Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ایس سی، ایس ٹی کمیشنوں کو اختیارات دیئے جائیں۔ آئینی ترمیم کے لئے متحدہ جدوجہد ضروری : کلواکنٹلہ کویتا*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*ایس سی، ایس ٹی کمیشنوں کو اختیارات دیئے جائیں۔ آئینی ترمیم کے لئے متحدہ جدوجہد ضروری : کلواکنٹلہ کویتا*

*کمیشنس صرف سفارشات تک محدود رہنے سے انصاف ممکن نہیں*

حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ایس سی، ایس ٹی کمیشنوں سمیت ملک کے تمام کمیشنوں کو اختیارات دینے کے لئے آئینی ترمیم ضروری ہے۔ وہ آج بشیر باغ پریس کلب میں ایس سی، ایس ٹی ایمپلائز اسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں ۔ کویتا نےکہا کہ آزادی کے بعد کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اس سمت میں موثر پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کمیشن زیادہ تر تحقیقات کرنے اور کارروائی کی سفارشات پیش کرنے تک محدود ہیں جبکہ ان کے فیصلوں پر عمل درآمد حکومت کے لئے لازمی نہیں ہوتا۔ اسی لئے ایس سی، ایس ٹی کمیشنوں کو سیبی اور الیکشن کمیشن جیسے قابل نفاذ اختیارات دینے کے لئے ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کو آئینی ترمیم کے مطالبہ پر جدوجہد کرنی چاہئے۔کویتا نے کہا کہ ایس سی، ایس ٹی ملازمین کی جانب سے ایسے اجلاس منعقد کرنا ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے نظریات کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صدیوں تک ایس سی طبقات کو امتیاز، استحصال، ظلم اور بنیادی انسانی حقوق سے محرومی کا سامنا کرنا پڑاجبکہ ایس ٹی طبقات کے مسائل کی نوعیت مختلف ہے۔ ان کے مطابق بابا صاحب امبیڈکر کی جدوجہد کے نتیجہ میں محروم طبقات کو حقوق حاصل ہوئے اور آزادی کے بعد جبری مشقت اور زمینداروں کے مظالم جیسے مسائل سے نمٹنے کے لئے کمیشنوں کا نظام قائم کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ 1978 میں ایس سی کمیشن قائم کیا گیا اور بعد میں ایس سی، ایس ٹی کے لئے کمیشنوں کا نظام وجود میں آیاجبکہ 2003 میں واجپائی حکومت کے دور میں دونوں طبقات کے لئے الگ الگ کمیشن قائم کئے گئے۔ کویتا نے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ میں بھی ایس سی اور ایس ٹی کے لئے علیحدہ کمیشن قائم کئے جائیں، کیونکہ دونوں طبقات کے مسائل اور انہیں درپیش مشکلات مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی اقتدار میں آنے پر الگ الگ کمیشن قائم کرے گی تاہم اس وقت تک اس مطالبہ پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔کویتا نے کہا کہ کمیشن کا چیئرمین سیاسی رہنما ہو یا ریٹائرڈ جج، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کمیشن کے پاس کیا اختیارات ہیں۔ اگر اس کے فیصلوں پر عمل درآمد ضروری نہ ہو تو چیئرمین کی حیثیت سے کسی بھی شخص کی تقرری سے متاثرین کو حقیقی انصاف نہیں مل سکتا۔ انہوں نے نیریلا واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب تک ایس سی کمیشن کی رپورٹ سامنے نہیں آئی اور اگر رپورٹ آ تی بھی ہے تو حکومت کے لئے اس پر عمل کرنا لازمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے کمیشنوں کو محض نمائشی ادارے یا ’’بغیر دانتوں کے شیر‘‘ کہا جاتا ہے اور ان کے متعدد فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ایس سی، ایس ٹی، خواتین، انسانی حقوق اور بچوں کے کمیشنوں کو بھی اختیارات ملنے چاہئیں۔ کمیشنوں میں مختلف شعبوں کے ماہرین کے ساتھ متاثرہ طبقات سے تعلق رکھنے والے ایسے نمائندے بھی شامل کئے جائیں جو ان کی مشکلات کو سمجھتے ہوں۔ کویتا نے کہا کہ کمیشنوں کے چیئرمین کے سیاسی رہنما ہونے پر اعتراض کرنے کے بجائے ایسے افراد کے انتخاب پر توجہ دینی چاہئے جو عوام کی تکلیف کو سمجھتے ہوں اور ان کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدگی سے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں بھی تعلیم یافتہ اور باوقار افراد کو آگے آنا چاہئے اور عوام کی مشکلات پر حساسیت کے ساتھ ردعمل ظاہر کرنا چاہئے۔کویتا نے  تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے موثر اختیارات کی کمی ہے، جبکہ کاروباری اداروں کے تحفظ کے لئے قائم بعض اداروں کے پاس وسیع اختیارات موجود ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دلت صنعت کاروں کو کاروبار کے میدان میں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے لئے صنعت کار بن کر آگے بڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ طبقات سے اپیل کی کہ وہ ایس سی، ایس ٹی سمیت تمام کمیشنوں کو  اختیارات دلانے اور اس مقصد کے لئے آئینی ترمیم کے مطالبہ پر متحد ہو کر جدوجہد کریں۔