Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*کمل،کیچڑاور سیاسی وضو* (سیاسی طنز و مزاح)

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*کمل،کیچڑاور سیاسی وضو*
(سیاسی طنز و مزاح)

بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین (اکولہ، مہاراشٹر)

ہمارے محلے کے کہنہ مشق دانشور، کائیاں فلسفی اور صاحبِ حکمت مبصر، شیخ عاقبت اندیش کا فرمانا ہے کہ دورِ حاضر کی سیاست اور سمارٹ فون ٹیلی کام کمپنیوں میں سب سے بڑی اور حیرت انگیز قدرِ مشترک یہ ہے کہ یہاں ”نیٹ ورک“ یا ”نظریہ“ بدلنے کے لیے اب نہ تو کوئی لمبا چوڑا فارم بھرنا پڑتا ہے، نہ کسی قطار میں لگنا پڑتا ہے، اور نہ ہی کسی قسم کی خاندانی شرمندگی یا نظریاتی خجالت اٹھانی پڑتی ہے۔ سچ پوچھیے تو آج کی سیاست کوئی دردِ سر، نظریاتی کشمکش، اصولوں کی جنگ یا خدمتِ خلق کا نام ہرگز نہیں رہی؛ بلکہ یہ کمالِ فن اور حیرت انگیز ارتقاء کی اس ارفع منزل پر پہنچ چکی ہے جہاں وفاداریاں اور نظریات اتنی خاموشی، رازداری اور درپردہ طریقے سے بدلتے ہیں جیسے رات کے پچھلے پہر، عین اس وقت جب آپ گہری نیند میں ہوں، آپ کے سمارٹ فون کی کوئی ڈھیٹ ایپ بغیر اجازت طلب کیے خود بخود اپ ڈیٹ ہو جائے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ فون کی ایپس اپ ڈیٹ ہونے کے بعد کبھی کبھار، بھولے بھٹکے ہی سہی، کارکردگی میں کچھ بہتری لے ہی آتی ہیں، مگر ہمارے ہاں جب بھی کوئی سیاسی اپ ڈیٹ آتی ہے، تو وہ پرانے بوسیدہ نظام میں ایسی جدید خرابیاں اور ایسے نت نئے بگز لے کر نازل ہوتی ہے کہ غریب عوام کی زندگی کا پورا سسٹم ہی ہینگ ہو کر رہ جاتا ہے۔
شیخ عاقبت اندیش کوئی عام اور سڑک چھاپ کردار نہیں۔ ان کا شجرہِ نسب تو سنا ہے کہ سیدھا مغلوں کے کسی فراری شہزادے سے جا ملتا ہے، مگر ان کی بدقسمتی اور ہماری خوش قسمتی ملاحظہ ہو کہ ان کا سمارٹ فون آج بھی تھری جی کے ہچکولے کھاتا ہے۔ وہ محلے کے واحد بزرگ ہیں جن کی ناک کی پھننگ پر دھری عینک کے موٹے اور دھندلے شیشوں سے دنیا کی ہر سیاسی قلابازی انہیں یوں نظر آتی ہے جیسے وہ یہ فلاپ فلم پہلے بھی کئی بار دیکھ چکے ہوں اور انہیں اس کا کلائمیکس زبانی یاد ہو۔ ان کے پان چبانے کی رفتار ملکی افراطِ زر اور سیاسی بحرانوں کے ساتھ کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ جب وہ سکرین پر اپنی لرزتی ہوئی انگلیوں سے کوئی سیاسی تجزیہ ٹائپ کرنے کی جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں، تو ان کے چہرے پر وہی کرب، اذیت اور بے چارگی دیدنی ہوتی ہے جو عموماً کسی ایماندار سرکاری کلرک کو اپنی سروس کا پہلا لفافہ لیتے ہوئے محسوس ہوتی ہے۔
ہماری اس سیاسی اور فکری تربیت کا اصل مرکز، اور اس پورے قومی المیے کا خاموش گواہ، محلے کا وہ خستہ حال چائے کا کھوکھا ہے جہاں بیٹھے بغیر نہ تو ہم غریبوں کو چائے ہضم ہوتی ہے اور نہ ہی ملکی حالات۔ یہ کوئی عام کھوکھا نہیں؛ اس کی لکڑی کی کالی اور چپچپی میزوں پر سالہا سال کے میل اور گاہکوں کے ادھار کی ایسی دبیز تہیں جمی ہیں جنہیں اگر کسی ماہرِ آثارِ قدیمہ سے کھرچوایا جائے تو پچھلی تین حکومتوں کے معاشی انحطاط کا پورا بلیک باکس باآسانی برآمد ہو سکتا ہے۔ یہاں بھن بھناتی ہوئی مکھیاں بھی اتنی ہی پراعتماد اور بے خوف ہیں جتنے الیکشن کے فوراً بعد نظر آنے والے ہمارے وہ منتخب نمائندے، جنہیں ہم اپنا مائی باپ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ جس لکڑی کے بینچ پر بیٹھ کر ہم نظامِ ہستی پر تنقید کرتے ہیں، اس کی ایک ٹانگ بالکل ہماری ملکی معیشت کی طرح غیر مستحکم اور متزلزل ہے؛ ذرا سا پہلو بدلو، یا کوئی نیا گاہک آ کر دھپ سے بیٹھے، تو دونوں کے دھڑام سے گرنے اور منہ کے بل اوندھے ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی کھوکھے کی وہ چائے، جس میں دودھ اور پانی کا تناسب آئی ایم ایف کے شرائط نامے کی طرح ہمیشہ غریب کے خلاف رہتا ہے، پی کر ہم عالمی سیاست کے ایسے ایسے بخیے ادھیڑتے ہیں کہ اگر پینٹاگون والے سن لیں تو فوراً کھوکھے کے مالک کو اپنا مشیرِ دفاع مقرر کر لیں۔
اسی کھوکھے پر گزشتہ شام جب دیوار پر لٹکے دھول بھرے ٹی وی پر یہ لرزہ خیز بریکنگ نیوز چلی تو ہمارے ہاتھ سے چائے کی پیالی لگ بھگ چھوٹ ہی گئی تھی۔ خبر یہ تھی کہ عام آدمی پارٹی کے نہایت نفیس، خوش گفتار، امپورٹڈ عطر میں بسے اور عام آدمیوں کے ہجوم میں سب سے زیادہ ”خاص“ نظر آنے والے جناب راگھو چڈھا صاحب نے اپنی پرانی اور خاندانی ”جھاڑو“ کو طاق پر رکھ کر بھارتی جنتا پارٹی کے زعفرانی خیمے میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ خبر کا دوسرا اور زیادہ حیرت انگیز حصہ یہ تھا کہ چڈھا صاحب اس نظریاتی ہجرت میں تنہا نہیں گئے، بلکہ اپنی پارٹی کے مزید چھ سینئر اور روشن ضمیر راجیہ سبھا ارکان کو بھی اپنے ہمراہ بی جے پی کے کمل والے تالاب میں لے اترے ہیں۔ ان میں ہربھجن سنگھ اور سواتی مالیوال جیسے نابغہِ روزگار بھی شامل تھے، جو کل تک استقامت کے کوہِ گراں سمجھے جاتے تھے۔
میں نے غم، صدمے اور حیرت کے مارے اپنی آدھی پی ہوئی چائے کھوکھے والے کو واپس کر دی کہ بھائی، اب اس میں وہ مٹھاس اور انقلاب کی وہ رمق نہیں رہی جو کل تک تھی۔ سچ پوچھیں تو جب چڈھا صاحب نے پہلی بار انقلاب کا نعرہ مستانہ بلند کیا تھا، تو مجمعے میں سب سے زیادہ جوش سے نعرہ خاکسار نے ہی مارا تھا، مگر طبعی حزم و احتیاط (جسے حاسدین بزدلی گردانتے ہیں) کے پیشِ نظر میں نے اپنی آواز اتنی دھیمی رکھی کہ بغل میں کھڑے پولیس کانسٹیبل تو درکنار، میرے اپنے کانوں تک بھی نہ پہنچ سکی۔ چڈھا صاحب جب ٹی وی پر حکومتی کرپشن کے خلاف بولتے تھے، تو ان کے چہرے پر جو ایک ملکوتی اور معصومانہ دکھ طاری ہوتا تھا، چشمِ بدور اسے برقرار رکھنے کے لیے وہ روزانہ صبح نہار منہ باداموں کا حریرہ استعمال کرتے تھے۔ ان کے آنسو بھی اس قدر خاندانی، وی آئی پی اور نفاست پسند تھے کہ امپورٹڈ ٹشو پیپر کی یقین دہانی کے بغیر آنکھ کے گوشے سے باہر آنے کی زحمت ہرگز گوارا نہ کرتے تھے۔ میں نے کانپتی ہوئی آواز میں کھوکھے پر براجمان شیخ عاقبت اندیش سے عرض کیا، ”قبلہ! یہ موصوف تو کمالِ استقامت اور کامل یکسوئی کے ساتھ عین اسی صف میں کھڑے پائے گئے، جہاں کل تک کھڑے ہونے کے خیال ہی سے ان کا سیاسی وضو ٹوٹ جایا کرتا تھا۔ یہ کیسا عبرت ناک یو ٹرن ہے؟“
شیخ صاحب نے ایک بھرپور اور زوردار پان کی پیک کھوکھے کے باہر تھوکی، میز پر بیٹھی ایک ڈھیٹ مکھی کو نہایت شفقت سے ہاتھ سے اڑایا، اور نہایت سنجیدگی، متانت اور عالمانہ بردباری سے چڈھا صاحب کا دفاع کرتے ہوئے فرمایا، ‘عزیزم! یو ٹرن تو غریب کی سائیکل یامڈل کلاس کی پرانی کار لیتی ہے۔ ہمارے یہ زعفرانی شہسوار تو اقتدار کے ہیلی کاپٹرمیں سوار وہ ’فضائی مجذوب‘ ہیں جو ہوا کے دوش پر ایسے ’ہولناک ہچکولے‘ کھاتے ہیں کہ دیکھنے والے کو لگتا ہے کہ اب گرے کہ اب گرے؛ مگر صاحب! ان کی مشقِ ستم دیکھیے کہ توازن بگڑنے کے باوجود ان کا ہیلی کاپٹر ہمیشہ اسی چمن میں ’کریش لینڈنگ‘ کرتا ہےجہاں پہلے سے اقتدار کا قالین بچھا ہو۔
شیخ صاحب نے اپنا چشمہ درست کیا اور راگھو چڈھا کے اس بیان کا نہایت عالمانہ پوسٹ مارٹم شروع کیا جس میں موصوف نے فرمایا تھا کہ ”عام آدمی پارٹی کا ورک انوائرنمنٹ نہایت ٹوکسک (Toxic) ہو گیا تھا“ اور وہ ”غلط پارٹی میں صحیح آدمی تھے۔“ شیخ صاحب زیرِ لب مسکرائے اور بولے، ”میاں! یہ آج کل کے جین زی (Gen-Z) لیڈروں کے ناز نخرے ہیں۔ پرانے زمانے میں لیڈر پارٹی چھوڑتا تھا تو کہتا تھا کہ میرا ضمیر جاگ گیا ہے، یا مجھے قوم کے وسیع تر مفاد نے پکارا ہے۔ آج کل کا لیڈر ایسے بات کرتا ہے جیسے وہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی کا انٹرن ہو جس نے نوکری محض اس لیے چھوڑ دی ہو کیونکہ کیفیٹیریا میں اسے پسندیدہ فلیور کی کافی نہیں مل رہی تھی۔ جسے انگریزی میں ’ٹوکسک انوائرنمنٹ‘ اور حبسِ بے جا کہتے ہیں، ہماری خالص دیسی اور سیاسی زبان میں اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اقتدار کے ایئرکنڈیشنر کا رخ اب آپ کی طرف نہیں رہا، اور اپوزیشن کی دھوپ آپ کا رنگ کالا کر رہی ہے۔ چڈھا صاحب ٹھہرے نازک مزاج، ان سے یہ حبس بھلا کیسے برداشت ہوتا؟“
ہم سب دنگ رہ گئے جب شیخ صاحب نے ان چھ ساتھیوں کے ہمراہ جانے کی ایسی لاجواب، عالمانہ اور مہمل منطق پیش کی کہ ہم سب بے ساختہ سر دھننے پر مجبور ہو گئے۔ فرمانے لگے، ”دیکھو میاں! تم لوگ جسے بغاوت، ہارس ٹریڈنگ یا دَل بدل  ہو، وہ دراصل قانونِ انحطاط کی روشنی میں سیاست کی ’کار پولنگ‘ (Car-pooling) ہے۔بھارت کا  قانون کہتا ہے کہ اگر ایک رکن پارٹی چھوڑے تو وہ غدار کہلائے گا اور اس کی رکنیت منسوخ ہو جائے گی، لیکن اگر دو تہائی ارکان ایک ساتھ پارٹی چھوڑ دیں، تو اسے ’آئینی انضمام‘ کہا جائے گا۔ عزیزم! تم جسے ضمیر کا سودا کہتے ہو، آئینِ ہند کی رو سے وہ دراصل ضمیر کی ’ہول سیل مارکیٹ‘ ہے۔ اکیلا آدمی ضمیر بیچے تو غدار کہلاتا ہے، مگر جب سات اکٹھے بیچیں تو قانوناً، اخلاقاً اور شرعاً یہ عمل ’آئینی انضمام‘ کے مقدس درجے پر فائز ہو جاتا ہے۔ چڈھا صاحب کو معلوم تھا کہ اکیلے ضمیر کا بوجھ اٹھانا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ سو انہوں نے چھ ساتھیوں کو ساتھ ملا لیا تاکہ سفر کٹ جائے اور ضمیر کی ملامت کا بوجھ سات حصوں میں برابر تقسیم ہو جائے۔ یوں فی کس ضمیر کا بوجھ اتنا کم ہو گیا ہے کہ اب وہ اسے محسوس ہی نہیں کر رہے۔“
سچ تو یہ ہے کہ عہدِ حاضر میں سیاسی وفاداری کی ’میعاد‘ (Validity) اب اتنی ہی مختصر اور بے اعتبار ہوتی ہے جتنی کسی ٹیلی کام کمپنی کے سستے ڈیٹا پیکج کی؛ یعنی ایک بار حد ختم ہوئی تو رابطہ منقطع اور ’بیلنس‘ صفر۔
ان کی اس شاندار سیاسی قلابازی اور ’ڈیجیٹل وفاداری‘ پر مرزا غالب اگر آج زندہ ہوتے تو اپنا دیوان دریا برد کر کے چڈھا صاحب اور ان کے رفقاء کی نذر یہ شعر کرتے:
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جنہیں معلوم نہیں  ہاٹ سپاٹ کیا ہے!
