Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*خونِ حسینؓ اور بقائے حق: شہادت سے ابدیت تک*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*خونِ حسینؓ اور بقائے حق: شہادت سے ابدیت تک*

از قلم *اسماء جبین فلک*

*“حُسَیْنٌ مِنِّی وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ، أَحَبَّ اللّٰهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَیْنًا”*
*“حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔”*
(سنن ترمذی، حدیث: 3775)

تاریخِ انسانی میں بعض واقعات محض ماضی کا حصہ نہیں بنتے بلکہ زمانوں کے ضمیر میں مستقل طور پر زندہ رہتے ہیں۔ کربلا بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ یہ صرف ایک جنگ، ایک سیاسی اختلاف یا اقتدار کی کشمکش کا نام نہیں بلکہ حق، عدل، اصول، کردار اور انسانی وقار کے تحفظ کی ایسی داستان ہے جس نے صدیوں کے فاصلے کو مٹا کر ہر دور کے انسان سے مکالمہ قائم رکھا ہے۔
سرزمینِ عراق کے ایک نسبتاً غیر آباد مقام کربلا میں محرم الحرام سنہ اکسٹھ (61) ہجری  میں پیش آنے والا سانحہ اسلامی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس کے اثرات مذہبی، اخلاقی، سیاسی اور تہذیبی سطح پر آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ اس واقعے نے یہ سوال ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا کہ جب حق اور طاقت آمنے سامنے ہوں تو ایک صاحبِ ایمان کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟
سنہ ساٹھ (60) ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کے انتقال کے بعد ان کے فرزند یزید بن معاویہ حکمران بنے۔ اسی مرحلے سے اسلامی سیاسی تاریخ ایک نئے اور پیچیدہ دور میں داخل ہوئی۔
تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ یزید کے حق میں بیعت لینے کا عمل تیزی سے شروع کیا گیا۔ خصوصاً ان شخصیات کی بیعت کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی تھی جو امتِ مسلمہ میں عظیم مذہبی اور اخلاقی مقام رکھتی تھیں۔ ان میں سب سے نمایاں نام حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا۔
امام حسینؓ صرف رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے ہی نہیں تھے بلکہ اسلامی معاشرے میں حق گوئی، تقویٰ اور دینی وقار کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی رائے کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔
مختلف تاریخی روایات کے مطابق جب آپؓ سے بیعت کا مطالبہ کیا گیا تو آپؓ نے اسے قبول نہیں کیا۔ آپؓ کا موقف یہ تھا کہ امت کے مستقبل سے متعلق اتنا بڑا فیصلہ دباؤ یا خفیہ انداز میں نہیں کیا جا سکتا۔
بعض تاریخی روایات میں آپؓ سے منسوب یہ جملہ نقل ہوا ہے:
*“مِثْلِی لَا یُبَایِعُ مِثْلَہُ”*

“مجھ جیسا شخص اس جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔”

