*وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی خود وزیر تعلیم ہونا بدقسمتی کی علامت*
**اسکولی فیس میں 50 سے 120 فیصد اضافہ، حکومت کی بے حسی معنی خیز*
مئی میں ہی فیس کنٹرول قانون لایا جائے۔ مفت تعلیم اور علاج ٹی آر ایس کی پالیسی*
*معیاری تعلیم اور فیس کنٹرول پر سوماجی گوڑہ پریس کلب میں گول میز کانفرنس ۔ کے کویتا کا خطاب*

حیدرآباد: سوماجی گوڑہ پریس کلب میں معیاری تعلیم اور فیس کنٹرول سے متعلق گول میز کانفرنس منعقد ہوئی ۔تلنگانہ رکشنا سینا (ٹی آر ایس) کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ مساوات، آزادی اور انسانی اقدار کے فروغ کے لئے تعلیم بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بچوں کی تعلیم صرف والدین کی ذمہ داری ہے یا حکومت کی بھی کوئی ذمہ داری بنتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ صحت اور تعلیم حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہئے اور عوامی حکومتیں ہی مفت تعلیم اور علاج فراہم کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں اسکول فیس میں 50 فیصد سے لے کر 120 فیصد تک اضافہ کیا جا رہا ہے، مگر حکومت اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ والدین فیس ادا کرنے کے معاملے میں شدید دباؤ اور خوف کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مئی کے مہینے میں ہی فیس کنٹرول سے متعلق قانون لایا جانا چاہئے تاکہ لاکھوں والدین کو راحت مل سکے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک روپیہ بھی فیس نہ بڑھانے کا فوری حکم جاری کیا جائے۔کویتا نے کہا کہ ریاست میں 64 لاکھ طلبہ میں 65 سے 75 فیصد نجی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جہاں تعلیمی ادارے کاروباری انداز میں چل رہے ہیں اور اکثر سیاسی شخصیات کے زیرِ اثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تعلیم کو کاروبار میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور کارپوریٹ اسکولوں کی لوٹ مار کو روکنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے حیدرآباد پبلک اسکول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرکاری زمین پر قائم ادارہ ہے، جہاں اس سال 120 فیصد تک فیس میں اضافہ کیا گیا، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب سرکاری زمین پر قائم اسکول میں فیس میں اتنا اضافہ ہو سکتا ہے تو دیگر نجی اداروں میں کیا صورتحال ہوگی؟ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت خود نجی تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور اس معاملے میں فوری مداخلت ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے تحت تقریباً 11 ہزار کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں، جس کی وجہ سے کئی کالج بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خود وزیر تعلیم ہونا بدقسمتی کی علامت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایم ایس-7 جی او کے ذریعہ اس اسکیم کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اگر یہ جی او واپس نہ لیا گیا تو تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر احتجاج کرنا ہوگا۔

کویتا نے کہا کہ مفت تعلیم اور مفت علاج ان کی پارٹی کی بنیادی پالیسی ہے اور وہ اپنے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس وعدے کو پورا نہ کریں تو انہیں جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ اگر حکومت میں اخلاص ہو تو مفت تعلیم اور علاج فراہم کرنا ممکن ہے، جس کے لئے ماہرین سے مشاورت کے بعد پالیسی تیار کی گئی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمل ناڈو کی طرز پر فیس کنٹرول کے لئے مستقل اتھارٹی قائم کی جائے یا گجرات ماڈل کے مطابق ابتدائی تعلیم کے لئے 15 ہزار اور اعلیٰ تعلیم کے لئے 25 ہزار روپے کی حد مقرر کی جائے تاکہ عوام کو راحت مل سکے۔










