*نریلا واقعہ کے متاثرین آج تک انصاف سے محروم*
*کے کویتا کی آنجہانی جی گوپال کے افراد خاندان سے اظہار تعزیت*
*ریاست کے عوام کے تحفظ کے لئے ٹی آر ایس کا قیام۔ہر ممکن جدوجہد کا عزم*

سرسلہ: تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے نریلا واقعہ کو انتہائی افسوسناک اور شرمناک قرار دیا اور کہا کہ یہ ایسا سانحہ ہے جس پر ہر شخص کو شرمندگی محسوس ہونی چاہئے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرتے ہوئے خاص طور پر آنجہانی جی گوپال کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔کویتا نے کہا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت وہ بھی اس حکومت کا حصہ تھیں اس لئے وہ شرمندگی کے ساتھ متاثرین سے معذرت خواہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چند افراد کی لالچ کی وجہ سے بے گناہ لوگوں کی جانیں گئیں جو ناقابل قبول ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریت کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف احتجاج کرنے والے عوام پر پولیس نے بے رحمانہ تشدد کیا اور کئی دنوں تک افراد کو حراست میں رکھ کر مارا پیٹا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس ظلم میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ کویتا نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، بی جے پی رہنما بنڈی سنجے اور مقامی رکن اسمبلی کے ٹی آر سے سوال کیا کہ متاثرین کو انصاف کیوں نہیں دیا جا رہاہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ایس سی کمیشن کی تحقیقات کے باوجود رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی، جس سے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو آج تک حکومت کی جانب سے ایک روپیہ بھی نہیں ملا لہٰذا تمام متاثرین کو کم از کم ایک کروڑ روپئے معاوضہ دیا جائے اور ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے۔کویتا نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر سیاست کرنے کے بجائے انسانی ہمدردی کے تحت متاثرین کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ متاثرین کے ساتھ دہلی جا کر بھی انصاف کے لئے جدوجہد کریں گی۔انہوں نے کہا کہ پولیس کو کسی بھی صورت میں قانون سے بالاتر ہو کر تشدد کا اختیار نہیں دیا جا سکتا اور اگر متاثرین سے کوئی غلطی ہوئی تھی تو قانونی طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہئے تھا۔آخر میں کویتا نے واضح کیا کہ تلنگانہ رکشنا سینا ریاست کے عوام کے تحفظ کے لئے قائم کی گئی ہے اور وہ نریلا متاثرین کو انصاف دلانے تک جدوجہد جاری رکھیں گی۔