اور سچ پوچھیے تو اس ہائی ٹیک دور میں وفا، جفا اور انقلاب کے تمام تر فلسفے اب’سگنلز‘ اور ’ڈیٹا لِمٹ‘ کے تابع ہو چکے ہیں۔ اب تو عام آدمی کی وفاداری کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب اسے کسی سیاسی نظریے اور موبائل کمپنی کے اس 28 دن والے ’ماہانہ‘ پیکج کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے۔ ہم غریبوں سےپوچھیے کہ اس ۲۸ دن کے پیکج میں مہینے کا ستائیسواں دن کتنا بھاری اور قیامت خیز ہوتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایم بیز اور امیدیں، دونوں آخری سانسیں لے رہے ہوتے ہیں۔ ستائیسویں دن غریب آدمی کا چہرہ اس موبائل کی سکرین جیسا زرد ہو جاتا ہے جس کی برائٹنس بیٹری بچانے کی خاطر بالکل صفر کر دی گئی ہو۔ اس دن ہم اپنا موبائل ڈیٹا اس قدر احتیاط، خوف اور لرزتے ہاتھوں سے ’آن‘ اور ’آف‘ کرتے ہیں، جیسے کسی آئی سی یو میں رکھے نازک مریض کی آکسیجن کی نالی کو کنٹرول کر رہے ہوں۔
چڈھا صاحب اور ان کے رفقاء تو اب اقتدار کے ہاٹ سپاٹ سے جڑ چکے ہیں اور ان کی طاقت کی بیٹری سو فیصد چارج ہے۔ اور ہم عوام؟ ہم روزِ اول کی طرح آج بھی پاور سیونگ موڈ پر چل رہے ہیں۔ ہم اپنا کٹا پھٹا، سستا اور سکرین ٹوٹا موبائل ہاتھ میں لیے اس انتظار میں رہتے ہیں کہ شاید کوئی نیا لیڈر آئے اور ہمیں سچے انقلاب کی نوید سنائے۔ مگر سیاستدانوں کے وعدے اور ہماری زندگی کا سست ترین انٹرنیٹ بالکل ایک جیسے ہیں۔ جب کنیکٹ ہوتا ہے تو قطرہ قطرہ ٹپکتا ہے، اور جب کبھی اس میں تھوڑی سی رفتار آتی ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اور پائپ لائن میں موٹر لگا کر، اپنے چھ ساتھیوں سمیت، ہمارا سارا ڈیٹا اور ہماری تمام تر امیدیں کسی دوسری پارٹی کے سرور میں ڈاؤنلوڈ کر چکا ہے۔
ان تمام قلابازیوں اور دھوکے در دھوکوں کے بعد جب ہم کھوکھے پر بیٹھ کر ایک دوسرے کی شکلیں دیکھتے ہیں، تو اب دل کے کسی تاریک کونے سے غصے کے بجائے ایک میٹھی سی اداسی اور زیرِ لب مسکراہٹ ابھرتی ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہم یہ تاریخی اور صوفیانہ حقیقت بھول گئے تھے کہ جب لیڈر کے اپنے کپڑے قیمتی اور استری شدہ ہوں، تو وہ عوام کی کچی اور غلیظ گلیوں میں زیادہ دیر تک جھاڑو نہیں لگا سکتا۔ یہ ایک اٹل سچائی ہے کہ جھاڑو کا مقدر محض دوسروں کی اڑائی ہوئی دھول پھانکنا ہے۔ جب ایک نفیس انسان برسہا برس دوسروں کی پھیلائی ہوئی کیچڑ صاف کرتے کرتے تھک جاتا ہے، تو اس پر اچانک یہ عرفان نازل ہوتا ہے کہ اس غلاظت سے لڑنے کے بجائے، کیوں نہ اس کیچڑ کے بیچوں بیچ ’کمل‘ کا پھول بن کر کھل جایا جائے؟ آخر کیچڑ میں نہانے اور کیچڑ میں کھلنے کے درمیان محض ایک ’یو ٹرن‘ کا ہی تو فاصلہ ہے۔ اور پھر، جب وہ شخص اپنے ساتھیوں سمیت اس زعفرانی تالاب میں غوطہ لگاتا ہے، تو اس کے پچھلے تمام سیاسی گناہ، کرپشن کے الزامات اور ای ڈی کے خوفناک مقدمات یوں دھل کر غائب ہو جاتے ہیں جیسے موصوف نے اقتدار کے چشمے سے باقاعدہ ”سیاسی وضو“ کر لیا ہو۔ کیچڑ، کمل اور سیاسی وضو کے اس طلسماتی چکر کو دیکھتے ہوئے، اب ہم عوام کے پاس اپنی ناقابلِ علاج معصومیت پر ہنسنے کے سوا کوئی اور چارہ بچا ہی نہیں۔ اور شاید یہ درد بھری مسکراہٹ ہی وہ واحد چیز ہے جو ابھی تک اس ملک میں غریب کے لیے فری ہے، ورنہ خواب، ضمیر، اور انقلاب سمیت باقی ہر شے دو تہائی اکثریت کے ساتھ بیچی اور خریدی جا چکی ہے۔
=================