*شیخ تار بابو حبیبی اب نہیں رہے*
———————————————————–
اڈیشہ دھام نگر شریف قریشی محلہ کے رہنے والے سماجی کار کن جناب شیخ تار بابو حبیبی صاحب کا 18اکٹوبر کو عرس حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ کے موقع پر دل کا دورہ بڑھنے کی وجہ سے موصوف کو دھام نگر سرکاری ہسپتال لیا گیا حالات کچھ اس طرح تھے کے ڈاکٹروں نے معائنہ کر نے کے بعد آپ کو بھونیشور ہسپتال ریفر کردیا۔ بھونیشور کیئر ہسپتال میں ڈاکٹروں نے اپنی لاکھ کوششوں کے با وجود آپ کو بچا نہ سکے۔ 19اکٹوبر بروز پیر کے دن ایک بجکر بیس منٹ میں ہمیشہ کے لیے آپ داغ رفاقت دے گئے *انا للہ وانا الیہ راجعون* آپ کے انتقال کی خبر جنگل کے آگ کی طرح دھام نگر میں پھیل گئی۔آپ کے ہزاروں چاہنے والے آپ کے مکان حبیب نگر میں جمع ہوگئے۔ جیسے ہی آپ کے لاش کی گاڑی آپ کے مکان میں لگی ہر چھوٹے،بڑے اور عام و خاص کے آنکھوں میں آنسو تھے۔آپ اپنے خاندان کے ایک نمایاں شخص تھے اور اپنے پیر و مرشد کے سچے عاشق تھے۔ آپ کا جانا خاندان کا ایک عظیم خسارہ ہے جو برسوں تک پر ہو نہیں سکتا۔ آپ کا ہندو اور مسلم دونوں میں اثر و رسوخ تھا۔
اپ کو سلسلہ حبیبیہ سے نسبت حاصل تھی۔حضور حبیب ملت علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت ہو کر حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے اور حضرت کے خاص مریدوں میں شامل ہوکر رہے۔
آپ کی نماز جنازہ 20 اکتوبر بروز منگل بعد نماز ظہر خانقاہ حبیبیہ میں اپنے پیر و مرشد کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا الحاج سید محمد فاروق رضا حبیبی نے پڑھائی پھر آپ کو اپنی وصیت کے مطابق آپ کے آبائی اور قدیم قبر آستان قریشی محلہ میں ہزاروں چاہنے والوں کے سامنے سپرد خاک کیا گیا۔آپ کی تلقین پیر و مرشد کے صاحبزادے حضرت مولانا سید محمد حبیب رضا حبیبی نے فرمائی۔
اپکے غم جدائی میں برابر کے شریک الحاج شیخ عبد الحکیم حبیبی غلام جیلانی حبیبی الحاج منور احمد حبیبی الحاج محمد اسرائیل حبیبی محمد نعیم الدین حبیبی شیخ جعفر علی حبیبی شیخ نواب علی حبیبی،مولانا سراج الدین حبیبی شیخ عبد المتین حبیبی شیخ افسر علی حبیبی شیخ شبیر حبیبی،شیخ مولا علی حبیبی شیخ حیدرعلی حبیبی وغیرہ وغیرہ۔
ہم تمام احباب کرام دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے مرحوم کے صغائر اور کبائر گناہوں کو معاف فرمائے آمین۔اور اہل خاندان کو صبرجمیل عطاء فرمائے آمین یارب العالمین محمد تاج الدین حبیبی دھامنگر شریف










