Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*اللہ کے نام پر کچھ دے دو۔*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

*اللہ کے نام پر کچھ دے دو۔*

ریلوے اسٹیشن ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر روز ہزاروں لوگ آتے جاتے ہیں۔ کوئی اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے بے قرار ہوتا ہے، کوئی نئی منزل کی تلاش میں سفر کرتا ہے، کوئی روزگار کے سلسلے میں دوسرے شہر جا رہا ہوتا ہے، اور کوئی اپنے دکھوں اور پریشانیوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسٹیشن پر ہر وقت ایک عجیب سی گہماگہمی رہتی ہے۔ کہیں مسافر اپنے سامان کے ساتھ بھاگتے نظر آتے ہیں، کہیں قلی آوازیں لگاتے ہیں، کہیں چائے اور کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرنے والے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ انہی بے شمار لوگوں کے درمیان ایک بوڑھا فقیر بھی روزانہ اسٹیشن کے ایک کونے میں بیٹھا رہتا تھا۔
وہ فقیر اسٹیشن کے پرانے پل کے نیچے، ایک ٹوٹی ہوئی دیوار کے ساتھ بیٹھتا تھا۔ اس کے کپڑے پرانے، میلے اور جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے۔ سردیوں میں وہ اپنے جسم کو ایک بوسیدہ کمبل میں لپیٹ لیتا، جبکہ گرمیوں میں دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ایک پرانی چادر رکھ لیتا تھا۔ اس کے چہرے پر وقت کی سختیوں کے گہرے آثار نمایاں تھے۔ سفید داڑھی بے ترتیب تھی، بال بکھرے ہوئے تھے اور آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی بسی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود اس کے چہرے پر نرمی اور شرافت کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔
وہ ہر آنے جانے والے مسافر سے صرف اتنا کہتا، “اللہ کے نام پر کچھ دے دو۔” اس کی آواز بہت بلند نہیں ہوتی تھی، مگر اس میں ایسی عاجزی ہوتی کہ بعض لوگ رک کر اسے دیکھنے لگتے۔ کچھ مسافر اسے چند سکے دے دیتے، کچھ روٹی یا کھانے کا پیکٹ پکڑا دیتے، جبکہ زیادہ تر لوگ جلدی میں اس کے پاس سے گزر جاتے اور اسے نظر انداز کر دیتے۔ وہ کسی سے شکایت نہیں کرتا تھا۔ اگر کوئی اسے جھڑک دیتا تو وہ خاموشی سے سر جھکا لیتا اور اگر کوئی کچھ دے دیتا تو ہاتھ اٹھا کر دعا دیتا۔
سردی ہو یا گرمی، بارش ہو یا دھوپ، وہ اسی جگہ بیٹھا رہتا۔ شدید سرد راتوں میں جب اسٹیشن کے بیشتر مسافر گرم کمروں یا ٹرینوں میں پناہ لے لیتے، تب بھی وہ اپنے کمبل میں دبکا ہوا اسی کونے میں موجود ہوتا۔ بارش کے دنوں میں پانی اس کے اردگرد جمع ہو جاتا، مگر وہ اپنی معمولی سی پوٹلی کو سینے سے لگا کر بیٹھا رہتا۔ اس پوٹلی میں چند پرانے کپڑے، ایک ٹوٹی ہوئی تسبیح، کچھ کاغذ اور ایک زنگ آلود ڈبیا تھی، جسے وہ ہمیشہ بڑی احتیاط سے سنبھال کر رکھتا تھا۔
اسٹیشن کے دکاندار اسے برسوں سے جانتے تھے۔ چائے والا کبھی کبھار اسے ایک کپ چائے دے دیتا، جبکہ اخبار فروش اسے پرانے اخبار دے دیتا تاکہ وہ زمین پر بچھا سکے۔ کچھ بچے اسے چھیڑتے اور اس کے قریب سکے پھینک کر ہنستے، مگر وہ انہیں بھی بددعا نہیں دیتا تھا۔ وہ صرف اتنا کہتا، “اللہ تمہیں خوش رکھے اور تمہیں کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔”
