Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بی آر ایس میں شامل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: کویتا*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*بی آر ایس میں شامل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: کویتا*
*وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کسان دشمن پالیسیوں اور انتقامی سیاست پر عمل پیرا*
*بی آر ایس کے بدعنوانیوں کے 1400 کروڑ روپئے شہدائے تلنگانہ میں تقسیم کئے جائیں*
*کے ٹی آر ، ہریش راؤ  اور کانگریس حکومت پر  تلنگانہ رکشنا سینا کی صدر کی شدید تنقید*

تلنگانہ رکشنا سینا کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے بی آر ایس اور دیگر جماعتوں پر شدید تنقید کی اور کہا کہ بی آر ایس کے اکاؤنٹ میں موجود 1400 کروڑ روپئے کی بدعنوانی کی رقم شہداء کے خاندانوں میں تقسیم کی جانی چاہئے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کویتا نے واضح کیا کہ وہ اپنی جماعت کے قیام کے بعد عوامی مسائل پر جدوجہد کر رہی ہیں اور ان کے خلاف یہ پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ وہ دوبارہ بی آر ایس میں شامل ہوں گی جو سراسر غلط ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ جب تک ان میں جان ہے وہ دوبارہ بی آر ایس میں شامل نہیں ہوں گی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک طرف بی آر ایس قیادت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ انہیں ان کی پارٹی سے کوئی خطرہ نہیں، دوسری طرف الیکشن کمیشن کے پاس ایک ہزار سے زائد شکایات درج کروائی گئی ہیں تاکہ ان کی جماعت کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پارٹی نام کو روکنے کے لئے سازشیں کی جا رہی ہیں اور میڈیا کو بھی دباؤ میں لایا جا رہا ہے۔
کویتا نے کے ٹی آر پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئڈ پرو کو کے تحت اپنے قریبی افراد کو غیر قانونی اجازتیں دیں اور میڈیا ادارے، انگریزی اخبار دی پائیونیر 188 کروڑ روپئے میں  خرید کر ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس پیسہ ہے تو کیا وہ میڈیا اور سوشیل میڈیا کو خرید کر سچ کو روک سکتا ہے؟انہوں نے بی آر ایس پر اخلاقی گراوٹ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف غیر مہذب زبان استعمال کی جا رہی ہے، جو ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس طرح کی حرکتیں بند نہ ہوئیں تو سخت ردعمل سامنے آئے گا۔
کویتا نے کہا کہ وہ عوامی مسائل، کارکنوں اور مزدوروں کے حقوق کے لئے مسلسل جدوجہد کرتی رہیں گی اور کسی بھی دباؤ میں نہیں آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اور کانگریس دونوں جماعتیں عوامی مسائل سے دور ہو چکی ہیں اور صرف بدعنوانی میں ملوث ہیں۔
کویتا نے سابق وزیر ہریش راؤ پر بھی سخت الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں کالیشورم اور پالمورو لفٹ اریگیشن منصوبوں میں مبینہ بدعنوانیوں کا اصل ذمہ دار قرار دیا۔ کویتا نے انہیں بدعنوانی کا اناکونڈا قرار دیا۔  انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کے سنگین الزامات کے باوجود بی آر ایس ایسی قیادت کو عوام کے سامنے پیش کر رہی ہے جس کے دورِ اقتدار پر بدعنوانی کے گہرے داغ ثبت ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہریش راؤ معروف کارپوریٹ تعلیمی اداروں نارائنا اور سری چیتنیا کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھتے ہیں، جبکہ تلنگانہ رکشنا سینا نے عوامی مفاد کے پیش نظر ان اداروں کو نظام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے تھے۔

انہوں نے کالیشورم پروجیکٹ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ کو عوام کو گمراہ کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ کسانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ دانستہ طور پر آبپاشی کے مسائل حل نہیں کر رہی ہے۔ کویتا نے کسانوں، مزدوروں اور سنگارینی ورکرس کے مسائل پر بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کر رہی ہے۔
ریاستی حکومت اور وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کویتا نے کہا کہ موجودہ حکومت سیاسی انتقام اور ذاتی عناد کی بنیاد پر فیصلے کر رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان ریاست کے کسانوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم منصوبے سے کسانوں کو پانی فراہم کرنے کے لیے متبادل انتظامات ممکن ہونے کے باوجود حکومت دانستہ طور پر منصوبے کو غیر فعال رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈی گڈا بیراج کو استعمال کیے بغیر بھی کنی پلی پمپ ہاؤس سے انارم اور سندیلا بیراجوں کے ذریعے مختصر حفاظتی بند تعمیر کرکے آبپاشی کا پانی فراہم کیا جا سکتا ہے، لیکن حکومت سیاسی عناد کی وجہ سے ایسا نہیں کر رہی اور کسانوں کو پانی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
کویتا نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت کسانوں سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔ رعیتو بھروسہ، پنشن اور فصلی بونس کی ادائیگیوں میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے، جبکہ یوریا کے حصول کے لیے کسانوں کو نئی ایپس اور می سیوا مراکز کے غیر ضروری مراحل سے گزار کر مزید مشکلات میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ محبوب نگر ضلع میں ایک ایتھانول فیکٹری کے خلاف احتجاج کرنے والے 90 کسانوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جبکہ 9 کسانوں کے نام پر راؤڈی شیٹس کھولی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جمہوری حقوق کو دبانے کی بدترین مثال ہے اور مطالبہ کیا کہ ان تمام مقدمات اور راؤڈی شیٹس کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
کویتا نے الزام لگایا کہ ماحول کو آلودہ کرنے والی کارپوریٹ کمپنیاں ایک طرف عوام کی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور دوسری جانب اسی نقصان کو بنیاد بنا کر اسپتال قائم کر رہی ہیں، جو عوام کے ساتھ کھلا تضاد اور ناانصافی ہے۔


انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسانوں پر درج مقدمات فوری واپس لئے جائیں اور مزدوروں کے مسائل حل کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ سنگارینی ادارہ کو مضبوط بنانے کے لئے حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں اور مقامی افراد کو روزگار فراہم کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو وہ جمہوری طریقے سے احتجاج اور بھوک ہڑتال کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گی۔آخر میں کویتا نے کہا کہ ان کی جدوجہد صرف عوام کے حقوق کے لئے ہے اور وہ ہر قیمت پر اسے جاری رکھیں گی۔