Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ویلنٹاٸن ڈے سرخ گلاب پیش کرنے کے بجاۓ نکاح کرکے مناٸیں*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ویلنٹائین ڈے کا تہوار ہر سال 14 فروری کو ساری دنیا میں یوم عشاق کے طور پر منایا جاتاہے اس دن غیر شادی شدہ جوڑے ایک دوسرے کو پھول اور تحائف دے کر اپنی محبت وعقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ویلنٹاٸن ڈے کے تعلق سے توبہت ساری تاریخیں موجود ہیں لیکن حقیقی تاریخ ابھی تک دنیا کو معلوم نہیں ہے۔باوجوداسکے یہ بتایا جاتا ہے کہ اس دن کا تعلق Valentine Saint سے نہیں بلکہ قدیم رومیوں کے ایک دیوتا Lupercallia کے مشرکانہ تہوار سے ہے۔ اس تہوار میں لڑکیوں کے نام ایک برتن میں ڈال دیے جاتے اور مرد دیکھے بغیر جس لڑکی کا نام نکالتے وہی تہوار کے ختم ہونے تک ان کی ساتھی بن جاتی۔جب روم میں عیسائیت کو فروغ ملا تو اس تہوار کو عیسائیت کا جامہ پہنانے کی اس طرح کوشش کی کہ لڑکیوں کے ناموں کے بجائے Saintsکے نام ڈال دئیے گئے۔اب جس Saint کا نام نکلتا مرد حضرات کو اس کی تقلید سارا سال کرنی پڑتی۔ لیکن یہ کوشش ناکام رہی اور دوبارہ لڑکیوں کے ناموں کا قرعہ ڈالا جانے لگا۔کئی لوگ اس تہوار کو Cupid سے متعلق سمجھتے ہیں ، جو رومیوں کا محبت کا دیوتا تھا، جس کا یوم ویلنٹائن میں اہم کردار ہے۔ یہ لوگوں کے دلوں میں تیر مار کر ان کو عشق میں مبتلا کرتا تھا۔ کہا جاتا ہے اس کی ماں محبت کی دیوی Venus ہے، جس کا پسندیدہ پھول سرخ گلاب تھا ایک اور روایت کے مطابق اس کا تعلق Valentine Saint سے ہے، جس کو شاہClaudius نے 14 /فروری کو اس جرم میں قتل کروادیا کہ وہ اس کے فوجیوں کی خفیہ طور پر شادیاں کرواتا، جن کو شادیوں کی اجازت نہ تھی۔ دوران قید، قید خانے کے داروغہ کی بیٹی سے عشق ہو گیا اور انہوں نے اس کو خط لکھا جس کے آخر میں دستخط کیے ”تمہارا Valentine “ لکھا یہ طریقہ بعد میں لوگوں میں رواج پا گیا۔496 میں پائے روم Gelusiusنے سرکاری طور پر 14 /فروری کے مشرکانہ تہوار کو یوم Valentine Saint میں تبدیل کر دیا اور اسطرح پوری دنیا میں 14 فروری کو یوم عشاق کے طور پر یہ دن منایا جانے لگا۔عام طور یہ ڈے صرف غیر مسلموں میں منایا جاتا تھا لیکن دھیرے دھیرے کرکے اس نے مسلم معاشروں کو بھی اپنے زد میں لے لیا لیکن اس ڈے کو لیکر لوگوں کے خیالات بٹی ہوٸی ہے کچھ لوگوں کا کہا ہے کہ اسلام میں غیر مردوں اور غیر عورتوں کا ایک دوسروں سے ملنا اور اظہارمحبت کرنا منع ہے اس لے اس دن کی مخالفت کی جاے نئی نسل بے حیائی کے اس دن کو محبت کاعالمی تہوار مانتے ہیں۔ آج کے اس دور میں جہاں حیا اور پردے کو جاہلیت اور کُند ذہنیت کہا جاتا ہے، یہاں ہر دن ویلنٹائن ڈے ہو گیا ہے۔ روز یہاں بنتِ حوا اپنی عزت داغدار کر رہی ہے، روز یہاں ابنِ آدم اپنی ہوس پوری کرنے کے لے ناجائز حربے استعمال کرتا پھرتا ہے تو پھر ویلنٹائن ڈے کو کیوں مخصوص کیاجاے تاکہ بے حیائی کو اور عام کیا جاے۔ اس دن کو محبت کے اظہار کا دن کہا جاتا ہے، تحائف بانٹے جاتے ہیں، خواتین و حضرات خصوصی ملاقات کے لئے جاتے ہیں۔ رومی تہذیب کے عشق کے نشان ”سُرخ پھول” ایک دوسرے کو پیش کئے جاتےیے عشق و محبت کی شاندار محفلیں سجائی جاتی ہیں، بدکاری کا ارتکاب ہوتا ہے، سرِعام بے حیائی کی ساری حدیں پار کر دی جاتی ہیں۔

وہیں پر دوسرے طبقہ کا ماننا ہے کہ ویلنٹائن ڈے خوشیاں اور محبتیں بانٹنے کا دن ہےاس روز اگر عاشق اپنے محبوب کو محبت کا پھول پیش کرے یا چند محبت آمیز کلمات کہہ لے تو اس میں آخر حرج کیا ہے؟ یہ محبت کے اظہار کا دن ہے، اس پر پابندی کیوں لگائی جائے؟انسانی زندگیوں میں نفرتیں اس قدر پھیل چکی ہیں کہ محبت دم توڑتے ہوۓ دیکھاٸی دے رہی ہے ، اگر ایک دن محبت کے نام کر دیا گیا ہے تو اس میں کیا برائی ہے؟معاشرے میں اچھی اور براٸی کی جو فلسفہ موجود ہے وہ تو قیامت تک جاری رہے گی ہر دور میں زمانہ بدلتا رہتا ہے اور یہ سلسلہ اٸندہ بھی جاری رہے گا لیکن جو نوجوان محبت کی دم بھرتے ہوے اپنے محبوب کے لے جینے اور مرنے کی قسمیں کھاتے ہیں لیکن جب محبت کو حقیقی رنگ دینے کا وقت اتا ہے تو وہ اپنے محبو ب سے نکاح کرنے سے کتراتے ہے اور بہانیں تلاش کرلیتے ہیں ان دنوں جو جوڑی ایک دوسرے کا دم بھرتے ہے جان تک دینے پر آمادہ ہے تو انکے لے ویلنٹاٸن حقیقی میں ایک غنیمت بھرا دن ہے اس دن نوجوان کو چاہیے کہ جہیز لے بغیر اپنے محبوب سے مسجد میں نکاح کرلے تو یہ سرخ گلاب پیش کرنے سے بہتر ہوگا اورحقیقت میں ویلنٹاٸن ڈے ویلنٹاٸن ہو جاے گا۔ *

محمد خورشید عالم ،مغربی بنگال رابطہ نمبر 9126267486*