*تعلیم، نفسیات اور تشکیلِ کردار: ایک لازمی وحدت*
(بچے کی ذہنی دنیا اور استاد کا کردار: ایک مؤثر تدریسی حکمت عملی)
از قلم: سید مستقیم سید منتطم،
صدر مدرس ضلع پریشد اردوپرائمری اسکول، اندرا آواس، بیودہ پنچایت سمیتی، دریاپور، ضلع امراؤتی، مہاراشٹر
تعلیم، جیسا کہ ہم صدیوں سے جانتے ہیں، محض کتابی علم یا اعداد و شمار کی منتقلی کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی شخصیت کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ایک متوازن، ہم آہنگ اور مستقل ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا ایک جاری عمل ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو فرد کو زندگی کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ لیکن کیا یہ جامع مقصد صرف نصاب کی پابندی سے پورا ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ انسانی شخصیت کی تعمیر، جو تعلیم کا حقیقی مقصد ہے، طلبہ کے رویوں، ان کے جذبات اور ان کے داخلی محرکات کی گہری تفہیم یعنی علمِ نفسیات کے بغیر ہمیشہ نامکمل رہتی ہے۔
عظیم ماہرِ تعلیم جان ڈیوی کا یہ قول آج بھی رہنمائی کرتا ہے کہ “تعلیم مستقبل کی تیاری نہیں ہے، بلکہ یہ خود زندگی ہے”۔ اور اس زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے طالب علم کی اندرونی دنیا کو سمجھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ اسے بیرونی دنیا کے علوم سے روشناس کرانا۔ علمِ نفسیات دراصل طلبہ کے طرزِ عمل، ان کے سیکھنے کے عمل اور ان کی شخصیت کے خدوخال کا سائنسی مطالعہ ہے۔ ایک استاد کے لیے یہ ایک ایسا ضروری آلہ ہے جس کے ذریعے وہ کمرۂ جماعت میں موجود ہر فرد کی ذہنی، جذباتی اور سماجی حالت کا باریک بینی سے جائزہ لے سکتا ہے۔ جب تک معلم اس نفسیاتی گہرائی تک نہیں پہنچتا، اس کا پڑھانے اور سکھانے کا عمل سطحی رہے گا اور وہ بچوں کو محض معلومات کا ذخیرہ بنا دے گا، انہیں ایک فعال اور باشعور انسان نہیں۔
عالمی تعلیمی ادارے اور تحقیق اس بات پر متفق ہیں کہ تعلیم کو مؤثر اور دور رس بنانے کے لیے نفسیاتی اصولوں کو مرکزی حیثیت دینا وقت کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) کے پائیدار ترقی کے اہداف میں معیاری تعلیم کا ہدف صرف خواندگی کو نہیں بلکہ ایسے علم اور مہارتوں کے حصول کو بھی اہمیت دیتا ہے جو فرد کو ایک ذمہ دار عالمی شہری بناتے ہیں۔ یہ مقصد فرد کے جذباتی توازن اور سماجی مہارتوں کی پرورش کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ فن لینڈ، جسے عالمی سطح پر بہترین تعلیمی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے، نے اپنے اساتذہ کی تربیت میں بچوں کی نفسیات اور ان کے انفرادی اختلافات کو سمجھنے پر خصوصی توجہ دی ہے، جس کا براہِ راست نتیجہ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں اور مضبوط ذہنی صحت کی شکل میں سامنے آیا ہے۔
کمرۂ جماعت میں استاد اور شاگرد کا باہمی ربط اور اعتماد، تدریس کی کامیابی کی کلید ہے۔ استاد کا یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کے سامنے بیٹھے طلبہ مختلف پس منظر سے آتے ہیں۔ وہ مختلف معاشی حالات، متنوع خاندانی تربیت، مختلف سطح کی ذہانت اور استعداد رکھتے ہیں۔ امریکی نفسیاتی ایسوسی ایشن کی تحقیقات تسلسل سے اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ تعلیم میں شمولیت اور مساوات کو یقینی بنانے کے لیے، ہر طالب علم کے انفرادی فرق کا احترام اور ان کی تفہیم بنیادی شرط ہے۔ جب کوئی استاد ہر بچے کی انفرادیت کو پہچان کر اس کا احترام کرتا ہے، تب ہی کمرۂ جماعت میں ایک ایسا محفوظ اور حوصلہ افزا ماحول قائم ہوتا ہے جہاں ہر طالب علم بغیر کسی خوف کے اپنی بات کہہ سکتا ہے اور سیکھ سکتا ہے۔
