*پروقار تقریب میںSET کے پہلے مرحلے کے نتائج کا ہوا اعلان محمد رضوان نے دو سال میں کڈس یونیورسٹی قائم کئے جانے کا سنایا مژدہ*

خصوصی رپورٹ :
*امتیاز احمد انصاری* آسنسول
اگرارادہ نیک، دل میں کچھ کرگذرنے کا جذبہ اور دماغ میں منزل پانے کا جنون سوار ہو جائے تو پھر اپنے حدف تک پہنچنے کا راستہ آسان ہوجاتا ہے۔ اس کی زندہ مثال کولکاتہ کی معروف تعلیمی تنظیم کڈس(کوی تیرتھ انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اینڈ اسٹڈیز) کے بانی وجنرل سکریٹری محمد رضوان ہیں۔ اس مرد مجاہد نے اپنے ہم مزاج لوگوں کے ساتھ مل کر بہت ہی محدود وسائل میں ورناکولر اسکولوں یعنی اردو،ہندی اور بنگلہ میڈیم کے طلبہ وطالبات کو انگریزی میڈیم اسکولوں کے طلبہ کے برابر لاکھڑا کرنے کے مقصد سے اسٹوڈنٹس ایوالیویشن ٹسٹ SET کی شروعات کولکاتہ کے خضر پورکے چھوٹے سے علاقے سے محض 46 بچوں سے کی اور آج اس ٹسٹ میں شامل ہونے والے طلبہ کی تعداد نو ہزار سے پار کرچکی ہے ۔ریاست بھر کے سات اضلاع کے 21 سنٹروں میں گزشتہ 19 جولائی کو ایک ساتھ آدھے گھنٹے کا آن لائن اور پھر دو گھنٹے کا آف لائن امتحان او ایم آر شیٹ پر لیا گیا۔ SET کے چیف کنٹرولر محمد محمداقبال انصاری اور ان کی ٹیم نے محض 13 دنوں کےاندر بالکل نئے طریقے سے بہت ہی ایڈوانسڈ شکل میں اس آن لائن امتحان کے نتائج کا اعلان کیا۔ اتوار کے دن مغربی بنگال اردو اکاڈمی میں آف لائن امتحان کے نتائج کا اعلان بھی اسی شایان شان طریقے سے چیف کنٹرولر اقبال انصاری اور ان کی ٹیم نے باضابطہ اسکرین اور پروجیکٹر کی مدد سے کیا ۔موصوف نے جدیدٹکنالوجی کی مدد سےملک بھر میں اپنی نوعیت کے اس انوکھے رزلٹ کی تفصیلات بیان کئے۔ اس اعلان کے ساتھ کڈس کےویب سائٹ پر بھی نتائج شائع کردیا گیا جسے کوئی بھی طالب علم اپنے ایڈمٹ کے کیو آر کوڈ اسکین کرکے یا اپنا رول نمبر ٹائپ کرکے دیکھ سکتا ہے۔ بیلگچھیا اردوہائی اسکول کے درجہ دوازدہم آرٹس کا طالب علم محمدامتشال نے تمام مضامین میں سد فیصد مارکس لاکر ٹاپر پوزیشن حاصل کیاہے جبکہ اسلامیہ ہائی اسکول کے درجہ دوازدہم سائنس کا طالب علم محمد سعد اورعبدل عابد نے 98 فیصد مارکس کے ساتھ دوسرا اور تیسرا مقام پایا۔ تقریب کی صدارت اردو اور فارسی ادب کی بزرگ شخصیت غلام سرور نے کی جبکہ نظامت کے فرائض صدف رضوان اپنے مخصوص لب ولہجہ میں بہت شانداراور متاثر کن انداز میں انجام دیا۔ موقعے پر پبلک سروس کمیشن کے سابق رکن پروفیسر منصور ، حکومت مغربی بنگال کے اعلی عہدے پر فائز تنویر افضل،مسلم انسٹی ٹیوٹ کے سابق جنرل سیکریٹری نثار احمد،اسلامی اسکالر صباح اسماعیل ندوی،آئی ڈی بی بینک سے تعلق رکھنے والے اقرا ماڈل اکاڈمی کے روح رواں غلام محمد،سیفی ہال کے سابق پرنسپل محمد جہانگیر،ادب نواز سماجی خدمات گارالحاج محمدقمرالدین ،انجمن ترقی اردو ہند کے ریاستی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر واصف اختر ودیگر نہ صرف اسٹیج پر جلوہ افروز رہے بلکہ کڈس کی تعلیمی کوششوں کی زبردست ستائش کرتے ہوئے ہرطرح سے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ۔