یہ الفاظ بعد کے ادوار میں ظلم اور جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئے۔
کوفہ اس زمانے میں سیاسی اور عسکری اعتبار سے ایک اہم شہر تھا۔ مختلف تاریخی ماخذوں کے مطابق وہاں کے لوگوں نے امام حسینؓ کو متعدد خطوط بھیجے اور درخواست کی کہ وہ کوفہ تشریف لا کر قیادت سنبھالیں۔
روایات میں خطوط کی تعداد مختلف بیان ہوئی ہے، تاہم اس بات پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ دعوت دینے والوں کی تعداد خاصی زیادہ تھی۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور بعض دیگر جلیل القدر صحابۂ کرامؓ نے امام حسینؓ کو اس سفر کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا۔ ان حضرات کا خیال تھا کہ کوفہ کے سیاسی حالات غیر یقینی ہیں۔
تاہم امام حسینؓ نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ روانہ فرمایا۔ ابتدائی اطلاعات حوصلہ افزا تھیں، لیکن بعد میں سیاسی حالات یکسر تبدیل ہو گئے اور حضرت مسلم بن عقیلؓ کو شہید کر دیا گیا۔
یہ خبر امام حسینؓ تک اس وقت پہنچی جب آپؓ سفر میں تھے۔
دو محرم کو امام حسینؓ کا قافلہ کربلا کے مقام پر پہنچا۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں تاریخ نے گویا اپنا رخ موڑ لیا۔
ادھر کوفہ کے گورنر عبیداللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کی قیادت میں ایک لشکر روانہ کیا جس کا مقصد امام حسینؓ کو سیاسی طور پر جھکانا تھا۔
بعد ازاں دریائے فرات تک رسائی محدود کر دی گئی۔ تاریخی روایات میں اس محاصرے کی تفصیلات مختلف انداز میں بیان ہوئی ہیں، لیکن یہ بات مسلم ہے کہ امام حسینؓ اور ان کے ساتھی شدید مشکلات اور تنگی کا سامنا کر رہے تھے۔
نو محرم کی رات اسلامی تاریخ کی عظیم ترین راتوں میں شمار ہوتی ہے۔
روایات کے مطابق امام حسینؓ نے اپنے ساتھیوں کو جمع فرمایا اور انہیں حالات کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ آپؓ نے واضح فرمایا کہ دشمن صرف انہیں نشانہ بنانا چاہتا ہے، اس لیے جو شخص واپس جانا چاہے وہ جا سکتا ہے۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ان جانثاروں نے اپنے قائد کو تنہا چھوڑنے سے انکار کر دیا۔
اس رات کربلا کے خیموں میں خوف سے زیادہ ایمان، اور اضطراب سے زیادہ یقین موجود تھا۔
دس محرم کی صبح ایک طرف محدود تعداد میں امام حسینؓ کے رفقاء تھے اور دوسری طرف ایک بڑا لشکر۔
امام حسینؓ نے جنگ سے قبل متعدد مرتبہ خطاب فرمایا اور اپنے نسب، اپنے مقام اور اپنے مقصد کی وضاحت کی۔
آپؓ کا بنیادی سوال یہی تھا:
“کیا میرے قتل کے لیے کوئی شرعی یا اخلاقی جواز موجود ہے؟”
تاریخ اس سوال کا کوئی مثبت جواب پیش نہیں کر سکی۔
اسی دوران حُر بن یزید ریاحی، جو ابتدا میں مخالف لشکر کا حصہ تھے، اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے امام حسینؓ کے قافلے میں شامل ہو گئے۔ ان کا یہ فیصلہ تاریخ میں اخلاقی جرات کی ایک عظیم مثال سمجھا جاتا ہے۔
عاشورہ کے دن امام حسینؓ کے اہلِ خاندان اور ساتھیوں نے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔
حضرت علی اکبرؓ، حضرت قاسمؓ، حضرت عباسؓ اور دیگر جانثار یکے بعد دیگرے میدان میں اترے اور شہادت کا رتبہ پایا۔
یہ قربانیاں صرف خاندانی محبت کا اظہار نہیں تھیں بلکہ ایک اصولی موقف سے وابستگی کا اعلان بھی تھیں۔
ہر شہادت گویا یہ پیغام دے رہی تھی کہ حق کی قیمت جان سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
بالآخر وہ لمحہ بھی آیا جب امام حسینؓ میدان میں تنہا رہ گئے۔