ایک دن ایک نوجوان اسٹیشن پر اپنے دوست کو رخصت کرنے آیا۔ ٹرین کے آنے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا، اس لیے وہ پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگا۔ اچانک اس کی نظر اس بوڑھے فقیر پر پڑی۔ نوجوان نے دیکھا کہ فقیر ایک چھوٹی سی بچی کو اپنی روٹی کا آدھا حصہ دے رہا تھا۔ بچی شاید کئی گھنٹوں سے بھوکی تھی، اس لیے وہ جلدی جلدی روٹی کھانے لگی۔ فقیر خود بھوکا تھا، مگر اس نے اپنی ضرورت کو نظر انداز کرکے بچی کو کھانا دے دیا۔
نوجوان یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ فقیر کے قریب گیا اور ادب سے پوچھا، “بابا! آپ یہاں کب سے بیٹھ رہے ہیں؟”
فقیر نے کچھ دیر خاموش رہ کر نوجوان کی طرف دیکھا۔ پھر دھیمی آواز میں بولا، “بیٹا، بہت سال ہو گئے۔ اتنے سال کہ اب مجھے خود بھی صحیح طرح یاد نہیں۔”
نوجوان نے دوبارہ پوچھا، “کیا آپ کا کوئی گھر نہیں؟ آپ کے بچے یا رشتہ دار نہیں ہیں؟”
فقیر نے ایک گہری سانس لی اور دور کھڑی ٹرین کی پٹریوں کو دیکھنے لگا۔ پھر بولا، “بیٹا، کبھی میں بھی اسی اسٹیشن سے ٹرین پکڑ کر اپنے خوابوں کی طرف جایا کرتا تھا۔ میرے پاس بھی ایک چھوٹا سا گھر تھا، ایک بیوی تھی، دو بچے تھے اور زندگی کے بارے میں بہت سی امیدیں تھیں۔ میں ایک کارخانے میں کام کرتا تھا اور محنت کرکے اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتا تھا۔”
وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگیا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
“پھر ایک دن کارخانے میں حادثہ ہوگیا۔ میری ٹانگ زخمی ہوگئی اور میں کئی مہینوں تک کام نہ کر سکا۔ علاج کے لیے گھر کا سامان بکتا گیا۔ قرض بڑھتا گیا اور حالات خراب ہوتے گئے۔ جب میں دوبارہ کام کے قابل ہوا تو کارخانہ بند ہو چکا تھا۔ میں نے بہت جگہ کام تلاش کیا، مگر کوئی مجھے رکھنے پر تیار نہ ہوا۔”
نوجوان پوری توجہ سے اس کی بات سن رہا تھا۔
فقیر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، “غربت نے میرے گھر کا سکون چھین لیا۔ میری بیوی بیمار رہنے لگی اور ایک دن وہ بھی مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔ بچے چھوٹے تھے، اس لیے میں انہیں اپنے ایک رشتہ دار کے پاس چھوڑ آیا۔ سوچا تھا کہ حالات بہتر ہوتے ہی انہیں واپس لے آؤں گا، مگر حالات کبھی بہتر نہ ہوئے۔ وقت گزرتا گیا اور میرے بچے بھی مجھ سے دور ہوتے گئے۔”
نوجوان نے افسوس سے پوچھا، “کیا آپ نے انہیں دوبارہ تلاش نہیں کیا؟”
فقیر نے اپنی پوٹلی سے ایک پرانی تصویر نکالی۔ تصویر کے کنارے مڑے ہوئے تھے اور اس پر وقت کے نشان نمایاں تھے۔ اس نے تصویر نوجوان کو دکھاتے ہوئے کہا، “یہ میرے بچے ہیں۔ اب نہ جانے کہاں ہوں گے۔ کئی بار انہیں تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر میرے پاس نہ پیسے تھے، نہ کوئی ذریعہ۔ شاید وہ مجھے بھول چکے ہوں، یا شاید انہیں بتایا گیا ہو کہ ان کا باپ مر چکا ہے۔”
نوجوان نے تصویر کو غور سے دیکھا۔ اس میں ایک خوش حال خاندان مسکرا رہا تھا۔ بوڑھے فقیر کے موجودہ حال اور تصویر میں موجود شخص کے درمیان زمین آسمان کا فرق تھا۔
فقیر نے دھیمی آواز میں کہا، “بیٹا، انسان کو حالات بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ کل تک میں بھی لوگوں کی طرح صاف کپڑے پہنتا تھا، عزت سے کام کرتا تھا اور اپنے بچوں کے لیے خواب دیکھتا تھا۔ آج لوگ مجھے صرف ایک فقیر سمجھتے ہیں۔ مگر میں بھی کبھی کسی کا باپ، کسی کا شوہر اور کسی کا سہارا تھا۔”
یہ سن کر نوجوان خاموش ہوگیا۔ اسے احساس ہوا کہ جس شخص کو وہ صرف ایک فقیر سمجھ رہا تھا، اس کے سینے میں بھی ایک پوری داستان دفن ہے۔ اس نے جیب سے کچھ رقم نکالی اور فقیر کو دینے لگا، مگر فقیر نے صرف ضرورت کے مطابق رقم لی اور باقی واپس کرتے ہوئے بولا، “بیٹا، اتنا ہی کافی ہے۔ کسی اور ضرورت مند کو بھی دے دینا۔”
نوجوان نے حیرت سے پوچھا، “بابا! آپ کو زیادہ رقم کی ضرورت نہیں؟”
فقیر مسکرا کر بولا، “ضرورت تو ہر انسان کو ہوتی ہے، مگر لالچ نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ نے جتنا دیا ہے، اس پر شکر کرنا چاہیے۔”
اسی دوران ٹرین کی سیٹی بجی۔ مسافر اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہونے لگے۔ کوئی اپنے عزیزوں کو الوداع کہہ رہا تھا، کوئی کھڑکی سے ہاتھ ہلا رہا تھا اور کوئی جلدی جلدی اپنی نشست تلاش کر رہا تھا۔ نوجوان بھی اپنے دوست کو رخصت کرنے کے لیے ٹرین کے قریب چلا گیا، مگر اس کا دل بار بار اس بوڑھے فقیر کی طرف متوجہ ہو رہا تھا۔
ٹرین چل پڑی۔ نوجوان نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو بوڑھا فقیر اب بھی اسی جگہ بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں دور جاتی ہوئی ٹرین کو دیکھ رہی تھیں، جیسے اس ٹرین کے ساتھ اس کی زندگی کی آخری امید بھی دور جا رہی ہو۔ مگر اس کے ہاتھ میں وہی پرانی تسبیح تھی اور لبوں پر کسی کے لیے دعا جاری تھی۔
کچھ دن بعد نوجوان دوبارہ اسی اسٹیشن پر آیا۔ اس نے فقیر کو تلاش کیا، مگر وہ وہاں موجود نہیں تھا۔ اس نے چائے والے سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ بوڑھا فقیر بیمار ہوگیا تھا۔ اسٹیشن کے چند لوگوں نے اسے قریبی اسپتال پہنچایا، مگر وہ زیادہ دن زندہ نہ رہ سکا۔ مرنے سے پہلے اس نے اپنی پوٹلی اسٹیشن کے چائے والے کے حوالے کی اور کہا کہ اگر کبھی کوئی ضرورت مند بچہ ملے تو اس کی مدد کر دینا۔
نوجوان نے یہ خبر سنی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اسے احساس ہوا کہ وہ بوڑھا فقیر خود بے سہارا ہونے کے باوجود دوسروں کے لیے سہارا بننے کی کوشش کرتا رہا۔ اس کے پاس دولت نہیں تھی، مگر دل بہت بڑا تھا۔ اس کے پاس گھر نہیں تھا، مگر وہ ہر ضرورت مند کو اپنا سمجھتا تھا۔
نوجوان نے اس دن فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی میں کبھی کسی غریب، فقیر یا بے سہارا انسان کو حقیر نہیں سمجھے گا۔ اس نے اسٹیشن کے قریب ایک چھوٹا سا خیراتی مرکز قائم کیا، جہاں مسافروں اور ضرورت مندوں کے لیے کھانا، کپڑے اور دوائیں فراہم کی جانے لگیں۔ اس مرکز کے دروازے پر ایک تختی لگائی گئی جس پر لکھا تھا
“کسی کے ظاہری حال کو دیکھ کر اس کی قدر نہ کرو، کیونکہ ہر انسان کے دل میں ایک ایسی کہانی چھپی ہوتی ہے جسے دنیا نہیں جانتی۔”

*طارق اطہر حسین*
عبدالحمید نگر برنپور آسنسول مغربی بنگال