کڈس کے جنرل سیکریٹری محمد رضوان نے سکریٹری رپورٹ کے درمیان جہاں ایک طرف بڑی کسمپرسی کی حالت میں گذاری گئی زندگی اور ہرطرح کے حالات سے لڑتے ہوئے اسسٹنٹ لیبر کمشنر کے عہدے تک پہنچنے کا ذکر کیا وہیں کڈس کی بنیاد ڈال کر ورناکولر اسکولوں کے طلبہ کے تعلیمی گراف اوپر اٹھانے کی کوششوں کو بیان کیا۔ موصوف نے بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ کڈس کے اس تعلیمی پروجیکٹ کاسالانہ خرچ تقریباً دیڑھ کروڑ روپے ہے مگر آج تک ان اخراجات کے لئے کسی سے بھی ایک روپے کا چندہ نہیں لیاگیا۔اللہ پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے علم دوست شخصیات کے تعاون سے پورا ہوتا آیا ہے ۔موصوف نے اسی اللہ پر کامل یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج میں اسی یقین کے دروازے پر کھڑے ہوکر آپ سبھوں کو یہ مژدہ سنانے جارہا ہوں کہ آئندہ دو سال کے اندر دوسو کڑوڑ روپئے کی رقم کا انتظام کرکے کڈس یونیورسٹی قائم کرنے کا ارادہ ہے جس میں ایک میڈکل کالج واسپتال، ایک انجنیئرنگ کالج،ایک منیجمنٹ کالج اور کڈس گروکول کے طور پر ایک سہ لسانی اسکول قائم کیا جائے گا۔اتنے بڑے پروجیکٹ کوعملی جامہ پہنانے کے لئے رضوان صاحب نے بنگال کے ہر متوسط طبقہ کے افراد کواپنے بچے وبچیوں کے شاندار تعلیمی مستقبل کےلئے اپنے اس بڑے مشن کا حصہ بننے کے لئے حصہ داری دینے کی بات کہی اور صرف دس ہزار روپئے ادا کرکے کڈس کالائف ممبر بن جانے کی ترغیب دی۔ممبر شپ کی رقم یکمشت نہ دے سکیں تو قسط وار بیس ماہ تک ماہانہ پانچ سو روپئے ادا کی جاسکتی ہے۔ڈائس پر موجود مہمانان اور سامعین نے نہ صرف اس اعلان کا خیر مقدم بھرپور تالیاں بجا کر کیا بلکہ 50سے زائد لوگوں نے اسی وقت لائف ممبرشپ کے لئے اپنی رضامندی ظاہر کردی اور کئی لوگوں نے اپنے توسط سے دوسروں کو بھی اس پروجیکٹ کا حصہ بنانے کا وعدہ کیا۔تقریب کاآغاز مہمانوں کو شانہ زیب اور بیچ پیش کرکے کیا گیا ۔ بعدازاں کڈس کے صدر گوپال سونار نے شاندار افتتاحی کلمات کے دوران کڈس کے روح رواں محمد رضوان اور پوری کڈس فیملی کی تعلیمی ترقی کی کوششوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ تشکر کے کلمات محمد شہنواز ادا کئے۔اس تقریب کے گواہ بننے والوں میں ڈاکٹر عقیل احمد عقیل،نوشاد مومن،جاوید نہال حشمی،سید انجم رومان،نسیم فائق سمیت کولکاتہ واطراف کے مختلف تعلیمی،سماجی وادبی شخصیات شامل رہے۔ پرولیا سے جمیل احمد،محمد شکیل قریشی،رانی گنج سے محمد فیروز،محمد افتخار،شہنواز عالم، گل محمد،محمد انور،محمد جاوید، آسنسول سے ڈاکٹر محمد انوار الحق،محمد سلیمان،قتیل احمد انصاری اور امتیاز احمد انصاری کے نام قابل ذکر ہیں ۔ اس پوری تقریب کو کامیاب بنانے کڈس کے ٹیم میں شامل وسیمہ پروین، نوشاد علی، محمد اشرف، آفتاب ندیم، نصرت خان،ذاکر حسین،محمد مسعود،نوید،رینا پانڈے،گلشن ناز،انگوری خاتون ودیگر کے نام قابل ذکر ہیں ۔










