*ریاست کے 7 اضلاع سمیت پچھم بردوان میں بھی منعقد ہوا کڈس کاامتحان آسنسول رحمانیہ ہائی اسکول میں قریب 800 طلبہ ہوئے شریک، کڈس کی کاوشوں کی ستائش*
خصوصی رپورٹ :
*امتیاز احمد انصاری* اللہ ہر دور میں اور ہر علاقے میں کچھ ایسے جیالوں کو پیدا فرماتے ہیں جن کے دلوں میں ملت کادرد حد سے سوا ہوتا ہے۔خضرپور،کولکاتہ سے تعلق رکھنے والے حکومت مغربی بنگال کے سابق ایڈیشنل لیبر کمشنر محمد رضوان بھی ایک ایسے ہی جیالے ہیں جن کے دل میں بھی اللہ نے وہی درد ڈال دیا ہے نتیجے کے طور پر موصوف نے اپنے ہم مزاج لوگوں کی ایک ٹیم بناکر کوی تیرتھ انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اینڈ اسٹڈیز (کڈس) کی بنیاد ڈالی۔ اس تنظیم کے بینر تلےتقریبا پچھلے دو دہائیوں سے اردو،ہندی اور بنگلہ میڈیم کے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچے وبچیوں کوبدلتے ہوئے تعلیمی نظام سے ہم آہنگ کرانے کے مقصد سے درجہ نہم،دہم، یازدہم اور دوازدہم (آرٹس،کامرس،سائنس) کے طلباء وطالبات کے نصاب کے عین مطابق کثیر سوال کا جواب او ایم آرشیٹ پرلینےکا اہتمام کیا جاتا ہے۔اب اس میں مزید ترقی لاتے ہوئے آن لائن امتحان کو بھی متعارف کرانے کے مقصد سے 19جولائی اتوار کے دن اسٹوڈنٹس ایوالیویشن ٹسٹ SET2026 کے پہلے فیز کاامتحان ریاست بھر کے سات اضلاع (کولکاتہ،نارتھ وساوتھ چوبیس پرگنہ،ہوڑہ سمیت پچھم بردوان اور پرولیا) کے21 سنٹروں میں ایک ساتھ منعقد کیا گیا۔ پچھم بردوان ضلع کے چیف کوآرڈینیٹر امتیاز احمد انصاری نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پچھم بردوان ضلع کے آسنسول کے رحمانیہ ہائی اسکول،رانی گنج کے انجمن اردو گرلس ہائی اسکول،انڈال کے رحمت نگر اقبال اکیڈمی اور جے کے نگر میں بھی دو گھنٹے کے آف لائن کے ساتھ آدھے گھنٹے کا آن لائن امتحان کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔کڈس کے بانی وجنرل سکریٹری محمد رضوان کی سوچ اور SETکے چیف کنٹرولر اقبال انصاری کی عملی کوششوں کے نتیجے میں ہندوستان کی اب تک کی تاریخ کا سب سے ایڈوانس اور انفرادی ایڈمٹ کارڈ تیار کیاجس میں موجود کیو آر کوڈ کوموبائل سے اسکین کرنے پر ہر طالب علم کی انفرادی ڈیٹیل کھلنے کے ساتھ معینہ وقت پر سوالات بھی کھل جاتے ہیں۔ پوری دلچسپی اور جوش و خروش کے ساتھ طلبہ اس امتحان میں شامل ہوئے۔موصوف نے یہ بھی بتایا کہ رحمانیہ ہائی اسکول سنٹر میں کل نو اردو اور بنگلہ میڈیم کے 800 سے زائد طلبہ شامل ہوئے اور دونوں طرح کاامتحان دیا۔ اس سنٹر میں آسنسول درگاپور پولس کمشنریٹ کے اے سی پی محمد ہارون، وارڈ 25 کے سابق کونسلر ایس ایم مصطفیٰ،کالم نویس ونثرنگار الحاج خورشید غنی، شاعر و افسانہ نگار سلیم سرفراز،سماجی وادبی شخصیت خورشید ادیب اور شکشا بندھو مختار عالم جیسی شخصیات نے دورہ کیا اور کڈس کے روح رواں محمد رضوان کے ساتھ کڈس کی پوری ٹیم کی کوششوں اور قربانیوں کی ستائش کی۔واضح ہوکہ اس امتحان مرکزپرمنعقدہ امتحان کڈس کے مرکزی ٹیم میں شامل سید انجم رومان، زینت جہاں اور اشرف علی کی نگرانی میں انجام پایا۔دونوں مرحلے کے اس امتحان کو کامیاب بنانے میں چیف کوآرڈینیٹر امتیاز احمد انصاری،جوائنٹ کوآرڈینیٹرس ڈاکٹر محمد انوار الحق و ماسٹر محمد سلیمان کے علاؤہ مرد وخواتین پرمشتمل تمام ممتحن کا زبردست کردار رہا۔ایک خوشگوار تبدیلی یہ بھی نظر آئی کہ کڈس کے اس امتحان میں اپنے بچے وبچیوں کو شامل کرانے کے لیے مرد وخواتین گارجینوں کی ایک بڑی تعداد امتحان گاہ کے باہر انتظار کرتی نظر آتی۔ مین گیٹ پر پولس کے جوان تعینات رہے جو طلبہ کے ایڈمٹ کارڈ جانچ کر امتحان گاہ کے اندر داخل کرا رہے تھے۔