ایک ماہر معلم ہمیشہ طالب علم کے رجحانات، دلچسپیوں اور اس کے سیکھنے کے مخصوص انداز کو باریک بینی سے دیکھتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات، جیسے کارل روجرز، نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ انسان اسی وقت مکمل طور پر فعال فرد بنتا ہے جب اسے اپنی فطری صلاحیتوں کے اظہار کی مکمل آزادی ہو۔ اگر طالب علم کو معلوماتی مواد اس کے مزاج اور دلچسپی کے خلاف پڑھایا جائے گا، تو یہ علم اس کے لیے بوجھ بن جائے گا۔ ایک کامیاب معلم مشکل موضوعات کو بھی ہر بچے کی ذہنی سطح اور استعداد کے مطابق آسان اور دلچسپ بنا کر پیش کرتا ہے۔ یہ ‘فرق کے ساتھ تدریس’ کا اصول ہے، جو ہارورڈ گارڈنر کے کثیر جہتی ذہانت کے نظریے پر مبنی ہے، جو کہتا ہے کہ ذہانت صرف ایک قسم کی نہیں ہوتی، بلکہ یہ مختلف شکلوں میں موجود ہوتی ہے، جیسے کہ موسیقی کی ذہانت، ریاضیاتی ذہانت، اور باہمی تعلقات کی ذہانت۔
لیکن جہاں تعلیم میں نفسیات کی ضرورت ایک مسلمہ حقیقت ہے، وہیں آج کے تعلیمی نظام کا ایک بڑا المیہ نفسیاتی پہلوؤں کو نظر انداز کرنا ہے۔ بدقسمتی سے، بہت سے تعلیمی ادارے اور اساتذہ روایتی طریقے پر اس قدر بضد ہیں کہ وہ بچوں کی صرف کارکردگی پر توجہ دیتے ہیں، ان کی ذہنی صحت پر نہیں۔ امتحانات اور نمبروں پر غیر ضروری دباؤ ہمارے طلبہ میں ذہنی تناؤ، اضطراب اور بعض اوقات افسردگی جیسے نفسیاتی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیمی دباؤ سے متاثر ہے۔ اگر اساتذہ کو بچوں کی نفسیات، خاص طور پر ان کے تناؤ سے نمٹنے کے طریقوں کی تعلیم دی جائے، تو وہ کمرۂ جماعت میں ایک ایسا ماحول بنا سکتے ہیں جو نہ صرف علمی بلکہ ذہنی طور پر بھی صحت بخش ہو۔
یہاں اساتذہ کی اپنی ذہنی صحت کا پہلو بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اساتذہ جو مسلسل تدریس کے دباؤ اور ناقص انتظامی ڈھانچے کی وجہ سے پیشہ ورانہ تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں، وہ مؤثر طریقے سے نفسیاتی اصولوں کا اطلاق نہیں کر سکتے۔ ایک ذہنی طور پر مطمئن اور صحت مند استاد ہی محبت، صبر اور سمجھداری کے ساتھ طلبہ کی نفسیات کو سمجھ سکتا ہے۔ لہٰذا، تعلیمی پالیسی سازوں کو اساتذہ کی تربیت میں ان کی اپنی ذہنی تندرستی اور دباؤ کو کم کرنے کی تکنیکوں کو شامل کرنا چاہیے۔
مزید برآں، موجودہ دور، جو رقمی (Digital) آلات کا دور ہے، اس نے طالب علم کی نفسیات کو یکسر بدل دیا ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ اور آن لائن تعلیم نے بچوں کی توجہ کا دورانیہ کم کر دیا ہے اور انہیں نئے سماجی اور جذباتی چیلنجوں سے دوچار کیا ہے۔ ایک استاد کو نفسیاتی فہم کے ذریعے یہ جاننا ہو گا کہ وہ رقمی آلات کو محض تفریح کی بجائے ایک بامقصد اور تعمیری طریقے سے کیسے استعمال کر سکتا ہے، اور بچوں کو ٹیکنالوجی کے منفی نفسیاتی اثرات سے کیسے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ تعلیم اور نفسیات ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ جس طرح مضبوط بنیاد کے بغیر عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی، اسی طرح نفسیاتی فہم کے بغیر تعلیم بھی صرف معلومات کی منتقلی تک محدود رہتی ہے، جو شخصیت کو نامکمل چھوڑ دیتی ہے۔ ہمیں حکومتی سطح پر اور اداروں کے اندر پالیسی سازی کے ذریعے اساتذہ کی تربیت میں تعلیمی نفسیات، جذباتی اور سماجی تعلیم اور مشاورت کو لازمی قرار دینا چاہیے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے تعلیم نہ صرف علم فراہم کرے گی بلکہ کردار سازی، اخلاقی شعور اور مضبوط ذہنی صحت کے ساتھ ایک مکمل اور فعال انسانی وجود کی تشکیل کرے گی۔