شدید جسمانی کمزوری، پیاس، مسلسل مصائب اور اہلِ خانہ کی شہادتوں کے باوجود آپؓ کے عزم میں کوئی لغزش پیدا نہ ہوئی۔میدانِ کربلا میں آپؓ کا ہر قدم گویا اس حقیقت کی گواہی دے رہا تھا کہ حق کی قوت تعداد، اسلحے اور اقتدار کی محتاج نہیں ہوتی۔ جب تمام ظاہری سہارے ختم ہو گئے تو بھی آپؓ کا اعتماد اپنے رب پر قائم رہا۔
پھر وہ لمحہ آیا جس نے تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ عاشورہ کی دوپہر میں، حق و استقامت کا یہ عظیم علمبردار اپنے رب کے حضور سرخرو ہو کر حاضر ہوا اور دس محرم سنہ اکسٹھ (61) ہجری کو حضرت امام حسینؓ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
شہادت کے بعد آپؓ کا سرِ مبارک جدا کیا گیا اور اہلِ بیت کے قافلے کو قیدی بنا کر کوفہ اور پھر دمشق لے جایا گیا۔
سیاسی اعتبار سے شاید مخالف فریق خود کو کامیاب سمجھ رہا تھا، لیکن تاریخ کا فیصلہ مختلف تھا۔
اقتدار چند برس زندہ رہا، جبکہ حسینؓ کا نام  صدیوں سے دلوں پر حکمرانی کر رہا ہے۔
اگر امام حسینؓ نے میدانِ کربلا میں اپنے خون سے حق کی گواہی دی تو حضرت زینبؓ نے اسی پیغام کو اپنی زبان اور استقامت سے زندہ رکھا۔ سانحۂ کربلا کے بعد جب اہلِ بیتؓ کو قیدی بنا کر کوفہ اور پھر دمشق لے جایا گیا تو بظاہر طاقت فاتح نظر آتی تھی، لیکن حقیقت میں اخلاقی فتح اُن لوگوں کے حصے میں آچکی تھی جنہوں نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا تھا۔
حضرت زینبؓ نے انتہائی مشکل حالات میں جس صبر، حوصلے اور بصیرت کا مظاہرہ کیا، وہ اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ کوفہ اور دمشق میں ان کے خطبات نے یہ واضح کر دیا کہ کربلا صرف ایک جنگ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور فکری پیغام کا نام ہے۔ ان خطبات نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا جس کے ذریعے واقعۂ کربلا کو محض ایک سیاسی بغاوت کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر امام حسینؓ نے کربلا میں حق کے لیے جان دی تو حضرت زینبؓ نے اسی حق کی گواہی کو تاریخ کے صفحات تک پہنچایا۔ اسی لیے بہت سے مؤرخین انہیں کربلا کے پیغام کی سب سے مؤثر ترجمان قرار دیتے ہیں۔ حضرت زینبؓ کو “راویۂ کربلا” بھی کہا جاتا ہے ، کیونکہ اگر ان کی استقامت نہ ہوتی تو شاید واقعۂ کربلا کی بہت سی تفصیلات تاریخ تک نہ پہنچ پاتیں۔
کربلا کو صرف رنج و الم کے واقعے کے طور پر دیکھنا اس کے پیغام کو محدود کر دینا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:
اصول وقتی مفاد سے بڑے ہوتے ہیں۔
اقتدار ہمیشہ حق کا معیار نہیں ہوتا۔
خاموشی بعض اوقات ظلم کی تائید بن جاتی ہے۔
اخلاقی جرات تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔
ایک فرد بھی حق کے لیے کھڑا ہو کر زمانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
کربلا کا اصل پیغام نفرت نہیں، بیداری ہے؛ انتقام نہیں، کردار ہے؛ اور محض سوگ نہیں، بلکہ شعور ہے۔
کربلا کی ریت پر بہنے والا خون وقت کی دھول میں گم نہیں ہوا۔ اس نے انسانی ضمیر میں ایک ایسا چراغ روشن کیا جو ہر دور کے مظلوم، ہر سچے انسان اور ہر صاحبِ اصول فرد کو راستہ دکھاتا ہے۔
امام حسینؓ کی عظمت اس بات میں ہی نہیں کہ وہ رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے تھے؛ ان کی عظمت اس بات میں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے نانا کے دین کی اخلاقی روح کو اپنے خون سے محفوظ کر دیا۔
چودہ سو برس گزرنے کے باوجود جب بھی حق اور باطل کا سوال اٹھتا ہے، تاریخ کے افق پر ایک آواز پھر گونجتی ہے:
“کربلا ختم نہیں ہوئی؛ کربلا ہر اُس لمحے زندہ ہو جاتی ہے جب انسان ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کے لیے کھڑا ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔”

Latest News

Related News