Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*برن پور گرودوارہ اسکول میں مبینہ بے ضابطگیوں پر بی جے پی وفد کا دورہ، شفاف جانچ کا مطالبہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*برن پور گرودوارہ اسکول میں مبینہ بے ضابطگیوں پر بی جے پی وفد کا دورہ، شفاف جانچ کا مطالبہ*

برن پور کے معروف گرودوارہ اسکول میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی خامیوں کے الزامات کو لے کر منگل کے روز بی جے پی کے ایک وفد نے اسکول کا دورہ کیا۔ وفد نے اسکول کے پرنسپل سے ملاقات کرکے مختلف شکایات اور والدین کے تحفظات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ وفد میں بی جے پی رہنما انمول سنگھ، بی جے پی مائنارٹی مورچہ کے نمائندے اور بی جے پی آسنسول ساؤتھ منڈل-2 کے صدر رامانند ساہا شامل تھے۔ بی جے پی رہنماؤں کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے طلبہ کے سرپرستوں کی جانب سے اسکول انتظامیہ کے خلاف متعدد شکایات موصول ہو رہی تھیں، جن میں فیس وصولی، مڈ ڈے میل اسکیم میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دیگر انتظامی مسائل کا ذکر کیا گیا تھا۔ انہی شکایات کی بنیاد پر وفد نے اسکول پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر انمول سنگھ نے الزام عائد کیا کہ سرکاری ضابطوں کے مطابق طلبہ سے صرف 240 روپے فیس وصول کی جانی چاہیے، مگر اسکول میں بعض طلبہ سے 2500 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکول میں مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کی کئی شکایات سامنے آئی ہیں، جن کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اسکول مینجمنٹ کمیٹی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ترنمول کانگریس سے وابستہ بعض افراد طویل عرصے سے کمیٹی میں شامل ہیں، جس کے باعث پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انمول سنگھ نے کہا کہ وہ اس معاملے کو انتظامی سطح پر اٹھاتے ہوئے مناسب کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ وہیں بی جے پی آسنسول ساؤتھ منڈل-2 کے صدر رامانند ساہا نے کہا کہ پرنسپل کے ساتھ بات چیت کے دوران یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ مقامی رکن اسمبلی اگنی مترا پال کو اسکول کے بعض پروگراموں میں مدعو کیے جانے پر اعتراضات کیے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس پہلو کی بھی مکمل جانچ ہونی چاہیے۔ بی جے پی رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ پورے معاملے کی شکایت متعلقہ انتظامی افسران سے کریں گے اور اسکول میں لگائے گئے الزامات کی مکمل تحقیقات کے لیے ضروری اقدامات کا مطالبہ کریں گے۔ فی الحال اسکول انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