو دیتے ہیں، مگر جب وہ خواب حقیقت کا روپ لینے لگتے ہیں تو ہم خود ہی ان کی راہ میں دیوار بن جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم انہیں پر تو دیتے ہیں مگر اُڑنے نہیں دیتے۔
یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں کا آئینہ ہے۔ ہم اپنی نئی نسل کو تعلیم دیتے ہیں، انہیں اچھے اسکولوں میں بھیجتے ہیں، ان کے لیے بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں، مگر جب وہ اپنی سوچ کے مطابق زندگی کا راستہ چننا چاہتے ہیں تو ہم انہیں روکنے لگتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ کامیاب ہوں، مگر ہماری تعریف کے مطابق؛ وہ آگے بڑھیں، مگر ہماری بنائی ہوئی حدود کے اندر۔
ہمارے گھروں میں اس کی سب سے واضح مثال بچوں کی پرورش میں نظر آتی ہے۔ ہم اپنے بچوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ وہ ایماندار بنیں، سچ بولیں، اور اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ مگر جب وہ کسی معاملے میں اپنی رائے دیتے ہیں تو اکثر انہیں یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ “تم ابھی چھوٹے ہو، تمہیں کیا معلوم۔” یوں ہم غیر محسوس طریقے سے ان کے اعتماد کو کمزور کر دیتے ہیں۔
اسی طرح ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کے معاملے میں یہ رویہ اور بھی زیادہ نمایاں ہے۔ ہم انہیں تعلیم دیتے ہیں، ان کے لیے بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں، مگر جب وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کرتی ہیں تو معاشرتی پابندیاں ان کے راستے میں آ کھڑی ہوتی ہیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کی اصل ذمہ داری گھر تک محدود ہے، اور ان کی پرواز کی حد وہی ہے جو سماج نے طے کر دی ہے۔ یوں ہم انہیں پر تو دیتے ہیں مگر اُڑنے نہیں دیتے۔
یہ مسئلہ صرف گھریلو دائرے تک محدود نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی اور سماجی نظام میں بھی نظر آتا ہے۔ تعلیمی ادارے طلبہ کو علم تو دیتے ہیں مگر اکثر انہیں سوال کرنے کی آزادی نہیں دیتے۔ طلبہ کو نصاب یاد کرنے کی تربیت دی جاتی ہے مگر تخلیقی سوچ کی حوصلہ افزائی کم ہی کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے پاس ڈگریاں تو بہت ہوتی ہیں مگر تخلیقی ذہن کم ہوتے ہیں۔
درحقیقت ایک زندہ معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں سوال کرنے کی آزادی ہو، جہاں نئی سوچ کو جگہ دی جائے اور جہاں نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ مگر جب معاشرہ خوف اور روایت کی زنجیروں میں جکڑا ہو تو وہاں نئی سوچ کے لیے جگہ تنگ ہو جاتی ہے۔
ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے اپنے نوجوانوں کو آزادانہ سوچنے اور آگے بڑھنے کا موقع دیا، اس قوم نے ترقی کی نئی منزلیں طے کیں۔ مگر جب معاشروں نے اپنی نئی نسل کو صرف روایتی حدود میں قید رکھنے کی کوشش کی تو وہ جمود کا شکار ہو گئے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم تبدیلی سے گھبراتے ہیں۔ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر نئی نسل کو مکمل آزادی مل گئی تو شاید وہ ہمارے بنائے ہوئے اصولوں کو چیلنج کر دے گی۔ مگر ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ترقی ہمیشہ سوال سے شروع ہوتی ہے۔ اگر ہر نسل پچھلی نسل کے بنائے ہوئے راستوں پر ہی چلتی رہے تو دنیا کبھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔
آج کا نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ باشعور ہے۔ وہ دنیا کو ایک وسیع تناظر میں دیکھتا ہے۔ انٹرنیٹ اور جدید ذرائع ابلاغ نے اس کی سوچ کو عالمی بنا دیا ہے۔ ایسے میں اگر ہم اسے صرف روایتی سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے تو وہ یا تو بغاوت کرے گا یا مایوسی کا شکار ہو جائے گا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ آزادی کا مطلب بے لگام ہونا نہیں ہوتا۔ نوجوانوں کو آزادی دینے کے ساتھ ساتھ رہنمائی بھی ضروری ہے۔ مگر رہنمائی اور پابندی میں ایک واضح فرق ہوتا ہے۔ رہنمائی وہ ہوتی ہے جو راستہ دکھاتی ہے، جبکہ پابندی وہ ہوتی ہے جو راستہ روک دیتی ہے۔
ہمیں اپنے رویوں پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی اپنی نئی نسل کو آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں یا صرف اس حد تک جہاں تک ہمیں آسانی محسوس ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ترقی کرے تو ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو صرف خواب دیکھنے کی اجازت نہیں بلکہ ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا موقع بھی دینا ہوگا۔
ایک درخت کی مثال لیجیے۔ اگر درخت کی جڑیں مضبوط ہوں اور اسے کھلے آسمان میں بڑھنے کا موقع ملے تو وہ تناور بن جاتا ہے۔ مگر اگر اس کی شاخوں کو بار بار کاٹ دیا جائے تو وہ کبھی اپنی پوری قامت تک نہیں پہنچ پاتا۔ یہی حال انسان کا بھی ہے۔ اگر اسے اعتماد اور آزادی کا ماحول ملے تو وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ کامیاب افراد کی کہانیاں تو سناتے ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے کہ ان کامیابیوں کے پیچھے آزادیِ فکر اور جراتِ اظہار کا کردار بھی ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنے زمانے کے مروجہ خیالات سے آگے بڑھ کر سوچتے ہیں، وہی تاریخ میں اپنا نام چھوڑ جاتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل پر اعتماد کریں۔ ہمیں انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ صرف ہمارے خوابوں کی تکمیل کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی الگ شناخت رکھنے والے انسان ہیں۔ ہمیں ان کی بات سننی ہوگی، ان کی سوچ کو سمجھنا ہوگا اور انہیں اپنے راستے کا انتخاب کرنے کی آزادی دینی ہوگی۔
اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ہمارا معاشرہ صرف ترقی ہی نہیں کرے گا بلکہ ایک ایسا معاشرہ بنے گا جہاں تخلیق، تحقیق اور جدت کو فروغ ملے گا۔ مگر اگر ہم نے اپنی پرانی روش کو برقرار رکھا اور نئی نسل کو صرف محدود دائرے میں قید رکھا تو شاید ہم آنے والے وقت کے تقاضوں کا سامنا نہ کر سکیں۔
لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے رویوں کو بدلیں۔ ہم اپنی نئی نسل کو صرف پر دینے پر اکتفا نہ کریں بلکہ انہیں کھلے آسمان میں اُڑنے کا حوصلہ بھی دیں۔ کیونکہ جب نوجوانوں کو آزادی اور اعتماد ملتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدلتے ہیں بلکہ پوری قوم کی تقدیر بھی بدل سکتے ہیں۔اور شاید یہی وہ لمحہ ہوگا جب یہ جملہ اپنی معنویت کھو دے گا۔کہ”اسے ہم پَر تو دیتے ہیں مگر اُڑنے نہیں دیتے۔”
مضمون نگار ،آل انڈیا مائنا ریٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے شبعہ نشرواشاعت کے سیکرٹری ہیں۔