*آسنسول اردو دربار میں بشیر بدر کوپیش کیا گیا خراج عقیدت* بین الاقوامی شہرت کےمالک، ساہتیہ اکادمی اور پدم شری ایوارڈ سے سرفراز شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کی یاد میں آسنسول کا معروف ادبی ادارہ “آسنسول اردو دربار ” میں اتوار کی شام غزل سنگر محمد حفیظ کی تحریک پر ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت برصغیر کے معمر افسانہ نگار الحاج نذیر احمد یوسفی نے کی جبکہ نظامت کی ذمہ داریاں امتیاز احمد انصاری انجام دئیے۔بشیربدر کے ہی شعر “عبادتوں کی طرح میں یہ کام کرتا ہوں/ میرا اصول کہ پہلے سلام کرتا ہوں ” سے اپنی باتوں کاآغاز کرتے ہوئے ناظم نشست امتیاز احمد انصاری نے بشیر بدر کی شاعرانہ عظمت کا اجمالی جائزہ ان کے بہت سارے مشہور اشعار کےساتھ پیش کئے۔ صاحب کتاب شاعر خورشید ادیب نے اس عظیم شاعر کو منظوم خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پہلے ایک قطعہ پیش کیا اور پھر ان کی عوامی مقبولیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں نوجوان دلوں کی دھڑکن کا شاعر بتایا۔ غزل سنگر محمد حفیظ نےکولکاتہ کے کلام مندر میں ہونے والے ایک مشاعرہ میں پہلی بار بشیر بدر سے ملاقات کی یادیں شئیر کرنے کے ساتھ مرحوم شاعر کی کئی خوبصورت غزلوں کو اپنی لوچ دارآواز میں پیش کرکے محفل کے مزہ کو دوبالا کردیا۔ کالم نویس اور کئی کتابوں کے خالق انجنئیر خورشید غنی نے بڑی تفصیل کے ساتھ بشیر بدر کی حیات وخدمات کا جائزہ پیش کیا ۔موصوف کے مطابق بشیر بدر ایک پیدائشی اور جینوئن شاعرتھے۔میرٹھ کے واقعہ کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اس حادثے کے بعد وہ دل برداشتہ ہوکر بہت دنوں تک شعروشاعری کی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلیا تھا مگر ان کے اندر کے شاعر نے انہیں دوبارہ اسی اب وتاب کے ساتھ مشاعروں کی دنیا میں واپس لایا ۔وہ خالص اردو کے پیداوار تھے اور انہیں جوعزت اور شہرت ملی وہ اسی پیاری زبان اردو کے بدولت ملی۔الحاج نذیر احمد یوسفی نے صدارتی خطبہ کے دوران بشیر بدر کی شعری خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جس شاعر نے تقریباً پانچ دہائیوں تک اردو ادب کی خدمت کی، جنہوں نے اردو ادب کو کئی شعری مجموعے دئیے اور جنہوں نے اردو کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنے ملک کی بھرپورنمائندگی کی ،سوشل میڈیا میں ان کے آخری سفرمیں شامل لوگوں کی تعداد کے تعلق سے جو خبریں آئیں وہ یقیناً افسوسناک ہے۔ اردو کے ایسے ممتاز شاعرکے ساتھ ایسی بےاعتنائی ہم اردو والوں کو خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے۔ ان کی مغفرت کی دعاء کے ساتھ یہ پروقار نشست اختتام پذیر ہوا ۔










