*سرکاری اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے: کلواکنٹلہ کویتا*
*انٹیگریٹڈ اسکولوں کے ٹنڈرس میں بے ضابطگیوں کا الزام۔ تعلیم کو خانگیانے کی سازشوں کی مذمت*
تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی پر شدید تنقید کی اور نالزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت سرکاری تعلیمی نظام کو مکمل طور پر نجی شعبہ کے حوالے کرنے کی سازش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی کمیشن کی رپورٹ کے نام پر 27 ہزار سرکاری اسکولوں کو گھٹا کر صرف 4 ہزار تک محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کی تلنگانہ رکشنا سینا شروع سے ہی مخالفت کر رہی ہے۔
کویتا نے کہا کہ “ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ اسکولس” کے نام پر ہر اسکول پر تقریباً 146 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ ہے اور 72 اسکولوں کے لئے مجموعی طور پر تقریباً 11 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان منصوبوں میں نصف سے زیادہ کام مخصوص کمپنیوں میگھا اور کے ایم وی کو دیا گیا ہے، جس سے ٹنڈرس میں بے ضابطگیوں کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کمپنیوں کی جانب سے زائد قیمت پیش کئے جانے کے سبب حکومت پر 600 کروڑ روپئے سے زیادہ کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ مزید یہ کہ اتنے بڑے منصوبے کو ڈھائی سال میں مکمل کرنا ممکن نہیں، کیونکہ ایک اسکول کی تعمیر میں کم از کم تین سال درکار ہوتے ہیں۔
کویتا نے الزام عائد کیاکہ ک حکومت دیہی علاقوں میں کارپوریٹ اسکولوں کو فروغ دے رہی ہے جبکہ موجودہ سرکاری اسکولوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ اسکولوں کے واجبات ادا نہیں کئے جا رہے ہیں۔ جس سے ان اداروں کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ اگر اسکولوں کی تعداد کم کی جائے گی تو موجودہ اساتذہ کا کیا ہوگا اور کیا نئی بھرتیاں کی جائیں گی یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری تعلیم کو نجی شعبہ کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی تو تلنگانہ رکشنا سینا ہرگز خاموش نہیں بیٹھے گی۔کویتا نے مڈ ڈے میل اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو دی جانے والی انڈے کی قیمت صرف 6 روپئے مقرر کی گئی ہے، جبکہ بازار میں اس کی قیمت 8 روپے ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہفتے میں تین دن کے بجائے پانچ دن انڈے فراہم کئے جائیں اور اس کی قیمت بھی بڑھائی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو نہ تو ناشتے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے اور نہ ہی اسکول یونیفارمس دیئے جا رہے ہیں، حالانکہ تعلیمی سال شروع ہوئے ایک ماہ گزر چکا ہے۔کویتا نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے سرکاری اسکولوں کو بند کرنے یا کمزور کرنے کی کوشش کی تو عوام سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں انٹیگریٹڈ اسکول قائم کرنے سے خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوگی کیونکہ والدین لڑکیوں کودور دراز اسکولوں میں بھیجنے سے گریز کریں گے۔انہوں نے زور دیا کہ دیہات میں مقامی سطح پر اسکولوں کا قیام برقرار رکھا جائے اور گاؤں کے سرپنچ اس مسئلہ پر آواز اٹھائیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انٹیگریٹڈ اسکولوں کے نام پر موجودہ اسکولوں کو بند کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، جسے کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔








