*این ایچ ایم ملازمین کی تنخواہوں میں فنڈس کے باوجود کٹوتی ناانصافی : کلواکنٹلہ کویتا*
*سات ریاستوں میں این ایچ ایم ملازمین کو مستقل کیا گیا، تلنگانہ میں امتیازی سلوک کیوں؟*
حکومت فوری طور پر تنخواہوں میں اضافہ کرے اور ملازمین کو مستقل کرنے کے اقدامات کرے
حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے نیشنل ہیلت مشن (این ایچ ایم) کے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے جی او نمبر 1195 جاری کئے جانے کو سراسر ناانصافی قرار دیتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے آج بنجارہ ہلز میں واقع پارٹی دفتر میں این ایچ ایم ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کے قائدین کے ہمراہ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بھر میں این ایچ ایم کے تقریباً 17 ہزار ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن ان میں سے بعض ملازمین کی تنخواہوں میں 4 ہزار سے 5 ہزار روپئے تک کی کٹوتی کر دی گئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایک طرف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے اور عوام خشک سالی جیسے حالات کا سامنا کر رہے ہیں تو ایسے وقت میں ملازمین کی تنخواہیں کم کرنا کہاں کا انصاف ہے؟
کویتا نے کہا کہ حکومت نے بعض ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جبکہ دوسروں کی تنخواہیں کم کر دی گئیں۔ آخر ملازمین کے ساتھ اس قدر امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں کے لئے مرکزی حکومت فنڈز فراہم کر رہی ہے۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت انہیں وقت پر تنخواہیں ادا نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ این ایچ ایم ملازمین کی محنت کا استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کویتا نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اس معاملہ پر فوری طور پر توجہ دیں اور وزیر صحت کو ہدایت جاری کریں کہ وہ این ایچ ایم ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کے معاملہ کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب مرکزی حکومت کے قواعد کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں میں ہر سال 5 فیصد اضافہ کیا جانا چاہئے تو پھر ان کی تنخواہیں کم کرنے کا کیا جواز ہے۔؟
تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ نے کہا کہ کانگریس نے اقتدار میں آنے سے قبل این ایچ ایم ملازمین کو مستقل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد اب ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی سات ریاستوں میں این ایچ ایم ملازمین کو مستقل کیا جا چکا ہے، جن میں کانگریس کی حکومت والی ہماچل پردیش ریاست بھی شامل ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آندھرا پردیش میں بھی ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مستقل کرنے کے لئے اسمبلی میں قرارداد منظور کی گئی ہے۔ کویتا نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں این ایچ ایم ملازمین کے لئے مختص فنڈس کو دوسری مدات میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت بلا تاخیر تمام این ایچ ایم ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرے اور انہیں مستقل کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے۔
کویتا نے کہا کہ دیہی علاقوں میں صحت عامہ کے نظام کو موثر انداز میں چلانے میں این ایچ ایم ملازمین کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ ملازمین ٹیکہ اندازی سمیت عوام کو ان کے مقامی علاقوں میں طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ حکومت کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر این ایچ ایم ملازمین ایک دن بھی کام بند کر دیں تو دیہی صحت کا پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملازمین نے تنخواہوں میں کٹوتی کے خلاف احتجاجی دھرنا منظم کرنے کی اجازت طلب کی لیکن انہیں اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ مزید برآں ریاستی وزیر صحت کی جانب سے ملازمین کو ملاقات کا وقت تک نہ دیا جانا انتہائی افسوسناک ہے۔ کویتا نے مطالبہ کیا کہ حکومت ملازمین کے مسائل کو فوری طور پر حل کرے اور ان کے ساتھ انصاف کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے این ایچ ایم ملازمین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا تو تلنگانہ رکشنا سینا خود میدان میں اترے گی اور ملازمین کے حقوق کے لئے بڑے پیمانے پر عوامی جدوجہد شروع کرے گی۔










