Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*مردم شماری میں او بی سی ذاتوں کی گنتی کے لئے علیحدہ کالم مختص کیا جائے*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

*مردم شماری میں او بی سی ذاتوں کی گنتی کے لئے علیحدہ کالم مختص کیا جائے*

*آدی واسیوں کی مذہبی شناخت کے لئے بھی اقدامات پر زور*

*تلنگانہ اسمبلی اور کونسل میں قرارداد کی منظوری کا مطالبہ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کےنام کے کویتا کا کھلا مکتوب*

حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مردم شماری میں او بی سی طبقات کی ذاتوں کی گنتی کے لئے علیحدہ کالم مختص کرنے کی سفارش کرتے ہوئے تلنگانہ اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں قراردادیں منظور کی جائیں۔ انہوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے نام اتوار کو ایک کھلا مکتوب تحریر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آدی واسیوں کے مذہب کے اندراج کے لئے بھی مردم شماری میں علیحدہ کالم کی فراہمی کی قرارداد منظور کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر سے گھر گھر مردم شماری کا عمل شروع ہونے والا ہے، ایسے میں ریاستی حکومت کو اس اہم مسئلے پر فوری طور پر توجہ دینی چاہئے۔کویتا نے اپنے مکتوب میں کہا کہ ملک کو آزادی حاصل ہوئے 75 سال گزرنے کے باوجود بی سی طبقات کو ان کی آبادی کے تناسب سے حقوق اور فوائد حاصل نہیں ہورہے ہیں۔ ملک بھر میں او بی سی طبقات کی حقیقی آبادی سے متعلق قانونی اور مستند اعداد و شمار موجود نہ ہونے کے باعث انہیں ان کے جائز حقوق اور مراعات نہیں مل پارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح مردم شماری میں ایس سی اور ایس ٹی طبقات کی گنتی کی جاتی ہے، اسی طرح او بی سی طبقات کی بھی باقاعدہ گنتی کی جانی چاہئے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ مردم شماری میں ذات کے اندراج کے لئے کالم موجود ہونے کے باوجود ایسا کوئی علیحدہ کالم نہیں ہے جس کے ذریعہ او بی سی زمرے سے تعلق رکھنے والوں کی واضح شناخت ہوسکے۔ اس کے نتیجہ میں او بی سی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو دیگر زمروں میں شمار کئے جانے کا خدشہ رہتا ہے، جس سے ان کی حقیقی آبادی کا درست اندازہ نہیں ہوپاتا۔ کویتا نے بتایا کہ ملک بھر میں مختلف او بی سی تنظیمیں مردم شماری میں ذاتوں کی گنتی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کررہی ہیں۔ ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تلنگانہ حکومت کو فوری طور پر اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے خصوصی اجلاس طلب کرنے چاہئیں۔
کویتا نے کہا کہ آدی واسی ملک کے اصل باشندے ہیں اور ان کا طرزِ زندگی، ثقافت اور مذہبی روایات منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ قدرت اور جنگلات کو اپنی عبادت کا مرکز ماننا آدی واسی معاشرے کی نمایاں خصوصیت ہے۔ مختلف آدی واسی قبائل اپنے اپنے مخصوص دیوتاؤں، درختوں، پرندوں اور جانوروں کی پوجا کرتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی کی مردم شماری میں آدی واسیوں کے عقائد کو علیحدہ مذہب کے طور پر درج کیا جاتا تھا۔
انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ موجودہ مردم شماری میں آدی واسی عقائد کے اندراج کے لئے علیحدہ کالم موجود نہ ہونے کے باعث متعلقہ طبقات میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ او بی سی طبقات کی حقیقی آبادی کا تعین کرنے اور آدی واسیوں کے مذہبی تشخص کو علیحدہ طور پر درج کرنے کے لئے مرکزی حکومت پر دباؤ بڑھانا ضروری ہے۔
کویتا نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے اپیل کی کہ تلنگانہ اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے خصوصی اجلاس فوری طور پر طلب کئے جائیں اور او بی سی ذاتوں کی مردم شماری اور آدی واسیوں کے مذہبی عقیدہ کے علیحدہ اندراج کے سلسلے میں دو الگ الگ قراردادیں منظور کرکے مرکزی حکومت کو روانہ کی جائیں، تاکہ ان طبقات کو ان کی آبادی، حقوق اور منفرد شناخت کے مطابق انصاف مل سکے۔

Latest News