*جھریا (دھنباد) میں ایک یادگار ادبی نشست*
آج ایک ذاتی کام کے سلسلے ناچیز امتیاز احمد انصاری کو جھریا (دھنباد) جانے کا اتفاق ہوا۔ میری آمد کی خبر جیسے ہی سہ ماہی ادبی رسالہ “رنگ” کے مدیرِ اعلیٰ، ممتاز شاعر و ادیب ڈاکٹر اقبال حسین صاحب کو ملی، انہوں نے اپنی روایتی محبت اور ادبی فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے، فوراً ہی بزرگ شاعر محترم امتیاز بن عزیز صاحب کے دولت کدے پر اس خاکسار کے اعزاز میں ایک مختصر مگر پُر وقار شعری نشست کا اہتمام فرما دیا۔
مجھے اس وقت حیرت کے خوشگوار جھٹکے لگے جب اس بزم کی صدارت کا بار میرے ناتواں کاندھوں پر ڈالنے کا اعلان کیا گیا، جب کہ نظامت کے فرائض خود میزبانِ محفل، بزرگ شاعر امتیاز بن عزیز صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے سنبھال لیے۔
پھر کیا تھا، بزم میں شعر و سخن کا ایک دلکش سلسلہ شروع ہو گیا۔
شاعرِ باکمال محترم امتیاز دانش ندوی صاحب، باوقار شاعر ڈاکٹر اقبال حسین صاحب، طنزو مزاح کے نمائندہ شاعر محترم یونس فردوسی صاحب، بزرگ وتجربہ کار شاعرو ناظم نشست محترم امتیاز بن عزیزاور جدید لب و لہجہ کے ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر ساجد انصار صاحب نے باری باری اپنے تازہ کلام سے نوازا اور خوب داد و تحسین بٹورے۔ ہر شعر پر واہ واہ کی صدائیں بلند ہوتی رہیں اور محفل کی فضا مشاعرہ گاہ میں ڈھل گئی۔
بحیثیتِ صدر، خاکسار نے اپنے تاثرات میں شرکائے بزم، بالخصوص ڈاکٹر اقبال حسین صاحب، امتیاز بن عزیز صاحب اور امتیاز دانش صاحب کی بے پناہ محبتوں اور خلوص کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی ادبی رشتوں کی بنیاد پر منعقد ہونے والی اس طرح کی نشستوں کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں خاکسار نے بھی چند غزلیں اور نظمیں سامعین کی سماعتوں کے حوالے کئے۔
آخر میں ادب نواز شخصیت محترم نذیر صاحب کے پرخلوص کلماتِ تشکر کے ساتھ اس یادگار نشست کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر عبد المتین صاحب (سیتارام پور) اور ماسٹر محمد فیاض صاحب (آسنسول) بحیثیتِ سامع شریکِ محفل رہے۔
یہ ایک چھوٹی سی نشست تھی، مگر اس کی یادیں بہت بڑی ہیں۔
*امتیاز احمد انصاری*
*آسنسول*










