Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*حکومت کی مجوزہ رعیتو ڈسکام  پالیسی ایک سنگین سازش اور کسانوں کے لئے زہر* *زرعی شعبہ تباہ ہو جائے گا۔ صدر ٹی آر ایس کے کویتا کا سخت انتباہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*حکومت کی مجوزہ رعیتو ڈسکام  پالیسی ایک سنگین سازش اور کسانوں کے لئے زہر*

*زرعی شعبہ تباہ ہو جائے گا۔ صدر ٹی آر ایس کے کویتا کا سخت انتباہ*

حیدرآباد: ٹی آر ایس چیف کلواکنٹلہ کویتا نے “رعیتو ڈسکام” (کسان ڈسکام) کے نام پر ریاستی حکومت کی مجوزہ پالیسی کو کسانوں کے خلاف ایک سنگین سازش قرار دیا اور  کہا کہ یہ اقدام زرعی شعبہ کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس تجویز کو نافذ کیا گیا تو یہ کسانوں کے لئے کسی “زہر” سے کم نہیں ہوگی۔پبلک ہیئرنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ یہ معاملہ ریاست تلنگانہ کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے لہٰذا صرف ایک جگہ نہیں بلکہ تمام 33 اضلاع میں عوامی سماعتیں منعقد کی جانی چاہئیں تاکہ کسانوں کی رائے لی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے کسانوں نے اپنی محنت سے تقریباً 29 لاکھ بورویلس کی کندیدگی عمل میں لائی ہے اور سابقہ حکومت کے دور میں بجلی کے شعبہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے باعث زرعی ترقی ممکن ہوئی۔ آج کسانوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے لیکن “رعیتو ڈسکام” کی وجہ سے ان تمام بورویل موٹروں کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ کویتا نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ پالیسی واقعی کسانوں کے مفاد میں ہے تو اسے گزشتہ چھ ماہ سے خفیہ کیوں رکھا گیا؟ اسمبلی میں اس پر بحث کیوں نہیں کی گئی اور کسانوں کے خدشات دور کرنے کی کوئی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ اس سے حکومت کی نیت پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ ڈسکام پہلے ہی ہزاروں کروڑ کے خسارے میں ہے جس کی بڑی ذمہ داری خود حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ سبسڈی اور مفت بجلی کی مد میں واجبات ادا نہیں کئے گئے۔ ایسے میں ایک نئی کمپنی بنانا کسی بھی صورت قابل عمل نہیں ہوگا۔ کویتا نے خبردار کیا کہ نئی ڈسکام کے تحت ملازمین کی کمی، ٹرانسفارمر مرمت میں تاخیر اور انتظامی بدانتظامی جیسے مسائل مزید بڑھیں گے جس سے کسانوں کو شدید نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر اس اسکیم کو آزمایا جائے کیونکہ ماضی میں انرجی آڈٹ اسکیمیں بھی کامیاب نہیں ہو سکیں۔انہوں نے تلنگانہ کے بجلی شعبہ میں آندھرا کے ملازمین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نئی ڈسکام میں صرف مقامی افراد کو ہی ترجیح دی جائے۔ کویتا نے کہا کہ کسانوں نے کبھی بھی الگ ڈسکام کا مطالبہ نہیں کیا اور حکومت کی یہ پالیسی دراصل کسانوں پر زبردستی مسلط کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈسکام کو لائسنس دیا گیا تو وہ ہر کسان تک جا کر حکومت کے “دھوکہ دہی پر مبنی فیصلوں” کو بے نقاب کریں گی۔انہوں نے حکومت کو 1999 کی فائرنگ جیسے واقعات سے سبق لینے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلے حالات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔آخر میں انہوں نے الیکٹرک ریگولیٹری کمیشن (ERC) سے اپیل کی کہ وہ اس تجویز کو فوری طور پر مسترد کرے اور حکومت کو کسان مخالف اقدامات سے باز رہنے کی ہدایت دے۔